نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جولائی, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ذوق کا قصیدہ

  ذوق کا قصیدہ Zouq ka qasida  ساون میں دیا پھر مہہ شوال ، دکھائی  برسات میں عید آئی ، قدح کش خوار کی بن آئی کرتا ہے ہلال ابروئے ، پُر خم سے اشارہ  ساقی کو کہ گھر بادے سے ، کشتی طلائی ہے عکس فگن جام بلوریں سے ، مئے سرخ  کس رنگ سے ہوں ، ہاتھ نہ مے کش کے حنائی  کوندے ہے جو بجلی تو یہ سوجھے ہے نشے  ساقی نے ہے ، آتش سے ، مئے تیز اڑائی  یہ جوش ہے باراں کا کہ افلاک کے نیچے  ہووے نہ ممیز کره ناری و مائی  پہنچا ، کمک لشکر باراں سے ہے۔ل ، یہ روز  ہر نالے کی ہے دشت میں دریا ، پہ چڑھائی ہو قلزم عماں پہ لب جو متبسم تالاب سمندر کو کرے چشم نمائی  ہے کثرت باراں سے ہوئی عام یہ سردی  کافور کی تاثیر گئی جو زمیں پائی  سردیِ حنا پہنچے ہے ، عاشق کے جگر تک  معشوق کا گر ہاتھ میں ، ہے دست حنائی  عالم یہ ہوا ہوا کا ہے کہ تاثیر ہوا سے  گردوں پہ ہے ، خورشید کا بھی ، دیدہ ہوائی کیا صرف ہوا ہے ، طرب و عیش سے ، عالم  ہے مدرسے میں بھی ، سبق صرف ہوائی خالی نہیں مئے سے روشِ دانۂ انگور  زاہد کا بھی ہر دانۂ تسبیح ریائی کرتی ہے صبا آکے کبھی مشک فشانی کرتی ہے نسیم آکے کبھی ، لخلخہ سائی  تھا سوزئی خار کا صحرا میں جہاں فرش

قصیدۂ تضحیکِ روزگار

  قصیدۂ تضحیکِ روز گار   Qasida tazhik e rozgaar ہے چرخ جب سے ابلق ایام پر، سوار  رکھتا نہیں ہے دست عناں کا بہ یک، قرار  جن کے طویلے بیچ کوئی دن کی بات ہے  ہرگز عراقی و عربی کا نہ تھا شمار  اب دیکھتا ہوں میں کہ زمانے کے ہاتھ سے  موچی سے کفش پا کو گٹھاتے ہیں وہ ادھار  تنہا ، ولے نہ دہر سے عالم خراب ہے  خست سے اکثروں نے اٹھایا ہے ننگ و عار  ہیں گے چنانچہ ایک ہمارے بھی مہرباں  پاوے سزا جو ان کا کوئی نام لے نہار  نوکر ہیں سو روپے کے دہانت کی راہ سے  گھوڑا رکھیں ہیں ایک ، سو اتنا خراب و خوار  نے دانہ و نہ کاہ نہ تیمار نے سئیس  رکھتا ہو جیسے اسپِ گلی طفل شیر خوار  نا طاقتی کا اس کے کہاں تک کروں بیاں  فاقوں کا اس کے اب میں کہاں تک کروں شمار  مانند نقش ، فعل زمیں سے بجز فنا  ہرگز نہ اٹھ سکے وہ اگر بیٹھے اک بار  اس مرتبے کو بھوک سے پہنچا ہے اس کا حال کرتا ہے راکب اس کا جو بازار میں گزار  قصاب پوچھتا ہے مجھے کب کروگے یاد  امیدوار ہم بھی ہیں کہتے ہیں یوں ، چمار  جس دن سے اس قصائی کے کھونٹے بندھا ہے وہ گزرے ہے اس نمط اسے ہر لیل و ہر نہار  ہر رات اختروں کے تئیں دانہ بوجھ کر  دیکھے ہے آسمان کی طرف ہ

مرزا رفیع سودا کی قصیدہ نگاری

مرزا رفیع سودا کی قصیدہ نگاری Mirza Rafi Sauda qaseeda in Urdu مرزا محمد رفیع سودا سے قبل دکن اور شمالی ہند میں ایسے اردو شاعروں کی تعداد خاصی ہے جنھوں نے قصیدے کہے ۔ ان تمام شاعروں اور خود سودا کے معاصرین کے قصیدوں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی اردو زبان قصیدہ نگاری کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔ سودا پہلے اردو شاعر ہیں جنھوں نے قصیدہ نگاری کے فن میں با قاعدگی پیدا کی اور اپنی غیر معمولی صلاحیتوں سے فن قصیدہ نگاری کو عروج پر پہنچایا ۔ اس لیے بعض معاصر تذکرہ نگاروں نے انھیں فن قصیدہ نگاری کا " نقّاش اوّل " کہا ہے ۔ مرزا رفیع سودا کے حالات زندگی       سودا کے قصیدے سے اردو قصیدہ نگاری کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوتا ہے ۔ سودا کے قصیدوں میں مضامین کا تنوع ، رنگا رنگی ، قدرت کلام اور پر شور انداز بیان ہے ۔ قصیدے کا انداز بیان دوسری اصناف سخن سے بہت مختلف ہوتا ہے ۔ قصیدے میں شاعر طرح طرح کے موضوعات پر اظہار خیال کرتا ہے ۔ اس میں مضمون آفرینی ، جوش بیان ، کلام کی پختگی ، شکوہ الفاظ ، روانی و سلاسلات ، جدتِ بیان ، قادر الکلامی اور مشکل زمینوں میں شعر کہنے کی قدرت شامل ہوتی ہے ۔

مرزا رفیع سودا کے حالات زندگی

  مرزا رفیع سودا کے حالات زندگی مرزا رفیع سودا میر کے ہم عصر اور اردو کے مایۂ ناز شاعر تھے۔ انہوں نے مختلف اصناف میں شاعری کی۔ غزل گوئی میں بھی انہیں کمال حاصل تھا۔ لیکن انہیں شہرت قصیدہ نگاری کی حیثیت سے حاصل ہوئی۔ اس میں شک نہیں کے وہ اردو کے سب سے بڑے قصیدہ نگار شاعر تھے۔ انہیں فارسی کے بڑے قصیدہ نگاروں عرفی ، انوری ، خاقانی وغیرہ کے مقابل پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس اکائی میں مرزا سودا کے حالاتِ زندگی اور انکی قصیدہ نگاری پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ مرزا رفیع سودا کا تعارف Mirza rafi souda ka taruf       بعض تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ مرزا محمد رفیع سودا کے آبا و اجداد کابل سے ہندوستان آئے تھے۔ ا س بر عکس سودا کے ایک قریبی دوست بھگوان داس ہندی نے اپنے تذکرے " سفینۂ ہندی " میں اطلاع دی ہے کہ سودا کے بزرگ بخارا سے ہندوستان آئے تھے۔ چونکہ پیشتر تذکرہ نگاروں نے یہی لکھا ہے ، اس لیے یہی درست معلوم ہوتا ہے کہ سودا کے بزرگ بخارا سے آئے تھے۔ مرزا رفیع سودا کی قصیدہ نگاری        سودا کے کے والد کا نام مرزا شفیع بتایا جاتا ہے ۔ چوں کہ سودا کے بزرگ بخارا سے ہندوستان آکر دہلی میں آباد ہ

نصرتی کا قصیدۂ چرخیہ مکمل اور چند اشعار کی تشریح

  قصیدۂ چرخیہ تخت تے جب دن پتی سیج میں کیتا گون نس کا سپہ دار تب گرم کریں انجمن  صبح کا فراش جمک سوں روشن کرے ریگ سوں تاریاں کی نت مانج گگن کا لگن دن کے سلیمان نے مہر کے کھونے میں مھر مسندِ سیمیں لیا رین کرا اہر من گونڈ کی یک باگ کوں مد میں جو بکریاں رکھے شعر گوئی کا دوجا جھٹ کریں سب کو بھجن لاج سوں پردے تب نس کیا عروسیاں چھپنیاں صبح کا عشاق جب جھانکتے نکلے ، اگن صبح کا جوگی ہوا خلق پہ زریں لباس مار کر پارہ کریں جب وو قراری گجن دن کے سپہہ دار نے روم کی شمشیر لے مار حبش کا چشم صاف کیا ، انجمن پھر کے حبش نس پتی رشک سوں برہم ہوا تیغ لے زنگبار کا توڑ ، نے رومی کا تن حکم کے وئیں گھن کوں دھر کوہ کے سمار پر مار سٹے پل میں پھر شعلہ اڑا سب گگن  زرد و کنگ کا نجور روم کا دیوے حکیم  شام کی سردی سوں جب چرخ کوں ہوتا ہے سن جب او نکالے کی ہویں دود بھرا جل چھلے چھان کی چندنی کی راک تس کوں پکاریں رین راک سوں چندنی کے جب نین او کملا چھلے  چھانٹنے شبنم کا نیر آئے صبح کا پون سبز ورق کا رنگے حاشیہ نقاش صبح متن اوپر سر بسر جانیے حل کر کنچن دن کے زر افشاں پہ حل سیم سٹے نس مگر صبح کوں صانع کرے کاتب قدرت لکھن گ

نصرتی کے دیگر قصائد اور ان کا اسلوب

نصرتی کے دیگر قصائد   نصرتی کے دوسرے قصائد میں فتح بادشاہ غازی 55 اشعار پر محیط ہے ۔ ایک اور قصیدہ " بادشاہ غازی پور بیجاپور کو آنے کا " کے عنوان سے ہے۔ ایک اور قصیدہ فصل زمستاں کے موضوع پر لکھا گیا ہے۔ ٹھنڈ کی تعریف میں محمد قلی نے بھی نظم لکھی ہے اور شاہی نے بھی لیکن نصرتی کا یہ قصیدہ اپنے کینوس کے اعتبار سے ٹھنڈ کالے کی بھر پور تصویر کشی کرتا ہے۔ محمود الٰہی لکھتے ہیں کہ نصرتی کا یہ قصیدہ سعدی کے بہاریہ قصیدوں کے مقابل رکھا جا سکتا ہے۔ علی نامہ میں ایک قصیدہ " بادشاہ بیجاپور کوں آ کر جشن کیے سو " ہے۔ یہ قصیدہ بھی خاصا طویل ہے۔ اس قصیدے میں درباری شان و شوکت شہر کی آئینہ بندی ، محلات و مکانات و دکانات کی آرائش ، نقش و نگار کی بھر پور عکاسی کی ہے۔ اس قصیدے میں تہذیبی عناصر کے واضح تصویریں ملتی ہیں۔        نصرتی اردو کا پہلا شاعر ہے جس نے ہجویہ قصائد لکھے۔ اپنے مدحیہ قصائد میں بھی اس بادشاہ کے مخالفین اور حریفوں کی ہجو کی ہے جس میں مخالف کے لئے رکیک اور متبذل الفاظ استمعال کرنے سے بھی نہیں چوکتا۔  نصرتی کا اسلوب Nusrati ka asloob        نصرتی کے قصیدے مربوط اور مسلس

نصرتی کے قصائد

  نصرتی کے قصائد   قصیدے قطب شاہی دور میں بھی لکھے گئے لیکن بیجاپور کے شاعروں نے اس فن کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ عادل شاہی عہد میں مقیمی ، شوقی ، صنعتی ، ملک خوشنود ، رستمی ، علی عادل شاہ ثانی شاہی اور نصرتی نے قصائد لکھ کر اس صنف کو فن کا درجۂ عطا کیا مگر ان شاعروں میں نصرتی کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا ۔ نصرتی نے جملہ بارہ (12) قصائد لکھے. علی نامہ میں اس کے قصائد اپنے نقطۂ عروج کو پہنچ گئے ہیں۔ یہ وہ قصائد ہے جو فارسی زبان کے بہترین قصائد کے معیار کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ علی نامہ میں سات قصائد شامل ہیں ۔ ان کے علاوہ پانچ اور قصائد ملتے ہیں جن میں دو ہجویہ قصیدے ہیں۔  نصرتی کے مثنویاں، رباعیاں       نصرتی کے زمانے میں سیاسی انتشار و بد نظمی عام ہوگئی تھی۔ ایک طرف سے مغلیہ سلطنت کا استبداد اور دوسری طرف شیواجی کے حملے دکنی سلطنتوں کو کمزور کر رہے تھے۔ نصرتی نے اپنے قصیدوں میں اس زمانے کی تاریخ قلم بند کردی ۔ تاریخ ، تہذیب اور شعر کا اتنا اچھا اور خوبصورت امتزاج اردو قصیدوں میں کم ہی ملتا ہے۔ قصیدہ پنالہ گڑ Qasida panal garh        شیواجی کے مقابل صلابت خاں کی غداری نے بیجاپور کو

نصرتی کی مثنویاں ، غزل ، رباعیاں اور مخمس

  نصرتی کو ہر صنف سخن میں یکساں قدرت حاصل تھی۔ اس نے مثنویاں بھی لکھیں غزل، قصیدے اور رباعیاں بھی۔ اس کی تین مثنویاں جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے گلشن عشق ، علی نامہ ، اور تاریخ اسکندری ہیں ۔ 1 - گلشن عشق Gulshan e ishq       گلشن عشق نصرتی کی پہلی مثنوی ہے ۔ یہ 1657ء میں لکھی گئی ۔ اس سے پہلے یہ قصہ شیخ منجھن نامی ایک شخص نے ہندی میں کنور و مد مالت کے نام سے لکھا تھا۔ اس قصے کو گلشن عشق سے تین سال قبل 1654 ء میں عاقل خاں رازی عالمگیر نے مہر و ماہ کے نام سے قلم بند کیا ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قصہ اس زمانے میں بہت پسند کیا گیا اس لیے غالبا نصرتی نے اس قصے کو نظم کیا مگر اس میں چندر سین اور چنپاوتی کے قصے کا اضافہ کر کے دلچسپی پیدا کردی ۔ کہانی بڑی دلچسپ ہے جس میں قدیم داستانوں کے تمام لوازم سے استفادہ کیا گیا ہے ۔ مناظر قدرت کی تصویر کشی اور جذبات کی عکاسی بڑی مہارت سے کی گئی ہے۔ نصرتی کے حالات زندگی 2 - علی نامہ Ali nama        نصرتی نے مثنوی علی عادل شاہ ثانی کے عہد 1665 میں لکھی علی نامہ میں اس کے عہد کے ابتدائی دس سال کی تاریخ نظم کی گئی ۔ اسی مناسبت سے اس کا نامہ’علی نامہ‘رکھا۔اس می

قربانی کا حکم قرآن مجید میں

  قسط۔۔۔۔۔۔4   قربانی کا حکم قرآنِ مجید میں Qurbaani ka hukm quraan majid me          مخصوص جانور کو مخصوص دن میں  بہ نیتِ تقرّب یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ذبح کرنا، قربانی ہے۔ گویا قربانی اللہ عزوجل سے قریب ہونے کا ایک ذریعہ ہے کہ جو لوگ صدقِ دل سے، خلوص کے ساتھ قربانی کرتے ہیں، وہ لوگ اللہ عزوجل سے قریب ہوجاتے ہیں۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سُنّت ہے۔ جو اِس اُمّت کے لیے باقی رکھی گئی اور نبی کریم ﷺ کو قربانی کرنے کا حکم دیا گیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہوا: فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْـحَرْ ط (سورۂ کوثر، پ ۳۰، آیت ۲) ترجمہ: تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ (کنزالایمان)                  قربانی اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی محبوب و پسندیدہ ہے کہ تمام انبیا و مرسلین کی اُمتوں میں بھی قربانی کا حکم جاری تھا۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہےـ: وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ م بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ۔ (سورۂ حج، پ ۱۷، آیت ۳۴) ترجمہ: اور ہر اُمّت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نا

ملا نصرتی کے حالات زندگی

  ملا نصرتی کے حالات زندگی دکنی شاعروں اور ادیبوں کے حالات زندگی عموماً معلوم نہیں ہوتے۔ نصرتی نے اپنی اولین مثنوی " گلشن عشق " میں اپنی زندگی کے چند حالات پر روشنی ڈالی ہے۔ دکنی کے اولین محقق عبد الجبار خاں نے نصرتی کا نام محمد نصرت لکھا ہے۔ محمد بیجاپوری نے اپنی کتاب " روضۃ الاولیاء بیجاپور " میں نصرتی کے بھائی شیخ منصور کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شیخ نصرتی ملک الشعراء شیخ منصور کے برادر حقیقی تھے۔ ان دو بھائیوں کے علاوہ ایک اور بھائی شیخ عبد الرحمن بھی تھے جو سپاہی پیشہ تھے۔ محمد ابراہیم کی اس اطلاع کی بنا پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دو بھائیوں کے ناموں میں شیخ شامل ہیں ہے اس لیے نصرتی کا نام بھی شیخ نصرت رہا ہو۔ اسی مناسبت سے اس نے اپنا تخلص نصرتی رکھا ہوگا ۔ یہ تینوں بھائی تین مختلف میدانوں میں کمال رکھتے تھے۔ شیخ منصور علم تصوف اور دعوت دنیوی میں منفرد و یکتا تھے۔ شیخ عبد الرحمن فن سپاہ گری میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے اور نصرتی اقلیم سخن کا بادشاہ تھا۔ مثنوی گلشن عشق کے مرتب سید محمد لکھتے ہیں کہ شیخ منصوری کی ایک خاندانی سندِ معاش میں ان کا نام شیخ منصور

قربانی اور سنت ابراہیمی

  قسط ۔۔۔۔۔۔3 قربانی : سنّت ِ ابراہیمی SUNNAT E IBRAHIMI IN URDU          حضرت آدم علیہ السلام سے مصطفےٰ جانِ رحمت حضور سیّد عالم ﷺ تک اللہ تبارک و تعالیٰ نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام کو اس خاک دانِ گیتی پر مبعوث فرمایا۔ نبیوں کے مختلف درجے ہیں۔ بعض کو بعض پر فضیلت ہے اور سب سے افضل ہمارے آقا و مولیٰ سیّد المرسلین ﷺ ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کے بعد سب سے بڑا مرتبہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا ، پھر حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام ، پھر حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام اور پھر حضرت نوح علیہ السلام کا ، اِن حضرات کو مرسلین اولوالعزم کہتے ہیں۔ اور یہ پانچوں انبیائے کرام علیہ السلام باقی تمام انبیا کرام و مرسلین، انس و مَلک، جنّ و تمام مخلوقاتِ الٰہی سے افضل و برتر ہیں۔ (بہارِ شریعت، حصّہ اوّل، ص ۵۴)           حضرت ابراہیم علیہ السلام جو اللہ تعالیٰ کے نہایت برگزیدہ و اولوالعزم پیغمبر گزرے، بڑھاپے کی عمر میں انھوں نے اللہ تعالیٰ سے بیٹے کی دُعا مانگی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیٹے کی بشارت دی گئی۔ بڑھاپے کے عالم میں یعنی تقریباً ۹۷؍ سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل

ماہ ذی الحجہ عشرۂ اول میں عبادت و یوم عرفہ

  قسط ۔۔۔۔۔2             عشرۂ اوّل میں عبادت                 حضرت سیّدتنا عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے عشرۂ ذی الحجّہ کی کسی رات میں پوری رات عبادت کی، تو گویا اُس نے سال بھر حج و عمرہ کرنے والوں کی سی عبادت کی۔ اور جس نے عشرۂ ذی الحجہ کو روزہ رکھا تو گویا اُس نے پورے سال عبادت کی۔ (غنیہ) حضرت سیّدنا مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عشرۂ ذی الحجہ میں عبادت کی کوشش کرو۔ عشرۂ ذی الحجہ کو اللہ تعالیٰ نے بزرگی و برتری عطا فرمائی ہے۔ اور اس عشرہ کی راتوں کو بھی وہی عزّت و تعظیم دی جو اس کے دنوں کو حاصل ہے۔          یومِ عرفہ     بقر عید کے مہینہ کی نویں تاریخ کو عرفہ کا دن کہتے ہیں۔      حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سُنا کہ اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن اپنے بندوں پر نظر رحمت فرماتا ہے تو جس کے دل میں ذرّہ برابر بھی ایمان ہوتا ہے، بخش دیا جاتا ہے۔ میں نے حضرت ابن عمر سے پوچھا کہ یہ مغفرت تمام لوگوں کے لیے ہے یا اہلِ عرفات

ماہ ذی الحجہ کی فضیلت اور عشرۂ اول

  قسط۔۔۔۔1     ماہ ذی الحجہ کی فضیلت   Zil hajj ki fazilat         اسلامی سال کا بارہواں یعنی آخری مہینہ ذی الحجہ شریف ھے ۔قرآن مقدس میں جن چار مہینوں کو حرمت والا قرار دیا گیا ھے ان میں اس کا بھی شمار ھے۔ یہ مہینہ بہت ہی قابل احترام، خیرو برکت، عظمت و حرمت کا حامل ھے۔ عید الاضحی اور قربانی جیسی عظیم عبادات اس مہینے کی نورانیت و عظمت کا سبب ھے۔             حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تمام مہینوں کا سردار ماہ رمضان ھے اور تمام مہینوں میں حرمت والا مہینہ ذی الحجہ ھے۔     ذی الحجہ کا عشرۂ اول Zil hajj 2021           حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا کے دنوں میں سب سے افضل ذی الحجہ کے دس دن ہے۔صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں عمل کے برابر راہ خدا میں جہاد کرنا بھی نہیں ھے ؟ آپ نے فرمایا نہیں، البتہ اس شخص کی بزرگی کے برابر جس نے اپنا منہ خاک آلود کیا یعنی شہید ہوگئے۔         منقول ھے کہ جو شخص ان دس ایام کی عزت کرتا ھے اللہ تبارک و تعالی یہ دس چیزیں اس کو مرحمت

نصرتی کا عہد اور عادل شاہی دور

  دکن میں قصائد کا آغاز محمد قلی قطب شاہ سے ہوتا ہے ۔ غواصی دبستان گولکنڈہ کا وہ پہلا شاعر ہے جس نے قصیدے کی روایت کو مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھایا۔ تا ہم بہ حیثیت مجموعی گولکنڈ میں کیفیت و کمیت کے لحاظ سے ایسے قصیدے نہیں ملتے جیسے کہ بیجاپور کے دبستان میں ملتے ہیں ۔ عاشق دکنی اس دبستان کا پہلا شاعر ہے جس کے یہاں اپنے پیر طریقت شاہ صبغتہ اللہ حسینی کی مدح میں قصیدہ ملتا ہے۔ بیجاپور کے قصیدہ نگاروں میں علی عادل شاہ ثانی ، شاہی ، نصرتی اور ہاشمی نے اعلی پایہ کے قصیدے لکھے ۔ نصرتی ، علی عادل شاہ ثانی کے دربار کا ملک الشعرا تھا۔ اس نے ہر صنف میں طبع آزمائی کی ۔ نصرتی نے غزلیں بھی کہیں اور رباعیات بھی لیکن نصرتی کا نام اس کی مثنوی اور قصائد کی وجہ سے دکنی ادب میں ہمیشہ زندہ رہے گا ۔ نصرتی کے حالات زندگی  نصرتی کا عہد اور عادل شاہی دور       نصرتی عادل شاہی دور کا نامور شاعر تھا۔ عادل شاہی سلطنت کے تمام بادشاہ علم و ادب کے سر پرست تھے۔ خود بھی شاعری سے دلچسپی رکھتے تھے ، شعر کہتے تھے اور خوب کہتے تھے ۔ ان بادشاہوں کے دربار میں ایران سے آئے ہوئے علماء و فضلا کی بڑی قدر و منزلت تھی ۔ ابراہیم عادل

رامپور اور حیدرآباد میں قصیدہ نگاری

  رامپور اور حیدرآباد میں قصیدہ نگاری درباری سر پرستی نے اردو شاعری کو عموماً نقصان پہنچایا مگر یہ بھی سچ ہے کہ اردو شاعری اہل دربار کی منظور نظر رہی۔ دہلی ، لکھنؤ ، اودھ کے بعد رامپور اور حیدرآباد اردو شاعری کے عظیم مراکز رہے ۔ ان سلطنتوں کے فرمانرواؤں نے اردو شاعری کو پروان چڑھایا ۔ مغل حکمرانوں اور شاہان اودھ کی طرح نوابان رام پور کی سر زمین پر مرزا خاں داغ ، جلال تسنیم ، منیر ، خلیق ، شرف جیسے شعرا کا طوطی بولتا تھا ۔ امیر مینائی اور ان کے شاگرد جلیل حسین جلیل نے بھی شعر و شاعری کا بازار گرم رکھا تھا۔ نواب کلب علی خاں والئِ رامپور کے  وقت داغ را مپور کی فضا پر چھائے ہوئے تھے لیکن داغ کو یہاں کی کل راس نہ آئی ۔ وہ بہت جلد سلطنت آصفیہ سے رجوع ہوئے ۔ حیدرآباد میں اس وقت آصف جاہ سادس نواب میر محبوب علی خاں حکمراں تھے ۔انہوں نے داغ کو اپنا استاد مقرر کیا اور فصیح الملک بہادر کے خطاب سے سرفراز کیا۔ داغ کی ایما پر امیر مینائی بھی اپنے شاگرد جلیل کے ساتھ حیدرآباد پہنچے ، مگر قسمت نے یاوری نہ کی اور اعزاز و افتخار پانے سے پہلے ہی داعیِ اجل کو لبیک کہا جب کہ جلیل یہیں کے ہو کر رہ گئے ۔