Ad

قربانی کا حکم قرآن مجید میں

 

قربانی کا حکم قرآن مجید میں


قسط۔۔۔۔۔۔4

  قربانی کا حکم قرآنِ مجید میں

Qurbaani ka hukm quraan majid me

         مخصوص جانور کو مخصوص دن میں بہ نیتِ تقرّب یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ذبح کرنا، قربانی ہے۔ گویا قربانی اللہ عزوجل سے قریب ہونے کا ایک ذریعہ ہے کہ جو لوگ صدقِ دل سے، خلوص کے ساتھ قربانی کرتے ہیں، وہ لوگ اللہ عزوجل سے قریب ہوجاتے ہیں۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سُنّت ہے۔ جو اِس اُمّت کے لیے باقی رکھی گئی اور نبی کریم ﷺ کو قربانی کرنے کا حکم دیا گیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہوا:

فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْـحَرْ ط (سورۂ کوثر، پ ۳۰، آیت ۲)

ترجمہ: تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ (کنزالایمان)

        

        قربانی اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی محبوب و پسندیدہ ہے کہ تمام انبیا و مرسلین کی اُمتوں میں بھی قربانی کا حکم جاری تھا۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہےـ:

وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ م بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ۔ (سورۂ حج، پ ۱۷، آیت ۳۴)

ترجمہ: اور ہر اُمّت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر۔ (کنزالایمان)

     

         قرآنِ مجید میں ایک اور مقام پر نماز کے ساتھ قربانی کا ذکر فرما کر اس کی عظمت و اہمیت کا یوں تذکرہ فرمایا: 

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَـحْیَایَ وَ مَـمَاتِی لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ O لَا شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَالِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ O (سورۂ انعام، آیت ۱۶۴، ا۶۵) 

ترجمہ: تم فرماؤ بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے، جو رب سارے جہان کا۔اس کا کوئی شریک نہیں مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔ (کنزالایمان)


          قربانی کا مقصد و مُدّعا بیان کرتے ہوئے قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

لَنْ یَّنَالَ اللہَ لُـحُوْمُھَا وَلَا دِمَآؤُھَا وَلٰکِنْ یَّنَا لُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ ط کَذٰلِکَ سَـخَّرَھَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ ط وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ O

(سورۂ حج، آیت ۳۷)

ترجمہ: اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ اُن کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اُس تک باریاب ہوتی ہے یونہی ان کو تمہارے بس میں کردیا کہ تم اللہ کی بڑائی بولو اُس پر کہ تم کو ہدایت فرمائی اور اے محبوب خوش خبری سناؤ نیکی والوں کو۔ (کنزالایمان )


     ✍ کلیم احمد قادری 

     رضائے مصطفے اکیڈمی

     دھرن گاؤں ضلع جلگاؤں

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے