نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ذوق کا قصیدہ

  ذوق کا قصیدہ Zouq ka qasida  ساون میں دیا پھر مہہ شوال ، دکھائی  برسات میں عید آئی ، قدح کش خوار کی بن آئی کرتا ہے ہلال ابروئے ، پُر خم سے اشارہ  ساقی کو کہ گھر بادے سے ، کشتی طلائی ہے عکس فگن جام بلوریں سے ، مئے سرخ  کس رنگ سے ہوں ، ہاتھ نہ مے کش کے حنائی  کوندے ہے جو بجلی تو یہ سوجھے ہے نشے  ساقی نے ہے ، آتش سے ، مئے تیز اڑائی  یہ جوش ہے باراں کا کہ افلاک کے نیچے  ہووے نہ ممیز کره ناری و مائی  پہنچا ، کمک لشکر باراں سے ہے۔ل ، یہ روز  ہر نالے کی ہے دشت میں دریا ، پہ چڑھائی ہو قلزم عماں پہ لب جو متبسم تالاب سمندر کو کرے چشم نمائی  ہے کثرت باراں سے ہوئی عام یہ سردی  کافور کی تاثیر گئی جو زمیں پائی  سردیِ حنا پہنچے ہے ، عاشق کے جگر تک  معشوق کا گر ہاتھ میں ، ہے دست حنائی  عالم یہ ہوا ہوا کا ہے کہ تاثیر ہوا سے  گردوں پہ ہے ، خورشید کا بھی ، دیدہ ہوائی کیا صرف ہوا ہے ، طرب و عیش سے ، عالم  ہے مدرسے میں بھی ، سبق صرف ہوائی خالی نہیں مئے سے روشِ دانۂ انگور  زاہد کا بھی ہر دانۂ تسبیح ریائی کرتی ہے صبا آکے کبھی مشک فشانی کرتی ہے نسیم آکے کبھی ، لخلخہ سائی  تھا سوزئی خار کا صحرا میں جہاں فرش

قربانی کا حکم قرآن مجید میں

 

قربانی کا حکم قرآن مجید میں


قسط۔۔۔۔۔۔4

  قربانی کا حکم قرآنِ مجید میں

Qurbaani ka hukm quraan majid me

         مخصوص جانور کو مخصوص دن میں بہ نیتِ تقرّب یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ذبح کرنا، قربانی ہے۔ گویا قربانی اللہ عزوجل سے قریب ہونے کا ایک ذریعہ ہے کہ جو لوگ صدقِ دل سے، خلوص کے ساتھ قربانی کرتے ہیں، وہ لوگ اللہ عزوجل سے قریب ہوجاتے ہیں۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سُنّت ہے۔ جو اِس اُمّت کے لیے باقی رکھی گئی اور نبی کریم ﷺ کو قربانی کرنے کا حکم دیا گیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہوا:

فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْـحَرْ ط (سورۂ کوثر، پ ۳۰، آیت ۲)

ترجمہ: تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ (کنزالایمان)

        

        قربانی اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی محبوب و پسندیدہ ہے کہ تمام انبیا و مرسلین کی اُمتوں میں بھی قربانی کا حکم جاری تھا۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہےـ:

وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ م بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ۔ (سورۂ حج، پ ۱۷، آیت ۳۴)

ترجمہ: اور ہر اُمّت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر۔ (کنزالایمان)

     

         قرآنِ مجید میں ایک اور مقام پر نماز کے ساتھ قربانی کا ذکر فرما کر اس کی عظمت و اہمیت کا یوں تذکرہ فرمایا: 

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَـحْیَایَ وَ مَـمَاتِی لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ O لَا شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَالِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ O (سورۂ انعام، آیت ۱۶۴، ا۶۵) 

ترجمہ: تم فرماؤ بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے، جو رب سارے جہان کا۔اس کا کوئی شریک نہیں مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔ (کنزالایمان)


          قربانی کا مقصد و مُدّعا بیان کرتے ہوئے قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

لَنْ یَّنَالَ اللہَ لُـحُوْمُھَا وَلَا دِمَآؤُھَا وَلٰکِنْ یَّنَا لُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ ط کَذٰلِکَ سَـخَّرَھَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ ط وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ O

(سورۂ حج، آیت ۳۷)

ترجمہ: اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ اُن کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اُس تک باریاب ہوتی ہے یونہی ان کو تمہارے بس میں کردیا کہ تم اللہ کی بڑائی بولو اُس پر کہ تم کو ہدایت فرمائی اور اے محبوب خوش خبری سناؤ نیکی والوں کو۔ (کنزالایمان )


     ✍ کلیم احمد قادری 

     رضائے مصطفے اکیڈمی

     دھرن گاؤں ضلع جلگاؤں

تبصرے

Popular Posts

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

میر تقی میر کی شاعری کا اسلوب

میر تقی میر کی شاعری کا اسلوب میرتقی میر غزل کے مسلم الثبوت استاد ہیں   شعراء نے میر کے دیوان کی تعریف یہ کہہ کر کی ہے کہ ان کا دیوان " گلشن کشمیر " سے کم نہیں ہے۔ اسی طرح تذکرہ نویسوں نے بھی ان کی قادر الکلامی کا اعتراف کیا : قائم چاند پوری : فروغ محفل سخن پردازاں، جامع آیات سخن دانی گردیزی : سخن سنج بے نظیر  میر حسن : شاعر دل پذیر  مصحفی : در فن شعر ریختہ مرد صاحب کمال شیفتہ : سخن ورِ عالی مقام