نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ذوق کا قصیدہ

  ذوق کا قصیدہ Zouq ka qasida  ساون میں دیا پھر مہہ شوال ، دکھائی  برسات میں عید آئی ، قدح کش خوار کی بن آئی کرتا ہے ہلال ابروئے ، پُر خم سے اشارہ  ساقی کو کہ گھر بادے سے ، کشتی طلائی ہے عکس فگن جام بلوریں سے ، مئے سرخ  کس رنگ سے ہوں ، ہاتھ نہ مے کش کے حنائی  کوندے ہے جو بجلی تو یہ سوجھے ہے نشے  ساقی نے ہے ، آتش سے ، مئے تیز اڑائی  یہ جوش ہے باراں کا کہ افلاک کے نیچے  ہووے نہ ممیز کره ناری و مائی  پہنچا ، کمک لشکر باراں سے ہے۔ل ، یہ روز  ہر نالے کی ہے دشت میں دریا ، پہ چڑھائی ہو قلزم عماں پہ لب جو متبسم تالاب سمندر کو کرے چشم نمائی  ہے کثرت باراں سے ہوئی عام یہ سردی  کافور کی تاثیر گئی جو زمیں پائی  سردیِ حنا پہنچے ہے ، عاشق کے جگر تک  معشوق کا گر ہاتھ میں ، ہے دست حنائی  عالم یہ ہوا ہوا کا ہے کہ تاثیر ہوا سے  گردوں پہ ہے ، خورشید کا بھی ، دیدہ ہوائی کیا صرف ہوا ہے ، طرب و عیش سے ، عالم  ہے مدرسے میں بھی ، سبق صرف ہوائی خالی نہیں مئے سے روشِ دانۂ انگور  زاہد کا بھی ہر دانۂ تسبیح ریائی کرتی ہے صبا آکے کبھی مشک فشانی کرتی ہے نسیم آکے کبھی ، لخلخہ سائی  تھا سوزئی خار کا صحرا میں جہاں فرش

ذوق کی غزلیں مع تشریح و خلاصہ

 

ذوق کی غزلیں مع تشریح و خلاصہ


ذوق کی غزلیں مع تشریح و خلاصہ

Ibraheem zouq ghazal tashreeh

غزل ۔ ا 

اسے ہم نے بہت ڈھونڈا نہ پایا 

اگر پایا تو کھوج اپنا نہ پایا 


مقدر ہی پہ گر سود و زیاں سے

تو ہم نے یاں، نہ کچھ کھویا، نہ پایا


سراغ عمر رفتہ ہاتھ کیا آئے

کہیں جس کا نشانِ پا نہ پایا


جہاں دیکھا کسی کے ساتھ دیکھا 

کہیں ہم نے تجھے تنہا نہ دیکھا 


نظیر اس کا کہاں عالم میں اے ذوق گر 

کہیں ایسا نہ پاۓ گا نہ پایا

ذوق کی شاعری اور غزل گوئی

Ibraheem zouq poetry in urdu

غزل ۔ ۲

!کسی بے کس کو اے بیداد! گر مارا تو کیا مارا 

!جو آ پھی مر رہا ہو، اس کو گر مارا تو کیا مارا


بڑے موذی کو مارا، نفسِ امّارہ، کو گر مارا 

!نہنگ و اژدہا و شیر نر، مارا تو کیا مارا


بنسی کے ساتھ یاں رونا ہے مثل قلقلِ مینا 

کسی نے قہقہہ اے بے خبر، مارا تو کیا مارا


گیا شیطان مارا، ایک سجدے، کے نہ کرنے سے

اگر لاکھوں برس، سجدے میں سر، مارا تو کیا مارا


دل بد خواہ میں تھا مارنا یا چشمِ بد بیں میں 

فلک پر ذوق تیرِ آہ گر مارا تو کیا مارا 

غزل ۔ ۳

'دانہ خرمن ہے ہمیں ، قطرہ ہے، دریا ہم کو 

آئے ہے جز میں نظر، کل کا تماشا ہم کو


اس نے خط جو قلمِ سرمہ سے لکھا ہم کو 

لکھا ایمائے خموشی ہے یہ گویا ہم کو 


اثر کفر ہے طاعت سے بھی اپنی پیدا

نقش سجدے کا ہے پیشانی پہ ٹیکا ہم کو


آن پہنچی سرِ گردابِ فنا کشتیِ عمر

ہر نفس بادِ مخالف کا ہے جھونکا ہم کو


ذوق بازی گہہ طفلاں ہے سراسر یہ زمیں

ساتھ لڑکوں کے، پڑا کھیلنا، گویا ہم کو 

غزل ۔ ۴

لائی حیات، آۓ قضا، لے چلی چلے

!اپنی خوشی، نہ آئے، نہ اپنی خوشی چلے 


بہتر تو ہے یہی، کہ نہ دنیا سے، دل لگے

پر کیا کریں! جو کام نہ؟ بے دل لگی چلے 


!ہو عمر خضر بھی تو، کہیں گے بہ وقت مرگ

ہم کیا رہے یہاں ، ابھی آئے، ابھی چلے 


دنیا نے کس کا؟ راہِ فنا میں، دیا ہے ساتھ

تم بھی چلے چلو یونہی، جب تک چلی چلے


جاتے ہوائے شوق میں ہیں، اس چمن سے ذوق 

اپنی بلا سے، باد صبا، اب کبھی چلے

آتش کی غزلیں مع تشریح و خلاصہ

میر تقی میر کی غزلیں مع تشریح و خلاصہ

ولی دکنی کی غزلوں کی تشریح و خلاصہ

غواصی کی غزلیں مع تشریح و خلاصہ

ابراہیم ذوق کے اشعار کی تشریح

Ibraheem zouq ghazal tashreeh

اسے ہم نے بہت ڈھونڈا نہ پایا

اگر پایا تو کھوج اپنا نہ پایا

     ذوق کے مطالعوں کے بارے میں ہم نے پچھلے اوراق میں پڑھا ہے کہ ان کے مطلع، سادہ سلیس ہوتے ہیں۔ ان میں اثر و کیف، لوچ و نغمگی ہوتی ہے۔ یہ مطلع بھی ان ہی خصوصیت کا حامل ہے۔ ذوق کے مزاج میں ایک فقیرانہ شان اور صوفیانہ انکسار تھا۔ اس شعر میں ذوق نے یافتِ خداوندی اور پھر اس کی یافت کے بعد فنا فی اللہ ہو جانے کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ اللہ ہر شئے میں ہے مگر ہم اس کا شعور نہیں رکھتے۔ جب یہ شعور پیدا ہو جاتا ہے اور اسے پا لیتے ہیں تو اپنے ہونے کا شعور باقی نہیں رہتا یعنی فنا فی اللہ ہو جاتا ہے۔ انسان ایک قطرے کے مانند ہے۔ یہ قطرہ سمندر یعنی ذات باری تعالیٰ میں ڈوب جاتا ہے تو کھوجنا ممکن نہیں بالکل اسی طرح جیسے ایک گھڑے بھر پانی میں ہم نے رنگین پانی کا ایک قطرہ ڈال دیا ، وہ قطرہ گھڑے بھر پانی میں اس طرح گھل مل گیا کہ اب اسے پانا مشکل بلکہ نا ممکن ہے۔ اس شعر میں پایا کی تکرار سے ایک لطف پیدا ہوگیا ہے۔

کسی بے کس کو اے بیداد، گر مارا تو کیا مارا 

جو آ پھی مر رہا ہو، اس کو گر مارا تو کیا مارا

    ذوق کی یہ بڑی مشہور غزل ہے۔ " مارا تو کیا مارا " ردیف ہے۔ ہر شعر میں اس ردیف نے عجیب کروٹیں بدلتی ہیں۔ پوری غزل لڑی میں پروئی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور وہ ردیف لڑی ہے۔ یہ غزل ایک اخلاقی درس دیتی ہے ، نفس کشی صبر و تحمل کا دس ہے ، حقیقت و صداقت کی یافت غرور و نخوت کی وجہ سے تباہی کا سبق ہے۔

     شاعر کہتا ہے مجبور اور بے کس آدمی کمزور اور محتاج ہوتا ہے اور ایک کمزور اور محتاج کو مارتے ہو تو کون سا کمال کرتے ہو۔ یہ بچارا تو اپنی بد قسمتی کا آپ مارا ہے۔ اسے مار کر کونسی بہادری کا کام کر رہے ہو۔ بہادر تو وہ ہے جو اپنے سے طاقتور سے لڑتا ہے ، اسے پچھاڑتا ہے ، کمزور پر طاقت نہیں آزماتا۔ اس میں طاقتور کی ذلت و رسوائی ہے۔ کمال تو یہ ہے کہ اپنے نفس کو ماریں جو سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ 


خلاصہ

    ذوق کا نام شیخ محمد ابراہیم تھا۔ شاہ نصیر کے شاگرد تھے ، جنہیں مشکل زمینوں میں شعر کہنے میں کمال حاصل تھا۔ ذوق اپنی محنت ، لگن اور وسیع مطالعے کی وجہ سے بہت جلد استاد کی اصلاح سے بے نیاز ہوگئے۔ بہادر شاہ ظفر کے استاد مقرر ہوئے۔ کئی خطابات ، انعامات اور خلعت ، جاگیر وغیرہ سے سرفراز ہوئے۔ ذوق کے شاگردوں میں ظفر کے علاوہ داغ ، ظہیر ، انور ، اور محمد حسین آزاد کے نام قابل ذکر ہیں۔ ذوق نے غزلیں بھی کہیں اور قصیدے بھی۔ ذوق نے غزل کے روایتی انداز کو اپنی زبان ، محاورے اور روز مرہ کے استمعال اور مختلف علوم و فنون کی اصطلاحات سے منفرد مقام پر لا کھڑا کیا۔ زبان و بیان اور فن شاعری پر انھیں غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔ انہوں نے بہت لکھا لیکن 1857ء کے ہنگاموں میں زیادہ تر کلام ضائع ہوگیا۔ ذوق کے انتقال (1854ء) کے بعد غالب کو استادِ شاہ کا مرتبہ حاصل ہوا۔ ذوق کے کئی شعر ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

تبصرے

Popular Posts

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

میر تقی میر کی شاعری کا اسلوب

میر تقی میر کی شاعری کا اسلوب میرتقی میر غزل کے مسلم الثبوت استاد ہیں   شعراء نے میر کے دیوان کی تعریف یہ کہہ کر کی ہے کہ ان کا دیوان " گلشن کشمیر " سے کم نہیں ہے۔ اسی طرح تذکرہ نویسوں نے بھی ان کی قادر الکلامی کا اعتراف کیا : قائم چاند پوری : فروغ محفل سخن پردازاں، جامع آیات سخن دانی گردیزی : سخن سنج بے نظیر  میر حسن : شاعر دل پذیر  مصحفی : در فن شعر ریختہ مرد صاحب کمال شیفتہ : سخن ورِ عالی مقام