Ad

قربانی اور سنت ابراہیمی

 

قربانی اور سنت ابراہیمی


قسط ۔۔۔۔۔۔3

قربانی : سنّت ِ ابراہیمی

SUNNAT E IBRAHIMI IN URDU

         حضرت آدم علیہ السلام سے مصطفےٰ جانِ رحمت حضور سیّد عالم ﷺ تک اللہ تبارک و تعالیٰ نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام کو اس خاک دانِ گیتی پر مبعوث فرمایا۔ نبیوں کے مختلف درجے ہیں۔ بعض کو بعض پر فضیلت ہے اور سب سے افضل ہمارے آقا و مولیٰ سیّد المرسلین ﷺ ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کے بعد سب سے بڑا مرتبہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا ، پھر حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام ، پھر حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام اور پھر حضرت نوح علیہ السلام کا ، اِن حضرات کو مرسلین اولوالعزم کہتے ہیں۔ اور یہ پانچوں انبیائے کرام علیہ السلام باقی تمام انبیا کرام و مرسلین، انس و مَلک، جنّ و تمام مخلوقاتِ الٰہی سے افضل و برتر ہیں۔ (بہارِ شریعت، حصّہ اوّل، ص ۵۴)

          حضرت ابراہیم علیہ السلام جو اللہ تعالیٰ کے نہایت برگزیدہ و اولوالعزم پیغمبر گزرے، بڑھاپے کی عمر میں انھوں نے اللہ تعالیٰ سے بیٹے کی دُعا مانگی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیٹے کی بشارت دی گئی۔ بڑھاپے کے عالم میں یعنی تقریباً ۹۷؍ سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل جیسا فرزند عطا فرمایا۔ خوشی و مسرّت کی انتہا نہ رہی۔ آپ اپنے فرزند حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے حد درجہ محبت فرماتے اور ہمیشہ انھیں اپنے ساتھ رکھتے۔ مگر جب فرزند اسمٰعیل تیرہ سال کی عمر کو پہنچے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یومِ ترویحہ یعنی آٹھ ذوالحجہ کو رات میں خواب دیکھا کہ اللہ کی راہ میں اپنی پیاری چیز قربان کرو۔ لہٰذا آپ نے صبح اُٹھ کر سو ۱۰۰؍ اونٹ اللہ کی راہ میں قربان کیے۔ دوسری رات پھر خواب میں وہی ندا ہوئی۔ صبح اُٹھ کر پھر آپ نے سو۱۰۰؍ اونٹوں کی قربانی پیش کی۔ تیسری رات بھی جب آپ نے خواب دیکھا اور ندا سُنی کہ اللہ کی راہ میں اپنی سب سے پیاری چیز کی قربانی پیش کرو۔ چونکہ انبیائے کرام علیہم السلام کا خواب سچّا اور حجّت ہوتا ہے، لہٰذا آپ علیہ السلام نے اپنی سب سے پیاری چیز یعنی بیٹے کے ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا اور اپنے بیٹے کو اس سے مطلع فرمایا۔ فرماں بردار بیٹے نے اپنے آپ کو فوراً بخوشی قربانی کے لیے پیش کرتے ہوئے اپنے والد سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ کو جو حکم ہوا ہے وہ پورا کیجیے۔ آپ مجھے صابر و شاکر پائیں گے۔ آپ اپنے صاحبزادے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو وادیِ منیٰ میں لے گئے اور چہرے کے بَل لٹا دیا۔ اور اللہ کا نام لے کر گلے پر چھری چلا دی۔ مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے چھری نے ذبح نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک جنتی مینڈھا (دُنبہ) صاحبزادے کے فدیے کے طور پر بھیجا ، جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دستِ مبارک سے ذبح فرما دیا۔ اللہ تبارک و تعالی کو یہ ادا اتنی محبوب ہوئی کہ قیامت تک کے مسلمانوں پر قربانی واجب قرار دی گئی۔


✍ کلیم احمد قادری 

  رضائے مصطفے اکیڈمی

 دھرن گاؤں ضلع جلگاؤں

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے