نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

محمد قلی قطب شاہ انتخاب کلام

 

محمد قلی قطب شاہ انتخاب کلام

انتخاب کلام

غزل 1

پیا باج پیالہ پیا جائے نا

پیا باج یک تل جیا جائے نا

کہے تھے پیا بن صبوری کروں

کھیا جائے اما کیا جائے نا

نہیں عشق جس وہ بڑا کوڑ ہے

کدھیں اس سوں مل بیسیا جائے نا

قطب شہہ نہ دے مجھ دوانے کو پند

دوانے کوں کچ پند دیا جائے نا



غزل 2

خبر لیایا ہے ہد ہد میرے تئیں اس یار جانی کا

خوشی کا وقت ہے ظاہر کروں راز نہانی کا 

دو تن افسروں کے بارے تھے ہمن کوں کچ نہیں ڈر ہے

ہمارے دیوے کوں ہے روشنی صاحب قرآنی کا

خدا کا شکر ہے تج سلطنت تھے کام پایا ہوں

دندے دشمن کے مکھ پر پیوتا مے ارغوانی کا

ہمیں ہیں عشق کے پنتھ میں دونو عالم تھے بے پروا

لگیا ہے داغ دل پر سو اس ہندوستانی کا 

پڑے دنبال میں میرے سوا اس نیناں کے دنبالے

خدایا عشق مشکل ہے بھرم رکھ توں معافی کا 

غزل 3


ساقیا آ شراب ناب کہاں

چند کے پیالے میں آفتاب کہاں

سوکے دیکھو کتے ہیں ساجن کوں

ولے میرے نین کوں خواب کہاں 

او کنّول مکھ میں نیر ہے سنّپور

اس کے انگے تنگ سراب کہاں



غزل 4

گلے ہاتھ دے کھیلے ناریاں سو کھیل

جاؤں کھیلے پیو او سرافراز ہے

اَدھر رنگ بھرے سہتے مانک نمن

کہ یاقوت رنگ ان تھے و رساز ہے

سنوارے ہیں مجلس پیا روپ سوں

مدن مطرب اس میں خوش آواز ہے

نبی صدقے قطبا پہ آنند وار

علی کی میا تھے سدا باز ہے



دو اشعار کی تشریح


1 پیا باج پیالہ پیا جائے نا

پیا باج یک تل جیا جائے نا


پیا کے بغیر یعنی محبوب کی جدائی میں پیالہ نہیں پیا جاسکتا۔ مئے نوشی کا لطف محبوب کی موجودگی میں دو بالا ہو جاتا ہے۔ محبوب کی غیر موجودگی میں ایک لمحہ بھی گزارنا مشکل اور ناممکن ہے۔


2 گلے ہات دے کھیلے ناریاں سوں کھیل

جسوں کھیلے پیو سو سرافراز ہے


شاعر کہتا ہے کہ ناریوں یا عورتوں کے گلے میں ہاتھ ڈال کر عشق و محبت کا کھیل کھیلنا میرے پیو کا محبوب مشغلہ ہے اور وہ جس کسی عورت کے ساتھ محبت کا کھیل کھیلنا پسند کرتا ہے یقینا وہ ناری سرافراز ہوگی۔ اس کی عزت و توقیر میں چار چاند لگ جائیں گے۔


غواصی کے اشعار کی تشریح و خلاصہ

 

خلاصہ

     محمد قلی قطب شاہ نہ صرف ایک عظیم الشان سلطنت کا مطلق العنان بادشاہ، رقص و موسیقی، فن خطاطی اور فن تعمیر کا دل دادہ تھا اور اس نے دیگر ملکوں اور شہروں کے اہل کمال کو بھی اپنے دربار سے وابستہ کیا تھا ۔


      محمد قلی کے ضخیم کلیات میں کم و بیش سبھی اصناف سخن موجود ہیں لیکن بنیادی طور پر وہ غزل کا شاعر ہے۔محمد قلی سے پہلے دکن کے بہت کم شاعروں نے غزلیں کہی ہیں اور اسے دکنی غزل کی ایک کمزور روایت ملی ہے ۔ لیکن محد قلی نے اپنے کلیات میں اس صنف کی بڑے وسیع پیمانے پر پذیرائی کی ۔ تعداد اور تنوع کے اعتبار سے جتنی غزلیں اس کے کلیات میں موجود ہیں اتنی کسی اور دکنی شاعر کے ہاں نہیں ملتیں۔ محمد قلی اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر ہے۔ اس کے کلام کی اولین خصوصیت اظہار بیان کی سادگی، سلاست اور روانی ہے ۔ وہ اپنے جذبات، احساسات اور مشاہدات کو سیدھی سادی زبان میں حقیقت پسندی کےساتھ پیش کرنے کا عادی ہے۔ اس کی غزلوں میں اپنے عہد اور ماحول کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ ہندوستانی تہذیب و معاشرت اور ہندوستانی روایات کی عکاسی بھی ملتی ہے وہ نیز اس کا کلام نغمگی و موسیقیت اور صنائع و بدائع کے حسن سے مالا مال ہے۔

تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام