نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

مئی, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

خواجہ ‏حیدر ‏علی ‏آتش ‏کے ‏کلام ‏کی ‏فنی ‏خوبیاں

  خواجہ حیدر علی آتش کے کلام کی فنی خوبیاں Khawja Haider Ali Aatish urdu poetry ایک اور خصوصیت جو آتش کو دبستان لکھنؤ سے وابستہ رکھتے ہوۓ بھی اس دبستان سے دور کر لیتی ہے وہ ان کے کلام کی سادگی سلاست بے ساختگی، برجستگی، روانی، صفائی، شفافیت اور سہل و عام فہم پیرایۂ بیان ہے ۔ یہ پہلو اس لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں کہ دبستان لکھنؤ میں، تصنع، بناوٹ، معاملہ بندی، رعایت لفظی، اچھی بری صنعتوں کا موقع بے موقع استعمال، دو راز کار تشبیہات و استعارات اور نزاکت بیان وغیرہ کو اہمیت دی جاتی تھی ۔ آتش نے جس طرح سادہ، اور بے ریا زندگی گزاری اور فطری انداز میں زیست کی اس طرح ان کے کلام کا بڑا حصہ بھی اس کا آئینہ دار ہے۔ ان کی غزلوں کے دو دیوان ہیں۔ پہلا دیوان ضخیم ہے اور دوسرے دیوان کا حجم پہلے دیوان کے ایک چوتھائی سے بھی کم ہے ۔ اگر ان کی غزلوں سے ایسے اشعار علاحدہ کر کے مطالعہ کیے جائیں تو محسوس ہی نہیں ہو گا کہ یہ کسی لکھنوی شاعر کا کلام ہے، ان اشعار میں زبان صاف اور آسان ہے، جذبات کی فراوانی اور احساس کی شدت ایسی ہے کہ " سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا " والی کیفیت محسوس ہوتی ہے ۔اور ہرشعر

خواجہ حیدر علی آتش کی غزل گوئی

خواجہ حیدر علی آتش کی غزل گوئی  Khawaja Haider Ali Aatish ghazal goyi    شعر و ادب کے بارے میں دبستانوں کی بات کو ہم فی زمانہ مناسب سمجھیں یا نہیں، اردو شاعری کا دبستان لکھنؤ اپنی جگہ حقیقت رکھتا ہے ۔ جن شاعروں کی وجہ سے دبستان لکھنؤ کا وقار اور اعتبار قائم ہے ان میں ایک خواجہ حیدر علی آتش بھی ہیں۔ لکھنؤ کی شاعری میں خرابیاں اور خامیاں سہی لیکن زبان کی صحت و صفائی اور اس کو لطیف، نازک، خوب صورت اور دل کش بنانے میں اس دبستان نے جوخد مات انجام دی ہیں اس کا اعتراف کیا جانا ضروری ہے۔ آتش ان شاعروں میں ہیں جنھوں نے دبستان لکھنو کی خامیوں کو دور کر نے کی سعی کی، اس کی اچھائیوں کو بھی ابھارا اور مجموعی طور پر اس کے نام کو روشن اور بلند کیا۔ خواجہ حیدر علی آتش کی حالات زندگی       اپنے صوفیانہ مزاج اور خاندانی پس منظر کی وجہ سے آتش نے دنیا کوبھی مزرع آخرت سے بڑھ کر اہمیت نہیں دی ۔ یہ چیز دبستان لکھنؤ کے شاعروں میں انھیں امتیازی حیثیت کا مالک بناتی ہے ۔ تصوف ان کی شخصیت میں رچا بسا تھا جس کی وجہ سے ان کے کلام میں اخلاقی بصیرت اور زندگی کی اعلی و ارفع قدروں سے جذباتی اور والہانہ وابستگی ملتی ہے

خواجہ حیدر علی آتش کی حالات زندگی

  خواجہ حیدر علی آتش گذشتہ اکائی میں ہم نے محمد تقی میر کی زندگی کے حالات پر روشنی ڈالی اور ان کی غزل گوئی کا تفصیل سے جائز ولیا ۔ ان کے کلام کی تشریح بھی بہ طور نمونہ کی گئی کہ آپ کو مز ید کلام سمجھنے میں مدد ملے ۔ مجموعی طور پر آپ نے شاعر کے کلام کی خصوصیات اور امتیازی حیثیت سے آ گاہی حاصل کی ۔ یہ اکائی ہمارے ایک اور نامور شاعر خواجہ حیدرعلی آ تش کے بارے میں ہے ۔ آتش دبستان لکھنو کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں ۔اس اکائی میں ہم آپ کو آتش کے حالات زندگی کے بارے میں بتائیں گے اور ان کی غزل گوئی کا سیر حاصل جائز ہ لیا جاۓ گا۔ آ پ آ تش کی چار غزلوں کا مطالعہ کر یں گے ۔ بطور نمونہ دو اشعار کی تشریح پیش کی جائے گی ۔ ہم اس اکائی کا خلاصہ بھی پیش کر یں گے ۔ 

میر تقی میر کے اشعار کی تشریح و خلاصہ

  میر تقی میر کے اشعار کی تشریح و خلاصہ  کی غزلوں میں جن محسوسات اور تجربات کا اظہار کیا گیا ہے ، وہ میر کی اپنی زندگی کے نشیب وفراز کا اشاریہ ہیں ، ساتھ ہی ان میں حیات و کائنات کی اسراریت اور بے ثباتی کے مفکرانہ خیالات کا اظہار کیا گیا ہے ۔ مزید برآں ، ان غزلیہ اشعار میں عشق جمالیات، تصوف اور عصری آگہی کے تصورات کی نشان دہی کی جاسکتی ہے ۔      جہاں تک ان اشعار کے فنی اور لسانی محاسن کا تعلق ہے وہ ان کے شعور فن کو ظاہر کرتے ہیں ۔ ان میں دو غزلیں چھوٹی بحر میں ہیں : 1. جس سر کو غرور (گھمنڈ) ہے یاں (یہاں) تاج وری کا 2 . ہستی اپنی حباب کی سی ہے  غواصی کے اشعار کی تشریح و خلاصہ اور دو غزلیں بڑی بحر میں لکھی گئی ہیں : 1. الٹی ہوگئیں سب تد بیر میں کچھ نہ دوا نے کام کیا 2 . پتہ پتہ بوٹا بوٹا (ڈالی ڈالی) حال ہمارا جانے ہے       ان غزلوں میں شور، سلاست، نازک ، دوا ، عبث الفاظ کے ساتھ ساتھ فارسی ترکیبیں مثلا آشفتہ سری، کار گہ شیشہ گری، جگر سوختہ، چراغ سحری، سپید وسیاہ، خانہ خراب، بیماریِ دل، تشنہ خوں، تلخی کش ، اور آب تیغ وغیرہ بھی  ہیں ۔ ولی دکنی کی غزل کی تشریح

میر تقی میر کی شاعری کا اسلوب

میر تقی میر کی شاعری کا اسلوب میرتقی میر غزل کے مسلم الثبوت استاد ہیں   شعراء نے میر کے دیوان کی تعریف یہ کہہ کر کی ہے کہ ان کا دیوان " گلشن کشمیر " سے کم نہیں ہے۔ اسی طرح تذکرہ نویسوں نے بھی ان کی قادر الکلامی کا اعتراف کیا : قائم چاند پوری : فروغ محفل سخن پردازاں، جامع آیات سخن دانی گردیزی : سخن سنج بے نظیر  میر حسن : شاعر دل پذیر  مصحفی : در فن شعر ریختہ مرد صاحب کمال شیفتہ : سخن ورِ عالی مقام

میر تقی میر کی صوفیانہ شاعری

  میر تقی میر کی صوفیانہ شاعری میر کی شاعری میں متصوفانہ خیالات و تجربات کا بھی نمایاں طور پر اظہار ملتا ہے ۔ تصوف نے انھیں خالق و مخلوق کے رشتوں کا احساس دلایا۔ انھیں بچپن ہی سے صوفیانہ ماحول ملا تھا ۔ ان کے والد اور منھ بولے چچا دونوں ان کو دنیوی خواہشات سے کنارہ کش ہوکر اپنے من میں ڈوبنے کی تعلیم دیتے رہے ، چنانچہ خود آگہی، قناعت اور استغراق ان کی طبیعت کا خاصہ بن گئے ۔ وہ بعض فکری میلانات کا اظہار کرنے لگے اور زندگی موت اور کائنات کے مسائل پر غور و فکر کرتے رہے۔      صوفی سلوک کی مختلف منزلوں سے گز رکے فنا فی اللہ ہو جاتا ہے ۔ یعنی وہ ازلی حقیقت کا حصہ بن جا تا ہے ۔ حامد کاشمیری میر پر اپنی کتاب "کار گہہ شیشہ گری " میر کا مطالعہ ، میں لکھتے ہیں :      " میر صوفی تھے ،  بلکہ یہ ہنا چاہیے کہ وہ صوفیانہ رنگ میں پوری طرح رنگے ہوئے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ میر درد کی طرح عملی اور ہمہ وقتی صوفی نہ تھے " ۔ ان کے نزدیک دل نسخۂ تصوف ہے، جسے سمجھنے کی ضرورت ہے : دل عجب نسخہ ' تصوف ہے  ہم نہ سمجھے بڑا تاسف ہے

میر تقی میر کے کلام میں تصور حسن و عشق

 میر تقی میر کے کلام میں تصور حسن و عشق میر تقی میر کے کلام میں تصور حسن و عشق آئیے اب میر کی غزلوں میں ابھرنے والی شعری دنیا میں نمایاں واقعات کی نشان دہی کریں ۔ اس دنیا میں ایک عشق پیشہ کردار ابھرتا ہے جومیر کی حقیقی زندگی میں عشق کی نا کامی کی یاد دلاتا ہے ۔ حقیقی زندگی میں انھوں نے ایک پری تمثال لڑ کی سے در پردہ عشق کیا تھا یا نہیں، جدید تحقیق نے اس کے بارے میں شکوک کو جنم دیا ہے ۔ تا ہم ان کی شاعری میں جذبہ عشق کا خوب اظہار ملتا ہے ۔ان کے جذبۂ عشق کے کئی پہلو ہیں ۔ وہ اس جذبے سے اپنے وجود کو گداز کر چکے تھے عشق نے ان کے تن بدن میں وہ آ گ لگائی ہے کہ ان کے استخواں کانپ کانپ جلتے ہیں ۔ استخواں کانپ کانپ جلتے ہیں  عشق نے آگ یہ لگائی ہے

میر تقی میر کی غزل گوئی

Mir Taqi Mir Ki Shayari ki khususiyat میر تقی میر کی غزل گوئی    میر کی شاعری کو سمجھنے اور اس کا محاکمہ  کرنے  کے لیے ان کی گھریلو اور ذاتی زندگی اور پھر ان کے عہد کے تاریخی حالات پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے ۔ان کی گھریلو زندگی افلاس اور بے سروسامانی میں گزری ۔ ان کے منھ بولے چچا امان اللہ انھیں فقیری، داخلیت پسندی،  تعشق خاطر اور خلوت پسندی کی تعلیم دیتے رہے ۔ وہ تصوف کی طرف مائل ہوئے، خارجی حالات انتشار اور افراتفری کی زد میں تھے ۔ اورنگ زیب کی وفات ( 1707ء) کے بعد ملک سیاسی طور پر غیر یقینیت کا شکار ہوا، سماجی تہذیبی اور علمی مشاغل انحطاط کی طرف مائل تھے،  بیرونی حملوں نے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی، اندرونی بغاوتوں نے لوٹ مار اور خوں ریزی کا بازار گرم کیا تھا۔ میر ان ہوش رہا اور انتشار خیز حالات وہ واقعات سے گزرتے رہے ۔ ظاہر ہے کہ ان کی شعری شخصیت ان سے گہرے طور پر متاثر ہوئی اور اس طرح یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان کے لیے یہ حالات ایک بنیادی شعری  محرک بن گئے ۔

غزل کی صنف اور اسکی فنی خصوصیات‏

1.1 تمھید         غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اردو شاعری میں کئی اصناف پروان چڑھیں اور ختم ہوگئیں جیسے مثنوی ، قصیدہ اور مرثیہ ۔اردو میں نظم نگاری کا آغاز ہوا تو کچھ عرصے کے لئے غزل پیچھے پڑگئی لیکن ختم نہ ہوئی پھر غزل کا احیا ہواتو وہ دیگر تمام اصناف پر سبقت لے گئی۔ گزشتہ برسوں میں اردو شاعری میں کئی نئی اصناف کا اضافہ ہوا لیکن کوئی بھی صنف غزل کی جگہ نہ لے سکی      اس اکائی میں غزل کے مفہوم اور ہیت کی وضاحت کی جائے گی ۔غزل کا خاص وصف ایمائیت ہے۔ یہ دکھایا جائے گا کہ غزل میں ایمائیت پیدا کرنے کے کیا ذرائع ہیں۔اس سلسلے میں غزل کی فنی خصوصیت کا جائزہ لیا گیا ہے مجاز اور اس کے اقسام سے بحث کی گئی ہے اور آخر میں دکھایا گیا ہے کہ غزل میں صنائع لفظی اور صنائع معنوی کیا رول ادا کرتے ہیں

میر تقی میر کے حالات زندگی

  میر تقی میر کے حالات زندگی میر تقی میر کی پیدائش محمد تقی میر 20 نومبر 1722ء میں اکبر آباد( آگرہ) میں پیدا ہوۓ ۔ 1810 ء میں وہ لکھنو میں وفات پاگئے۔ میر کے بزرگ حجاز سے دکن آئے تھے۔ مگران کے پر دادا اکبر آباد گئے اور وہیں سکونت اختیار کی۔ میر کے والد ایک گوشہ نشیں درویش تھے ۔ میر نے اپنی خودنوشت ’’ ذکر میر‘‘ میں اپنے والد کے بارے میں لکھا ہے : ’’ وہ ایک صالح عاشق پیشہ شخص تھے "گرم دل کے مالک" ، "شب زندہ داراور روز حیران کار" 

ولی دکنی کی غزلیں اشعار کی تشریح و خلاصہ

  ولی دکنی کی غزلیں اشعار کی تشریح و خلاصہ ولی دکنی کی غزلیں اشعار کی تشریح و خلاصہ ولی کی زندگی کے حالات اور ان کی غزل گوئی کے بارے میں معلومات فراہم کر نے کے بعد ذیل میں ان کی چار غزلیں درج کی جارہی ہیں اور بہ طور نمونہ ولی کے دواشعار کی تشریح بھی پیش ہے ۔

ولی دکنی کے خیالات اور دیگر شعرا

  ولی دکنی کے خیالات اور دیگر شعرا ولی دکنی کے خیالات  اور دیگر شعرا  ولی نے پیش روشعرا سے حاصل کردہ روایات میں اپنے علم و فضل سے کسب و اکتساب کر کے وہ سب کچھ شامل کر دیا جس سے ان کی شاعری اور ان کی آواز منفرد رنگ و آہنگ اختیار کرگئی۔ بعد کے تقریبا تمام بڑے شاعروں کے پاس ولی کے خیالات، افکار، نظریات اور موضوعات کی موجودگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ اپنے بعد آ نے والوں کے لیے نئی راہیں چھوڑ گئے۔ مختلف شعرا کے پاس ولی کے خیال اور موضوع کی تکرار ملتی ہے ذیل میں ایسے چند اشعار بہ طور مثال درج کیے جار ہے ہیں:

ولی دکنی کے کلام میں صنعتوں کا استمعال

  ولی دکنی کے کلام میں صنعتوں کا استمعال ولی دکنی کے کلام میں صنعتوں کا استمعال ولی نے ہندی کے الفاظ اور فارسی الفاظ و محاورات کو اس طرح ملایا ہے کہ ایک خوب صورت اور دل کش ادبی زبان بن گئی ہے ۔ الفاظ وتراکیب کی جدت اور ندرت ولی کی شاعری میں نکھار اور خوب صورتی پیدا کرتی ہے۔

غزل کی صنف اور اسکی فنی خصوصیت

  غزل کی صنف اور اسکی فنی خصوصیت غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اردو شاعری میں کئی اصناف پروان چڑھیں اور ختم ہوگئیں جیسے مثنوی ، قصیدہ اور مرثیہ ۔اردو میں نظم نگاری کا آغاز ہوا تو کچھ عرصے کے لئے غزل پیچھے پڑگئی لیکن ختم نہ ہوئی پھر غزل کا احیا ہواتو وہ دیگر تمام اصناف پر سبقت لے گئی۔ گزشتہ برسوں میں اردو شاعری میں کئی نئی اصناف کا اضافہ ہوا لیکن کوئی بھی صنف غزل کی جگہ نہ لے سکی۔      اس اکائی میں غزل کے مفہوم اور ہئیت کی وضاحت کی جاۓ گی۔ غزل کا خاص وصف ایمائیت ہے۔ یہ دکھایا جاۓ گا کہ غزل میں ایمائیت پیدا کرنے کے کیا ذرائع ہیں ۔اس سلسلے میں غزل کی فنی خصوصیات کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ مجاز اور اس کی اقسام سے بحث کی گئی ہے اور آخر میں دکھایا گیا ہے کہ غزل میں صنائع لفظی اور صنائع معنوی کیا رول ادا کر تے ہیں؟

عید الفطر

   🎇 لیلۃ الجائزہ 🎇        عید الفطر کا چاند نظر آنے کے بعد ہر طرف خوشی و مسرت کا ماحول بن جاتا ھے ایک مہینے کے سخت امتحان میں کامیاب ھو کر ایک مسلمان کا خوش ہونا فطری بات ھے۔                چنانچہ عیدالفطر کی رات انعام و اکرام کی رات ہوتی ہے اور اسے لیلۃ الجائزہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔۔        حدیث پاک میں ہے حضرت سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا "جب عیدالفطر کی مبارک رات تشریف لاتی ہے تو اسے لیلتہ الجائزہ ،انعام کی رات کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالی اپنے معصوم فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے چنانچہ وہ فرشتے زمین پر تشریف لا کر سب گلیوں اور راہوں کے سروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس طرح ندا دیتے ہیں۔"ائے امت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اس رب کریم کی بارگاہ کی طرف چلو جو بہت ہی زیادہ عطا کرنے والا ھے اور بڑے سے بڑا گناہ معاف فرمانے والا ھے۔"         تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے کہ جس نے عیدین کی رات یعنی شب عید الفطر اور شب عید الضحی قیام

الوداع ماہ رمضان المبارک

   قسط۔۔۔۔29          💠 *الوداع ماہ رمضان*  💠          ماہ رمضان المبارک جو مومنوں کے لیے نیکیوں اور فضائل و برکات کا خزینہ ہے جب اس کی فرقت و جدائی کا وقت قریب آتا ہے تو اس کا دل غمگین  ہوجا تا ہے اور کیوں نہ ہو کہ ایسا انعام و اکرام و مغفرت کا مبارک و مقدس مہینہ ہم سے رخصت ہونے والا ہوتا ہے۔اور ایسے ہی بندۂ مومن کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مژدۂ جنت سناتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں " جو شخص رمضان المبارک کے آنے کی خوشی اور جا نے کا غم کرے اس کےلیے جنت ہے اور اللہ عزوجل پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائے۔"             حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو زمین و آسمان اور ملائکہ میری امت کی مصیبت کو یاد کرکے روتے ہیں۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کونسی مصیبت؟ فرمایا رمضان المبارک کا رخصت ہونا ۔۔کیونکہ اس میں صدقات اور دعاؤں کو قبول کیا جاتا ہے، نیکیوں کا اجر وثواب بڑھا دیا جا تا یے، عذاب دوزخ دور کیا جاتاہے، تو رمضان المبارک کی جدائی سے بڑھ کر میری امت کے لیے ا

صڈقۂ فطر اور اسکے مسائل

      صدقۂ فطر      عید کے دن مالداروں پر رمضان کا جو صدقہ واجب ہوتا ہے اصطلاح شریعت میں اسے فطرہ کہتے ہیں۔فطرہ روزوں کے پورا کرلینے کا شکرانہ ہے تاکہ روزوں میں بھول چوک، کوتاہی ہوگئی ہو تو صدقۂ فطر سے اس کا کفارہ ہوجائے۔       حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ کا روزہ آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتا ھے جب تک صدقۂ فطر ادا نہ کرے۔ مالک نصاب پر واجب ھے کہ اپنے اور اپنی اولاد کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرے وہ چیز یا اس کی قیمت فقراء و مساکین یا مدارس کے طلبہ کو دیں۔  صدقۂ فطر نماز عید سے پہلے ادا کرنا بہتر ہے ۔۔۔        جن لوگوں کو زکوۃ دی جاسکتی ھے انہیں صدقۂ فطر بھی دیا جا سکتا ہے۔ صدقۂ فطر کی مقدار۔۔۔ 🔹گیہوں۔۔۔2 کلو 47 گرام ۔۔۔قیمت۔۔60 روپیے 🔹جو۔۔۔۔۔ 4 کلو 94 گرام ۔۔۔قیمت 330 روپیے 🔹کھجور۔۔۔۔4 کلو 94 گرام۔۔۔قیمت۔۔۔490 روپیے 🔹کشمش۔۔۔۔۔4 کلو 94 گرام۔۔۔۔قیمت۔۔۔1020 (قیمت اپنے اعتبار سے جوڑی جاسکتی ھے) 💠 نوٹ۔۔مالک نصاب کو آزادی ھے کہ وہ ان چاروں میں سے کوئی ایک جنس سے اپنا فطرہ ادا کریں۔۔بہتر ھے کہ اپنی حیثیت کے مطابق وہ جنس چنے جس سے غریبوں کا زیادہ فائدہ ہو۔   🔊 عید

ولی دکنی کے کلام میں تصور عشق

  ولی دکنی کے کلام میں تصور عشق اس تصور عشق کے ذریعے ولی تصوف کی روایت کو اپنے موضوعات کے پھیلاؤ اور کم و بیش ساری علامات کے ساتھ اردو شاعری کے دامن میں جگہ دیتے ہیں اور ایک نئے لہجے اور زندہ آوازوں سے ان میں ایک ایسا رنگ بھر دیتے ہیں کہ ولی کے اس قسم کے اشعار کے مطالعے کے بعد ان کا صوفی کامل ہونا ثابت ہو جا تا ہے۔ عیاں ہر طرف عالم میں حسن ہے بے حجاب اس کا  بغیر از دیدۂ حیراں نئیں جگ مے نقاب اس کا عشق میں لازم ہے پہلے ذات کو فانی کریں ہو فنا فی اللہ ہمیشہ (دائم) ذات یزدانی کریں  سجن کے باج عالم میں دگر نئیں   ہمیں میں ہیں ولے ہم کوں خبر نئیں عجب ہمت ہے اس کی جس کو جگ میں بغیر از یار دوجے پر نظر نئیں  ہر ذرۂ عالم میں ہیں خورشید حقیقی  یوں بوجھ کے بلبل ہوں ہر ایک غنچہ وہاں کا خودی سے اولاً خالی ہو اے دل اگر اس شمع روشن کی لگن ہے  کہہ وی ہے اہل دل نے یہ بات مجھ کو دل سے عارف کا دل بغل میں قرآن بے کلی ہے  نشانی حق کے پانے کی جگت کی بے نیازی ہے  کشاکش کام اپنے کی جگت کی کار سازی ہے نکال خاطر فاتر سو جامِ جم کا خیال صفا کر آئینہ دل کا سکندری یو ہے ولی دکنی کے کلام میں تصور عشق      تصوف و ع

شب قدر لیلۃ القدر

  قسط۔۔ 25         💠 *شب قدر* 💠           رمضان المبارک کی راتوں میں ایک ایسی رات بھی ہے جس میں عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے ۔اس مقدس شب کا نام شب قدر(لیلتہ القدر )ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں شب قدر کی شان میں مکمل ایک سورت نازل فرمائی ہے ارشاد باری تعالی ہے( ترجمہ )بے شک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا اور تم نے کیا جانا کیا ہے شب قدر، ہزار مہینوں سے بہتر اس میں فرشتے اور جبرئیل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے ۔۔وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک۔ (سورہ قدر، پ30، ترجمہ کنزالایمان )             حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں یعنی اکیس، تیئس، پچیس، ستائیس اور انتیسویں شب میں شب قدر کو تلاش کرو۔( بخاری شریف )                 حضرت سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک رمضان المبارک کی ستائیس ویں شب کو شب قدر ہوتی ہے۔                    شب قدر میں تلاوت قرآن ، اذکار اور نوافل کی کثرت کرنا چاہیے ۔جتنا ہو سکے خوب خوب عبادت کرکے رب کو راضی کرنے کی کوشش

ولی کے کلام میں تشبیہات و استعارات

  ولی کے کلام میں تشبیہات و استعارات ولی کے کلام میں تشبیہات و استعارات کا استعمال بھی بہت اہم ہے ۔ انھوں نے مروجہ تشبیہات کو تازگی اور توانائی بخشی۔ اس کے علاوہ نئی تشبیہات اور استعارے وضع کیے جنھوں نے غزل کے دامن کو وسعت دی اور اظہار و بیان کے نئے راستے اور انداز پیدا کیے۔ یہاں چند اشعار بہ طور مثال پیش کیے جارہے ہیں: صنعت کے مُصوّر نے صباحت کے صفحہ پر تصویر بنائی ہے تری نور کو حل کر کیا ہوسکے جہاں میں ترا ہمسفر آفتاب  تج حُسن کی اگن کا ہیں ایک اخگر آفتاب تجھ مکھ کی جھلک دیکھ گئی جوت چندر سوں تجھ مکھ پہ عرق دیکھ گئی آب گہر سوں نین دیول میں پہلی ہے ویا کعبے میں ہے اسود ہرن کا ہے یو نافہ یا کٹول بھیتر بھٹور دستا دونوں جہاں کوں مست کرے ایک جام میں انکھیوں کا ترے عکس پڑے گر شراب میں موج دریا کی دیکھنے مت جا  دیکھ اس زلف عنبریں کی اوا حسن ہے دام بلا زلف ہے دو کالے ناگ جس کو کالے نے ڈر سا اس کوں جلانا مشکل مکھ تراجیوں روز روشن زلف تیری رات ہے کیا عجب یوں بات ہے یک ٹھار دن ہور رات ہے ولی کے کلام میں تشبیہات و استعارات      تشبیہات و استعارات کی مدد سے ولی اپنے محبوب کی جو تصویر پیش کر تے ہی

ولی دکنی کی غزل میں عشق مجازی

  ولی دکنی کی غزل میں عشق مجازی مجازی عشق کا بیان ولی نے پوری فن کاری اور مہارت کے ساتھ کیا ہے۔ اپنے محبوب کی تعریف اور اس کی سراپا نگاری انھوں نے جس انداز سے کی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ ولی کی جمالیاتی حس بہت شدید ہے۔ ان کے کلیات کے بیش تر اشعار ایسے لطیف اور تیز احساس جمال کی تصویر پیش کرتے ہیں جس کی مثالیں اردو شاعری میں بہت کم ہیں۔ اس احساس جمال نے انھیں اردو کا سب سے بڑ اسراپا نگار بنادیا ہے۔ںاشعار بہ طور مثال درج کیے جار ہے ہیں: ولی دکنی کی شاعری قد ترا رشک سرو رعنا ہے  معنی نازکی سراپا ہے  تجھ بھواں کی میں کیا کروں تعریف  مطلعِ شوخ و رمز ہے ایما ہے چمن حسن میں نگہہ کر دیکھ  زلف معشوق عشق پیچاں ہے  کیوں نہ مُج دل کو زندگی بخشے  بات تیری دم مسیحا ہے  سُنبل اس کی نظر مے جا نہ کریں جس کوں تجھ گیسوؤں کا سودا ہے  اس کے پیچ اں کا کچھ شعار نئیں زلف ہے یا یہ موج دریا ہے ولی ایک غزل میں لکھتے ہیں: ترا مکھ ہے چراغ دل ربائی عیاں ہے اس میں نور آشنائی   لکھا ہے تُج قد اُپر کاتب صنع  سراپا معنی نازک ادائی تو ہے سر پاؤں لگ از بس کہ نازک  نگہہ کرتی ہے تجھ پگ کوں حنائی تری انکھیاں کی مستی دیکھنے م