Ad

مرزا رفیع سودا کے حالات زندگی

 

مرزا رفیع سودا کے حالات زندگی

مرزا رفیع سودا کے حالات زندگی

مرزا رفیع سودا میر کے ہم عصر اور اردو کے مایۂ ناز شاعر تھے۔ انہوں نے مختلف اصناف میں شاعری کی۔ غزل گوئی میں بھی انہیں کمال حاصل تھا۔ لیکن انہیں شہرت قصیدہ نگاری کی حیثیت سے حاصل ہوئی۔ اس میں شک نہیں کے وہ اردو کے سب سے بڑے قصیدہ نگار شاعر تھے۔ انہیں فارسی کے بڑے قصیدہ نگاروں عرفی ، انوری ، خاقانی وغیرہ کے مقابل پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس اکائی میں مرزا سودا کے حالاتِ زندگی اور انکی قصیدہ نگاری پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔


مرزا رفیع سودا کا تعارف

Mirza rafi souda ka taruf

      بعض تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ مرزا محمد رفیع سودا کے آبا و اجداد کابل سے ہندوستان آئے تھے۔ ا س بر عکس سودا کے ایک قریبی دوست بھگوان داس ہندی نے اپنے تذکرے " سفینۂ ہندی " میں اطلاع دی ہے کہ سودا کے بزرگ بخارا سے ہندوستان آئے تھے۔ چونکہ پیشتر تذکرہ نگاروں نے یہی لکھا ہے ، اس لیے یہی درست معلوم ہوتا ہے کہ سودا کے بزرگ بخارا سے آئے تھے۔

مرزا رفیع سودا کی قصیدہ نگاری

       سودا کے کے والد کا نام مرزا شفیع بتایا جاتا ہے ۔ چوں کہ سودا کے بزرگ بخارا سے ہندوستان آکر دہلی میں آباد ہوئے تھے ، اس لیے اس بات کا پورا امکان ہے کہ سودا کے والد مرزا شفیع دہلی میں پیدا ہوئے۔ سودا کے آبا و اجداد سپاہی پیشہ تھے اور سپاہی کی حیثیت سے ہندوستان آئے تھے اور بزرگوں کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن سودا کے والد مرزا شفیع کا پیشہ البتہ تجارت تھا۔ کچھ ایسے خواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا شفیع اپنے زمانے کے مشہور تاجر تھے اور مرتے ہوئے انھوں نے خاصی دولت چھوڑی تھی جسے سودا نے دوست نوازی میں ختم کردی۔

سودا کی ولادت

      سودا کی ولادت دلی میں ہوئی تھی۔ کچھ تذکرہ نگار سودا کا سنہ پیدائش 1695ء بتاتے ہیں۔ بعض تذکرہ نگاروں کے بیان کے مطابق 1713ء میں پیدا ہوئے تھے لیکن بہت سے خواہد اس حق میں ہیں کہ سودا کی ولادت 1707 ء میں ہوئی۔ یہی سنہ ہمیں درست معلوم ہوتا ہے۔


      سودا نے دہلی میں پرورش پائی۔ یہی انکی تعلیم و تربیت ہوئی۔ انہوں نے ان علوم کی تعلیم حاصل کی جو ان کے زمانے میں رائج تھے۔ ان کے کلام کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے فارسی کا بہت اچھا مطالعہ کیا۔ تھوڑی بہت عربی پڑھی تھی۔ دہلی میں آج کل جہاں کابلی دروازہ ہے اس کے آس پاس بہت بڑی آبادی تھی۔ سودا کا آبائی مکان اسی آبادی میں تھا۔ اب نہ کابلی دروازہ موجود ہے ۔ نہ اس کے ارد گرد جو مکان تھے ان کا نام و نشان باقی ہے۔


      سودا کی ادبی زندگی کا آغاز فارسی شعر گوئی سے ہوا ۔ سراج الدین علی خان آ رزو ، سودا کے زمانے کے فارسی کے بہت بڑے عالم اور فارسی شاعر تھے ۔ سودا نے ان کی شاگردی اختیار کر لی ۔ ایک فارسی داں نے ( جو ہمارے خیال سے خان آرزو ہی تھے ) سودا کو مشورہ دیا کہ وک کتنی اچھی شاعری کیوں نہ کر لیں ، فارسی کے ممتاز شاعروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس لیے بہتر ہے کہ وہ اردو میں شعر کہیں ۔ ایسے مشوروں اور اردو شاعری کی بڑھتی مقبولیت نے سودا کی توجہ اردو شاعری کی طرف مبذول کرائی ۔


      جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ جب سودا نے فارسی میں شعر گوئی شروع کی تو انھوں نے خان آرزو کی شاگردی اختیار کر لی تھی ۔ اس کے بعد وہ سلمان قلی خاں و دادا اور پھر اردو کے مشہور شاعر شاہ حاتم کے شاگرد ہو گئے ۔اردو شاعری میں سودا کو اتنی مقبولیت اور شہرت حاصل ہوئی کہ لوگ انھیں ملک الشعرا کہنے

لگے۔ حالانکہ یہ ایسا خطاب تھا جو بادشاہ یا کوئی بہت بڑا آدمی کسی شاعر کو دیا کرتا تھا۔ 


سودا کے ایک بیٹے تھے جن کا نام تھا میر غلام حیدر مجذوب۔ مجذوب کا ایک شعر ہے جس میں انھوں نے میر تقی میر سے خطاب کر کے کہا ہے :


اے میر سمجھیو مت ، مجذوب کو اوروں سا

ہے وہ خلف سودا ، اور اہل ہنر بھی ہے


 سودا کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ بہت مہذب ، نیک شریف ، خوش اخلاق اور دوست نواز تھے ۔ ان کے کلام کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ


بہت ظرایف ، شگفتہ مزاج اور زندہ دل انسان تھے ۔ سودا کو کتے پالنے کا بہت شوق تھا۔ آخری عمر تک ان کے پاس اچھی نسل کے کئی کتے تھے ۔


      نادر شاہ اور پھر احمد شاہ ابدالی کے لگا تار حملوں نے دہلی کو ایسا تباہ و برباد کر دیا تھا کہ اہل ہنر اپنے سر پرستوں اور ملازمت کی تلاش میں دہلی چھوڑ کر در بدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ۔ خان آرزو ، میر تقی میر ، سودا ، قیام الدین قائم ، قلند بخش جرات ، غلام ہمدانی مصحفی ، انشا اللہ خاں انشا ، سعادت یار خاں رنگیں وغیر کو حالات سے مجبور ہو کر دہلی کو خیر باد کہنا پڑا۔


      دہلی سے نکل کر سودا جہاں کہیں رہے ، ان کی مالی حالت اچھی رہی ۔ فرخ آباد میں نواب مہرباں خاں رند کی سر پرستی میں سودا کی مالی حالت بہت اچھی تھی۔ جب سودا فیض آباد پہنچے تو نواب شجاع الدولہ نے دوسو روپے ماہوار کا وظیفہ مقرر کر دیا۔ شجاع الدولہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے نواب آصف الدولہ نے یہ وظیفہ جاری رکھا جو وفات کے وقت تک انھیں ملتا رہا۔ 26 جون 1781ء کو سودا اللہ کو پیارے ہوگئے ۔


      لکھنؤ میں نواب آصف الدولہ کے عہد کا ایک محلہ ہے " جنگلی گنج "۔ اس محلے میں ایک مسجد ہے جو کسی زمانے میں مرزا سودا کی مسجد کے نام سے جانی جاتی تھی ۔ اب اس مسجد کا نام مسجد رحمانی ہے ۔ غالبا اسی مسجد سے ملے وہ مکانات تھے جن میں سودا رہتے تھے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے