نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

حلقۂ ‏ارباب ‏ذوق ‏اور ‏ترقی ‏پسند ‏تحریک

حلقۂ ‏ارباب ‏ذوق ‏اور ‏ترقی ‏پسند ‏تحریک


حلقۂ ارباب ذوق اور ترقی پسند تحریک
حلقۂ ارباب ذوق اور ترقی پسند تحریک


فراق کے بعد اردو غزل نے اپنا بدل چولا دیا۔ بیسویں صدی کی 
تیسری اور چوتھی دہائی میں نئے ادب کی دو تحریکیں ابھریں جنھیں حلقہ ارباب ذوق اور ترقی پسند ادب کی تحریکوں کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہر دو تحریکوں نے ابتدا میں غزل سے بے اعتنائی برتی ۔ ترقی پسند اسے جاگیردارانہ عہد کی باقیات سمجھتے تھے۔ اور حلقۂ ارباب ذوق کے شعرا نے نظم میں نئے نئے تجربوں کے لیے اپنی صلاحیتیں وقف کر دی تھیں ۔ ترقی پسندوں نے غزل کی عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے محسوس کیا کہ یہ ان کے سیاسی معتقدات کے پرچار کے لیے کارآمد صنف ہے ۔فیض احمد فیض، مجروح سلطان پوری اور ساحر لدھیانوی جیسے شعرا نے غزل میں سیاسی خیالات، بغاوت اور انقلاب کے جذبات کے اظہار کے لیے غزل کی ایک نئی زبان تخلیق کی ۔ انہوں نے غزل کے معروف اور مروجہ استعاروں کو نئے تلازمے دیے لیکن ترقی پسندی کے انتہاپسندی کے دور میں جب ادیبوں، شاعروں سے یہ مطالبہ کیا جانے لگا کہ وہ اپنے خیالات کا ڈھکے چھپے انداز میں نہیں بلکہ کھل کر اظہار کریں تو ترقی پسند غزل میں نعره بازی در آئی تا ہم فیض جیسے شاعروں نے اپنی غزل کو اس رجحان سے محفوظ رکھا ۔ ذیل میں ترقی پسند غزل کا نمونہ دیا جاتا ہے۔



بیگانۂ صفت جادۂ منزل سے گزر جا
ہر چیز سزاوارِ نظارہ نہیں ہوتی
ساحر لدھیانوی

کچھ تجھ کوخبر ہے ہم کیا کیا اے سورشِ دوراں بھول گئے
وہ زلف پریشاں بھول گئے ، وہ دیدۂ گریباں بھول گئے
اسرار الحق مجاز

کیا تجھ کو پتہ، کیا تجھ کو خبر دن رات خیالوں میں اپنے
اے کاکل دوراں ہم تجھ کو کس طرح سنوارا کرتے ہیں
معین احسن جذبی

سکوں میسر ہوتو کیوں کر، ہجوم رنج و نحن وہی ہے 
بدل گئے ہے اگر چہ قاتل نظام دارو رسن وہی ہے 
علی سردار جعفری


کون تھا آخر جو منزل کے قریب
آئینے کی چادریں پھیلا گئے
احمد ندیم قاسمی

فریب پاسبانی دے کے ظالم لوٹ لیتے ہیں 
ہمیں خود اپنے گھر کا پاسباں نہیں بننے دیتے
پرویز شاہدی

ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شب
ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے
ظہیر کاشمیری

آزادیوں کے بعد وطن کی ترقیاں 
آنسو جلا کے دیکھ، ستارے بجھا کے دیکھ
شاد عارفی

شکم نے دل کی حقیقیت بھی کھول دی آخر
مقام رزق سے آگے کوئی مقام نہیں 
قتیل شفائی

ہمیں ملا ہی نہیں کوئی سایہ دار درخت
گھنیری چھاؤں میں ورنہ ذرا ٹھہر جاتے 
جمیل ملک 

اب حیات انساں کا حشر دیکھئے کیا ہو
مل گیا قاتل کو منصب مسیحائی
شاہد صدیقی 

بہ فیض مصلحت ایسا بھی ہوتا ہے زمانے میں 
کہ رہزن کو امیر کارواں کہنا ہی پڑتا ہے 
جگن ناتھ آزاد

حلقہ ارباب ذوق کے شاعر آزاد خیال تھے ۔ وہ ادب کو کسی سیاسی نظریے سے وابستہ کرنے کے قائل نہیں تھے ۔ خیالات کی براہ راست ترسیل اور تبلیغ سے بھی گریز کرتے تھے۔ انھوں نے نظم کی طرح غزل کو بھی حیات انسانی کے داخلی مسائل، نفسیاتی کیفیات کے اظہار اور درون خانہ ہنگاموں کی تصویر کشی تک محدود رکھا۔ خارجی طور پر انھوں نے غزل میں کسی طرح کی جدت طرازی نہیں کی۔


ذرے میں سورج اور سورج میں ذرہ روشن رہتا ہے
اب من میں ساجن رہتے ہیں اور ساجن میں من رہتا ہے 
قیوم نظر

گلشن کی شاخ شاخ کو ویراں کیا گیا
یوں بھی علاج تنگئ داماں کیا گیا
یوسف ظفر

تھی تو سہی پر آج سے پہلے ایسی حقیر فقیر نہ تھی
دل کی شرافت، ذہن کی وجودت اتنی بڑی تقصیر نہ تھی
مختار صدیقی

آئی تھی اک صدا کہ چلے آؤ اور میں
صحرا عبور کر گیا شوق فضول میں 
وزیر آغا

تری چاہت کے سناٹے سے ڈر کر
ہجوم زندگی میں کھو گئے ہم 
شہرت بخاری

دیکھ پھولوں سے لدے دھوپ نہائے ہوئے پیڑ
ہنس کے کہتے ہیں گزاری ہے خزاں بھی ہم نے
ضیا جالندھری




تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام