Ad

ماہ ذی الحجہ عشرۂ اول میں عبادت و یوم عرفہ

 

ماہ ذی الحجہ عشرۂ اول میں عبادت و یوم عرفہ


قسط ۔۔۔۔۔2

     

      عشرۂ اوّل میں عبادت

                حضرت سیّدتنا عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے عشرۂ ذی الحجّہ کی کسی رات میں پوری رات عبادت کی، تو گویا اُس نے سال بھر حج و عمرہ کرنے والوں کی سی عبادت کی۔ اور جس نے عشرۂ ذی الحجہ کو روزہ رکھا تو گویا اُس نے پورے سال عبادت کی۔ (غنیہ)

حضرت سیّدنا مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عشرۂ ذی الحجہ میں عبادت کی کوشش کرو۔ عشرۂ ذی الحجہ کو اللہ تعالیٰ نے بزرگی و برتری عطا فرمائی ہے۔ اور اس عشرہ کی راتوں کو بھی وہی عزّت و تعظیم دی جو اس کے دنوں کو حاصل ہے۔ 

        یومِ عرفہ

    بقر عید کے مہینہ کی نویں تاریخ کو عرفہ کا دن کہتے ہیں۔

     حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سُنا کہ اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن اپنے بندوں پر نظر رحمت فرماتا ہے تو جس کے دل میں ذرّہ برابر بھی ایمان ہوتا ہے، بخش دیا جاتا ہے۔ میں نے حضرت ابن عمر سے پوچھا کہ یہ مغفرت تمام لوگوں کے لیے ہے یا اہلِ عرفات کے ساتھ مخصوص ہے؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ مغفرت تمام لوگوں کے لیے ہے۔ (غنیۃ الطالبین)

      عرفہ کا روزہ و نماز

    عرفہ کا روزہ غیر حاجیوں کے لیے سنّت و باعثِ اجر ہے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، مجھے اللہ پر گمان ہے کہ عرفہ کا روزہ ایک سال قبل اور ایک سال بعد کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ (صحیح مسلم و سنن ابو داؤد وغیرہما)

        اُمّ المؤمنین حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفہ کے روزہ کو ہزاروں کے برابر بتاتے۔ مگر حج کرنے والے پر جو عرفات میں ہے، اسے عرفہ کے دن کا روزہ مکروہ ہے۔ (طبرانی)


✍ کلیم احمد قادری 

 *رضائے مصطفے اکیڈمی*   

    دھرن گاؤں ضلع جلگاؤں

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے