نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ذوق کا قصیدہ

  ذوق کا قصیدہ Zouq ka qasida  ساون میں دیا پھر مہہ شوال ، دکھائی  برسات میں عید آئی ، قدح کش خوار کی بن آئی کرتا ہے ہلال ابروئے ، پُر خم سے اشارہ  ساقی کو کہ گھر بادے سے ، کشتی طلائی ہے عکس فگن جام بلوریں سے ، مئے سرخ  کس رنگ سے ہوں ، ہاتھ نہ مے کش کے حنائی  کوندے ہے جو بجلی تو یہ سوجھے ہے نشے  ساقی نے ہے ، آتش سے ، مئے تیز اڑائی  یہ جوش ہے باراں کا کہ افلاک کے نیچے  ہووے نہ ممیز کره ناری و مائی  پہنچا ، کمک لشکر باراں سے ہے۔ل ، یہ روز  ہر نالے کی ہے دشت میں دریا ، پہ چڑھائی ہو قلزم عماں پہ لب جو متبسم تالاب سمندر کو کرے چشم نمائی  ہے کثرت باراں سے ہوئی عام یہ سردی  کافور کی تاثیر گئی جو زمیں پائی  سردیِ حنا پہنچے ہے ، عاشق کے جگر تک  معشوق کا گر ہاتھ میں ، ہے دست حنائی  عالم یہ ہوا ہوا کا ہے کہ تاثیر ہوا سے  گردوں پہ ہے ، خورشید کا بھی ، دیدہ ہوائی کیا صرف ہوا ہے ، طرب و عیش سے ، عالم  ہے مدرسے میں بھی ، سبق صرف ہوائی خالی نہیں مئے سے روشِ دانۂ انگور  زاہد کا بھی ہر دانۂ تسبیح ریائی کرتی ہے صبا آکے کبھی مشک فشانی کرتی ہے نسیم آکے کبھی ، لخلخہ سائی  تھا سوزئی خار کا صحرا میں جہاں فرش

نصرتی کے دیگر قصائد اور ان کا اسلوب

نصرتی کے دیگر قصائد اور ان کا اسلوب


نصرتی کے دیگر قصائد 

نصرتی کے دوسرے قصائد میں فتح بادشاہ غازی 55 اشعار پر محیط ہے ۔ ایک اور قصیدہ " بادشاہ غازی پور بیجاپور کو آنے کا " کے عنوان سے ہے۔ ایک اور قصیدہ فصل زمستاں کے موضوع پر لکھا گیا ہے۔ ٹھنڈ کی تعریف میں محمد قلی نے بھی نظم لکھی ہے اور شاہی نے بھی لیکن نصرتی کا یہ قصیدہ اپنے کینوس کے اعتبار سے ٹھنڈ کالے کی بھر پور تصویر کشی کرتا ہے۔ محمود الٰہی لکھتے ہیں کہ نصرتی کا یہ قصیدہ سعدی کے بہاریہ قصیدوں کے مقابل رکھا جا سکتا ہے۔ علی نامہ میں ایک قصیدہ " بادشاہ بیجاپور کوں آ کر جشن کیے سو " ہے۔ یہ قصیدہ بھی خاصا طویل ہے۔ اس قصیدے میں درباری شان و شوکت شہر کی آئینہ بندی ، محلات و مکانات و دکانات کی آرائش ، نقش و نگار کی بھر پور عکاسی کی ہے۔ اس قصیدے میں تہذیبی عناصر کے واضح تصویریں ملتی ہیں۔ 

      نصرتی اردو کا پہلا شاعر ہے جس نے ہجویہ قصائد لکھے۔ اپنے مدحیہ قصائد میں بھی اس بادشاہ کے مخالفین اور حریفوں کی ہجو کی ہے جس میں مخالف کے لئے رکیک اور متبذل الفاظ استمعال کرنے سے بھی نہیں چوکتا۔ 


نصرتی کا اسلوب

Nusrati ka asloob

       نصرتی کے قصیدے مربوط اور مسلسل ہیں۔ بعض قصیدے خاصے طویل ہیں جیسے فتح ملناڑ کی فتح پر ، اس نے 220 اشعار کا قصیدہ لکھا ہے اس طوالت کے باوجود کمال یہ ہے کہ اس میں تسلسل کہیں ٹوٹنے نہیں پاتا۔

       نصرتی کے قصائد کی زبان پر شکوہ ہے اس کی مثنویاں میں زبان عمدہ سادہ اور سلیس ہے لیکن قصائد میں اس نے بلیغ و پر شکوہ الفاظ استمعال کیے ہیں۔ ہندی الفاظ ، تلمیحات ، صنمیات اور اساطیر کے ساتھ عربی اور فارسی الفاظ کا برجستہ اور بر محل استمعال کیا گیا ہے۔ ایک قصیدے کے صرف تین شعر یہاں پیش کیے جاتے ہیں ۔ جن سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ الفاظ کی نشست سے وہ کس طرح کام لیتا ہے۔ 


صاحبِ دنیا و دیں ، مالکِ ملک و ملل

عالمِ علم و عمل ، عاملِ نص و سنن


معدنِ جود و سخا ، منبعِ لطف و عطا

حامیِ دیں ، با وفا ماحیِ کفر کہن 


صاحبِ فضل و ہنر ، صف شکنِ بحر و بر

ملجاءِ فتح و ظفر ، ہادئ ِ شمشیر و زن


      نصرتی کو اپنے ممدوح سے بے پناہ محبت تھی ۔ ہر صنف سخن میں وہ اس کے ذکر اور اس کی تعریف کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ۔ قصیدہ " عاشور کے بیان میں " مدح شاہی کا موقع نہیں تھا لیکن وہ اپنے عجز سخن کا اظہار کرتے ہوئے بادشاہ کی سخن فہمی اور سخن سنجی کی تعریف کا موقع نکال ہی لیتا ہے۔

      نصرتی نے دکنی قصائد کو فارسی قصائد کے ہم پلہ بناکر پیش کیا ہے۔ قصائد میں دیگر اصناف سے زیادہ اسے اپنی جولانیاں دکھانے کا موقع ملا ہے۔ زبان و بیان پر اسکی قدرت کھل کر سامنے آتی ہے۔ اس کے فکر کی گہرائی اور گیرائی اپنا حسن بکھیرتی ہے۔

      صنائع اور بدائع اس کے اشعار میں موتی کی طرح جڑے ہوئے ہیں ، الفاظ کا دریا ہے کہ بہا جارہا ہے ۔ ان تمام اوصاف کی وجہ سے اس کے قصائد میں دریا کی سی روانی آگئی ہے۔ اس لئے نصرتی کے قصائد دکنی کے شاہکار قصائد شمار کیے جاتے ہیں۔

تبصرے

Popular Posts

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

میر تقی میر کی شاعری کا اسلوب

میر تقی میر کی شاعری کا اسلوب میرتقی میر غزل کے مسلم الثبوت استاد ہیں   شعراء نے میر کے دیوان کی تعریف یہ کہہ کر کی ہے کہ ان کا دیوان " گلشن کشمیر " سے کم نہیں ہے۔ اسی طرح تذکرہ نویسوں نے بھی ان کی قادر الکلامی کا اعتراف کیا : قائم چاند پوری : فروغ محفل سخن پردازاں، جامع آیات سخن دانی گردیزی : سخن سنج بے نظیر  میر حسن : شاعر دل پذیر  مصحفی : در فن شعر ریختہ مرد صاحب کمال شیفتہ : سخن ورِ عالی مقام