نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

غواصی کی غزل گوئی

غواصی-کی-غزل-گوئی


 غواصی کی غزل گوئی

     موجودہ معلومات کی روشنی میں غواصی ایک بلند پایہ غزل گو، بے مثال مثنوی نگار اور باکمال قصیدہ گو کی حیثیت سے سامنے آتا ہے۔ اس کی تین مثنویاں 1 مینا ست و نتی، 2 سیف الملوک و بدیع الجمال، 3 طوطی نامہ اس کے علاوہ غزلوں، قصیدوں، رباعیوں، مرثیوں، اور موضوعاتی نظموں پر مشتمل دیوان بھی شائع ہو چکا ہے ۔ غواصی نے اپنے کلام میں نہ کسی پیش روشاعر کا تذ کر کیا ہے اور نہ کسی ہم عصر شاعرکو وہ اپنا مد مقابل سمجھتا ہے جب کہ دکنی اردو
کے دیگر بلند پایہ شاعروں نے اپنے کلام میں گزرے ہوئے یا ہم عصر شاعروں کا ذکر نہ صرف بڑی عزت واحترام سے کیا ہے بلکہ ان کو کامل الفن اور اپنا استاد سخن بھی کہا ہے ۔ جیسے محمد قلی قطب شاہ اور وجہی نے اپنے پیش رو اساتذۂ سخن کی حیثیت سے فیروز اور محمودکو یاد کیا ہے ۔ یہی حال ابن نشاطی کا ہے جس نے اپنی مثنوی’’پھول بن‘‘ میں دکنی اردو کے چار بلند پا یہ شعرا ء فیروز، سیدمحمود، ملا خیالی اور شیخ احمد کا ذکر بڑی عزت و احترام کے ساتھ کیا ہے ۔خود غواصی کو اس کے ہم عصر شعرا میں مقیمی اور نصرتی نے اور زمانۂ مابعد کے سخن وروں میں غوثی بیجا پوری، عشرتی، سید اعظم اورفراقی بیجا پوری وغیرہ نے غواصی کو اپنے کلام میں استاد سخن کی حیثیت سے یادکیا ہے ۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غواصی نے کسی کی شاگردی اختیار نہیں کی ۔ 


عبداللہ قطب شاہ کے دور میں غواصی کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا۔ اس بادشاہ نے اسے نہ صرف اپنے در بارکا ملک الشعر امقر ر کیا اور 1635 ء میں اپنے سفیر کی حیثیت سے پیجا پور روانہ کیا بلکہ فصاحت آثار کے خطاب سے بھی نوازا۔

ہزار شکر کہ خوش ہو کے یہ شہہ عارف
 خطاب منج کوں دیا ہے ’’ فصاحت آثاری‘‘

غزل در غزل، آزاد غزل ، شمالی ہند میں غزل کا ارتقاء، غزل کی تاریخ

     ڈاکٹر محمد بن عمر نے غواصی کے کلیات کو 1959 ء میں مرتب کرکے ادارۂ ادبیات اردو (حیدر آباد) کی جانب سے شائع کیا تھا جس میں 21 قصائد، 14 رباعیات، 2 مختصر مثنویاں، 2 مراثی، اور ایک ترکیب بند کے علاوہ 129 غزلیں، 19 نظمیں اور 9 ریختیاں شامل ہیں۔ غواصی نے محمد قلی کی طرح غزل کی ہئیت ( FORM ) کو بڑے پیمانے پر عشقیہ ( LYRICAL ) اور بیانیہ ( DESCRIPTIVE ) دونوں قسم کی شاعری کے لئے برتا ہے۔ ہر جگہ مطلع، مقطع اور قافیہ ردیف کی پابندی کی ہے۔ البتہ موضوعات میں کہیں ربط و تسلسلِ بیان پایا جاتا ہے، عنوان دے کر نظم کے دائرے میں داخل کردیا ہے۔ حالانکہ غواصی کے قلیمی دیوان میں کہیں بھی عنوانات نہیں ملتے۔ خود غواصی بھی محمد قلی کی طرح ان تخلیقات کو غزل ہی کہتا ہے۔ چنانچہ اس کی ایک نظم ( غزل ) " بادشاہ کی سیر بھونگیر " کا مقطع ہے :

غواصی ذوق پا اکثر جو بولیا یوں غزل خوش کر
دیا کی دھر نظر شہہ پر مدد حضرت امیر اہے 


     اگر کلیات غواصی کی اس قبیل کی نظموں اور ریختیوں کو غزلوں میں شمار کریں تو اس کی غزلوں کی تعداد 157 ہوجاتی ہے ۔اس کے علاوہ راقم الحروف نے’’ غواصی شخصیت اورفن‘‘ اور " دکنی شاعری تحقیق وتنقید " میں اس کی علی الترتیب 20 اور 29 غیر مطبوعہ غزلیں مرتب کر کے شائع کی ہیں ۔اس طرح غواصی کی جملہ غزلوں کی تعداد 206 ہو جاتی ہے ۔اگر چہ تعداد اور مضامین کے تنوع کے اعتبار سے غواصی کی غزلیں، محمد قلی کی غزلوں کی ہم پلہ نہیں لیکن جہاں تک سادگی بیان، تاثر کی فراوانی اورسوز و گداز کا تعلق ہے، دکنی اردو کا کوئی شاعر غواصی کے مرتبے کو نہیں پہنچتا۔ پروفیسر غلام عمر خاں لکھتے ہیں: 

      عام قاری کے لیے زبان کی قدامت، غواصی کے کلام سے لطف اندوز ہونے میں حائل ہے ورنہ جہاں تک صنف غزل کا تعلق ہے، تغزل و سرمستی، جذبات کا سوز و گداز، زبان و بیان کی بے ساختگی اور لطافت شفتگی، بحروں کا ترنم، اشعار کی نغمگی اور موسیقیت، یہ وہ خصوصیات ہیں جہاں غواصی عہد حاضر کے مقبول متغزلین حسرت اور جگر کے مقابلے میں بھی منفرد اور ممتاز نظرآ تا ہے ۔اس کی بعض غزلیں جو علوۓ جذبات، بلند آ ہنگی، کیف و مستی، سرخوشی و سرشاری اور شعور ذات کی رفیع جمالیاتی کیفیات کی عکاسی کرتی ہیں، غالب، حافظ اور خسرو کی اسی رنگ و آہنگ کی غزلوں کی ہم پایہ ہیں ۔‘‘ (غواصی شخصیت اورفن صفحہ 10 )


    غزل قصیدہ اور رباعی، اردو اقتباس، اردو شاعری، ugc net urdu syllabus، سیف الملوک و بدیع الجمال، مینا ست ونتی، طوطی نامہ، غواصی کی غزل گوئی، فصاحت آثار،

تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام