نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

استعارہ اور تلازمے


استعارے اور تلازمے



مجاز کی دوسری قسم استعارہ ہے۔

استعارہ کی بنیاد تشبیہ پر ہوتی ہے۔ تشبیہ میں مشبہ اور مشبہ بہ میں مشابہت دکھائی جاتی ہے جب کے استعارے میں مشابہت کی بنا پر مشبہ کو مشبہ بہ ٹھہراتے ہیں ۔ اگر یہ کہا جائے کہ احمد شیر کی طرح بہادر ہے تو یہ تشبیہ ہوگی۔ لیکن بہادری کے وصف کی بنا پر احمد کو شیر کہا جائے تو یہ استعارہ ہوگا ۔


استعارہ کا موضوع ساقی شراب و زاہد

استعارہ کا موضوع قتل قاتل زخم خنجر

   
   استعارے میں مشبہ کو مستعارلہ اور مشبہ بہ کو مستعار منہ کہتے ہیں اور وجہ شبہہ وجہ جامع کہلاتی ہے۔

یہ شوخی نرگس مستانہ ہم سے 
چھلک کہ رہ گیا پیمانہ ہم سے 

شان الحق حقی

" نرگس مستانہ " استعارہ ہے محبوب کی آنکھ کا جو نرگس کے مشابہہ ہے اور جس سے مستی جھلک رہی ہے ۔ شعر میں آنکھ کا ذکر نہیں جس کو نرگس سے تشبیہ دی گئی ہے ۔
         اردو غزل کی زبان بڑی حد تک استعارتی ہے ۔ ہر استعارہ تشبیہ کے مختلف علاقے رکھتا ہے جنھیں تلازمہ کہتے ہیں ۔ مثلاً گلشن ، گلستاں یا چمن کے تلازمے ہیں : زندگی ،دنیا ،وغیرہ۔ کبھی شعر میں ایک ہی استعارہ بہ یک وقت مختلف تلازموں کے ساتھ برتا جاتا ہے جس کی وجہ سے شعر میں مختلف مفاہیم پیدا ہوتے ہیں ۔ ٫آئینہ، اردو غزل کا ایک مقبول استعارہ ہے ۔ اس کے کئی تلازمے ہیں۔ ایک تلازمہ صفائی ہے۔

چاروں طرف سے صورت جاناں ہو جلوہ گر
دل صاف ہو ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا 
آتش

    آئینہ کا ایک خاص تلازمہ"حیرانی" ہے۔ آئینہ آنکھ کی مانند ہوتا ہے۔ جب کسی پر حیرت طاری ہوتی ہے تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں ۔ آئینہ ایسی آنکھ ہے جو کبھی پلک نہیں جھپکتی ۔ یہ اس کی حیرانی کا ثبوت ہے۔

منہ تکا ہی کرے جس تس کا 
حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا 
میر تقی میر

    صوفیہ تخلیق کائنات کی وضاحت کے لئے آئینے کی تمثیل سے کام لیتے ہیں۔ ذات حق کی ایک صفت علم ہے ۔ وہ قدیم سے عالم ہے ۔ عالم کے لئے معلوم کا ہونا ضروری ہے ۔ گویا معلومات حق بھی قدیم ہے ۔ معلومات حق کو آئینوں سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ کیوںکہ وہ اپنی کوئی شکل نہیں رکھتے تھے ۔ جب ذات حق کی تجلی آئینوں پر پڑی تو ان کی شکلیں ملیں ۔ معلومات حق مخلوق میں مبدل ہوئیں ۔ گویا ساری مخلوقات ذات حق کے آئینے ہیں جن میں وہ اپنا مشاہدہ کرتا ہے ۔ تخلیق کی غایت یہ بتائی جاتی ہے کہ ذات حق ایک چھپا ہوا خزانہ تھی اس نے چاہا کہ پہچانا جائے اس لئے اس نے مخلوقات کو پیدا کیا یعنی تخلیق کی غایت خود بینی اور خود نمائی ہے۔ تخلیق ایک عمل جاریہ ہے ۔ غالب نے آئینے کے استعارے کے ذریعے اس عمل جاریہ کی خوب صورت سے تصویر کھینچی ہے :

آرائش جمال سے فارغ نہیں ہنوز 
پیش نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں 

فانی بدایونی نے آئینے کے استعارے کو ایک شعر میں مجازی اور حقیقی دونوں مفاہیم میں برتا ہے : 

کاش آئینہ ہاتھ سے رکھ کر 
تم مرے حال پر نظر کرتے 

   مجازی سطح پر معنی یہ ہیں کہ محبوب آئینے کے سامنے اپنے جمال کی آرائش میں مصروف ہے ۔ اسے کچھ غرض نہیں کہ اس کی جدائی میں عاشق پر کیا گزر رہی ہے ۔ حقیقت کی سطح پر شعر کا یہ مفہوم ہے کہ ذات حق  خود بینی اور خود نمائی میں محو ہے وہ مخلوق کی حالت سے بے نیاز ہے 

تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام