نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

اپریل, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

یو بدر

  *💠 یاد اصحاب بدر 💠*             17 رمضان المبارک 2 ھ کو حق و باطل کا پہلا اسلامی معرکہ غزوہ بدر وقوع پذیر ہوا۔جس میں 313 اصحاب رسول نے ایک ہزار کے لشکر کفار کو شکست فاش دی۔۔     جاں نثاران نبوت کے ان عظیم اصحاب کی یاد میں آج اپنے گھروں میں محفل خراج عقیدت کا انعقاد کریں کہ ان کے ذکر سے آفات وبلیات دور ہونگی اور رحمت و برکات کا نزول ہونگا۔                 اسی طرح آج ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یوم وصال بھی ھے۔ ان کی بارگاہ میں بھی خراج عقیدت پیش کرنے کی سعادت حاصل کریں۔              ان تمام اصحاب کے وسیلے سے آج افطار کے وقت پوری امت مسلمہ کے لیے اور خصوصا مسلمانان ہند کے تابناک مستقبل کے لیے دعائیں کریں۔ اللہ تبارک و تعالی اصحاب بدر کےصدقے رحمتوں کا نزول فرمائےاور اس بیماری کا دنیا سے خاتمہ فرمائے آمین۔۔ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔                   🌠المعلن 🌠      رضائے مصطفے اکیڈمی      دھرن گائوں ضلع جلگائوں

غواصی کی غزلیں مع تشریح و خلاصہ

  غواصی کی غزلیں مع تشریح و خلاصہ غزل 1 پلا مدمست اے ساقی کہ منج عادت ہے پینے کا  ہو سرخوش دور یک دھرتے کروں گا زنگ سینے کا مرا جیو پیو ہے اس جیو کے جیوں کوں سراؤں کیوں کدھیں بسروں تو مر جاؤں نہ پاؤں ذوق جینے کا  کمایا عشق کی دولت تھے میں ایسی کمائی جو کمائی کے دھنی بن واں سچر نئیں کس کمینے کا  پچن میری زباں کے آج تارے ہو نہ کیوں جھمکیں کہ ہے یو چرخ زنگاری ورق میرے سفینے کا  جیکوئی عرفان کے صاحب بچے ہیں سو کتے ہیں یوں کہ یاں تو کوئی دستا نئیں غواصی کے قرینے کا ولی دکنی اشعار کی تشریح غزل 2 عشق میں جاناں کے ثابت اچھ توں اے جاں غم نہ کھا  عہد و پیماں رکھ درست اپنا یہاں ہاں غم نہ کھا درد منداں کا سو درمان عین اس کا لطف ہے ہوے گا یک بارگی مشکل سب آساں غم نہ کھا   رات اندھاری ہوۓ کہ ہرگز تو پشیمانی نہ کھینچ  دن بی آوے گا نکل روشن ہو تاباں غم نہ کھا  مدعا بر لیانہارا سو خدا ہے ڈر نکو  غم تھے اکثر مکھ اپر پڑتیاں ہیں چھایاں غم نہ کھا لا ابالی اچھ سدا ہور ذوق کر غواصیا  ہے ترے سر پر قوی بارا اماماں غم نہ کھا غزل 3 تج نین ٹھارتے نئیں اشارت کیے بغیر چپ نارسیں منج آج او غارت کیے بغیر شربت پلا منج

غواصی کی بلند فکر و شاعرانہ کمال

  غواصی کے کلام میں بلندی فکر و شاعرانہ کمال      غواصی کو اپنی بلندی فکر اور شاعرانہ کمال کا شدید احساس تھا۔ وہ اپنے پیش رو یا ہم عصر شعرا میں کسی کواپنا مد مقابل نہیں سمجھتا ۔ واقعہ یہ ہے کہ غزل گوئی کے میدان میں غواصی نہ صرف دبستان دکن کا سب سے بڑا شاعر ہے بلکہ جدید غزل گو شعرا مومن، حسرت، جگر اور فراق سے بہت قریب نظر تا ہے۔ اس کے کلام میں بیسیوں ایسے مقطع موجود ہیں جن میں اس نے اپنی شاعرانہ صلاحیتوں اور ز مانے کی بے اعتنائی یا قدر نا شناسی کا تذکرہ کیا ہے ۔وہ ایک بڑے فن کار کی طرح اپنے ہم عصروں سے اپنے فن کی داد چاہتا ہے ۔ بلندی فکر و شاعرانہ کمال غواصی کی غزلیں  غواصی جوہراں جوتی تو لئی دھرتا جنوں میں آ  کہاں وو جوہری پارکھ جو پر کھے جوہراں میرے جکوئی عرفان کے صاحب بچے ہیں سو کتے ہیں یوں  کہ یاں تو کوئی نئیں دستا غواصی کے قرینے کا طوطیاں سب ہند کے رغبت کر یں تیوں آج خوش  شکر ستاں ہو غواصی شکر افشانی کیا   غزل قصیدہ اور رباعی، اردو اقتباس، اردو شاعری، ugc net urdu syllabus، غزل کی تعریف، اردو غزل، اخلاقی شاعری، غواصی بلند فکر و شاعرانہ کمال، دبستان دکن، غواصی کی غزلیں 

غواصی کے کلام میں اخلاقی عناصر

غواصی کے کلام میں اخلاقی عناصر غواصی ایک مردقلندر اور آزاد منش انسان تھا وہ "فقر" میں "شاہی" کرنے کے گر سے بہ خوبی واقف ہے۔ اور "دنیا کےطمطراق" کے مقابلے میں "خلوت نشینی" کو  ترجیح دیتا ہے ۔ اس کی بیش تر غزلوں میں اخلاقی اور روحانی عناصر کی کار فرمائی ہے ۔اس کی غزلوں میں متعدد ایسے اشعار موجود ہیں جن میں روحانی تعلیمات یا بلند اخلاقی معیاروں کوا پنانے اور مادّیت کی برائیوں سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ چند شعر ملاحظہ ہوں: غواصی کے کلام میں اخلاقی عناصر فقر میں کرتا ہوں شاہی اے غواص تو نکو یوں جان جو مفلس ہوں میں  غواصی کے نمن ہو توں قلندر آج اے عابد  بڑی اس ٹوکری ایسی تجے دستار تھے کیا خط دنیا کے طمطراق تھے دردمندگی بھلی یعنی زمیں کے سار سر افگندگی بھلی  ہمن عاشق دوانیاں کوں چھبیلے کسوتاں کیا کام  ہمن دبلے فقیراں کوں دنیا ہور دولتاں کیا کام  ہمن سرکوں چندوٹی بس، بلش بھر کی لنگوٹی بس سکی کھانے کوں روٹی بس قبولیاں نعمتاں کیا کام

غواصی کے کلام میں تصور محبوب

غواصی کے کلام میں تصور محبوب      غواصی کا محبوب ایک پیکر حسن و شباب اور نسوانی محاسن کا مجسمہ ہے۔ جس کی چلتی پھرتی پرچھائیاں اس کی غزلوں میں دکھائی دیتی ہیں۔ غواصی نے اپنی محبوبہ کے لیے واضح طور پر تانیث کا صیغہ استعمال کیا ہے اور بر ملا انداز میں اسے سکی، سندری، موہنی، سجانا، سجن، دھن وغیر ہ ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔اسی طرح ریختیوں میں چوں کہ اظہار عشق صنف نازک کی طرف سے ہوتا ہے اس لیے ان میں محبوب کو پیا، پیو، سائیں، یار، ساجنا، سجن، سجان، یار وغیرہ ناموں سے پکارا گیا ہے ۔ غواصی کی ریختیوں کے مطالعے سے اس صنف سخن پر اس کی غیرمعمولی قدرت اور عورتوں کی نفسیات کے شعور کا پتہ چلتا ہے۔غواصی نے نسوانی زبان، نسوانی لب ولہجہ اور عورتوں کے طرز تکلم کو فنی چابک دستی اور نفاست کے ساتھ پیش کیا ہے ۔غواصی کو صنف نازک اور اس کے مسائل سے غیر معمولی دلچسپی رہی ہے ۔ اس کی مثنویاں خاص طور پر "میناست و نتی" اور "طوطی نامہ"اس کی طبیعت کے اس رجحان کی غمازی کرتی ہیں۔  غواصی کے کلام میں تصور محبوب غواصی کی ریختیوں میں ایک شریف النفس اور شوہر پرست ہندوستانی عورت جلوہ گر ہے جو اپنے "

غواصی کے کلام میں حقیقت پسندی

  غواصی کے کلام میں حقیقت پسندی      دکنی اردو کے دوسرے شاعروں کی طرح غواصی نے بھی اپنے کلام میں مقامی ماحول اور مقامی روایات کی بھر پور ترجمانی کی ہے۔ اس کی غزلوں میں ہندوستانی ماحول، ہندوستانی طور طریقے اور تصورات یہاں کے سبزہ و گل اور مناظر قدرت کی دل کش تصویریں ملتی ہیں ۔اس کے ہاں یہ ہندوستانی محض زیان تک محدود نہیں بلکہ اس کے خیال، سوچنے کے انداز اورطرز بیان میں بھی نمایاں ہے۔      غواصی کے کلام میں حقیقت پسندی         اردو کے اکثر غزل گو شعرا کی طرح غواصی نے ہندوستان میں بیٹھ کر شیراز و اصفہان کے راگ نہیں الاپے۔ اس کے کلام میں عجمی لالہ زاروں وہاں کے  پرندوں، جانوروں، دریاؤں، پہاڑوں یا قصوں کے حوالوں کے بجائے ہندوستانی پرندوں پھولوں، پھلوں،  یہاں کے موسموں، نظا روں، در یاؤں وغیرہ کا ذکر جا بہ جا ملے گا۔ غواصی کی غزلوں میں ہندوستانی اقدار اور مقامی روایات و رجحانات کا احترام محوظ رکھا گیا ہے ۔ چنانچہ اس کے بیش تر اشعار میں حسن و عشق کے وہی مضامین اپناۓ گئے ہیں جو ہندوستانی ذوق کے مطابق ہوں۔ چند شعر ملاحظہ ہوں جن میں نہ صرف مقامی روایات کی ترجمانی کی گئی ہے بلکہ ان کے اشعار کے خ

غواصی کے کلام کی سادگی و سلاست

  غواصی کے کلام کی سادگی و سلاست       غواصی کے کلام کی سب سے نمایاں خصوصیت اظہار بیان کی سادگی، سلاست اور بے ساختگی ہے لیکن جو چیز اس کو دکنی اردو کے متغزلین میں ایک منفرد مقام بخشتی ہے اور اردو کے صف اول کے شعرا میں لا کھڑا کرتی ہے وہ تاثر کی فراوانی، سوز و گداز اور شعریت ہے۔ غواصی کوزبان و بیان پر بڑی قدرت حاصل ہے ۔ اس کے کلام میں تازگی اور شگفتگی ہے اس کے انداز میں ایک اعتدال، ٹھہراؤ اور توازن نظر آ تا ہے۔ اس کی آواز رچی ہوئی اور مصفا ہے ۔اس کا لہجہ دل نشین اور اپنے پیش رو یا معاصر ین سے مختلف ہے ۔وہ دراصل دکنی غزل کے ایک نئے اسکول کا بانی ہے جس کی زمانۂ مابعد کے بلند پایہ شاعروں خصوصاً ولی اور سراج نے پیروی کی ہے ۔غواصی کی شاعری بنیادی طور پر حسن وعشق کی شاعری ہے ۔ جذبات و احساسات کی موثر ترجمانی اورقلبی واردات کی فن کارانہ عکاسی کی وجہ سے اس کی بیش تر غزلیں غنائیت کے کیف وسرور میں ڈوبی ہوئی معلوم ہوتی ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ باوجود انتہائی سادگی کے کلام میں بلا کا اثر ہے۔ تاثر کے ساتھ اس کے کلام میں سوز و نشتریت اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے ۔ وہ پر درد سروں کو غزل کے ساز

جیل بھرو آندولن

جیل بھرو آندولن   علمائے کرام ، ائمہ مساجد مشائخ عظام و اصحاب ثروت سے گزارش  21 رمضان المبارک  4 مئی  کو ان شا اللہ جیل بھرو آندولن کرنا ہے ، جیل بھر و آندولن کا یہ فیصلہ بہت غور و فکر کے بعد ہی لیا گیا ہے، لیکن اسے کامیاب بنانے کے لئے ہمیں آپ کی دعاؤں کی بھی ضرورت ہے اور تعاون کی بھی، ہمیں ہر شہر میں دو طرح کے افراد کی ضرورت ہے ایک وہ جو سامنے آکر گر فتاری دینے کو تیار ہوں دوسرے وہ جو پیچھے سے ذہن سازی کر کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو گر فتاری کے لئے آمادہ کر میں اور ضرورت کے مطابق قانونی و مالی امد اد کر کے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر سکیں۔ لہذا آپ سے گزارش ہے کہ آپ اپنے حصے کا کام شروع کر دیں، پنج وقتہ و جمعہ کی نمازوں میں ذہن سازی کر میں، مشائخ اپنے مریدین کی زہن سازی کر میں اور اپنے اند رونی اختلافات کو ناموس رسالت ﷺ پر قربان کر کے ہر طرح کے افراد کو جمع کر میں، جو جس کام کے لائق ہو اسے اس کے لئے آمادہ کر میں تا کہ ہم سب مل کر ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت کے لئے اپناحصہ پیش کر سکیں۔ ہمیں امید ہے کہ آپ بغیر کسی د نیا دار کی مروت و اپنے ذاتی مفاد سے بالا تر ہو کر جیل  بھرو آندولن کو ک

غواصی کی غزل گوئی

  غواصی کی غزل گوئی       موجودہ معلومات کی روشنی میں غواصی ایک بلند پایہ غزل گو، بے مثال مثنوی نگار اور باکمال قصیدہ گو کی حیثیت سے سامنے آتا ہے۔ اس کی تین مثنویاں 1 مینا ست و نتی، 2 سیف الملوک و بدیع الجمال، 3 طوطی نامہ اس کے علاوہ غزلوں، قصیدوں، رباعیوں، مرثیوں، اور موضوعاتی نظموں پر مشتمل دیوان بھی شائع ہو چکا ہے ۔ غواصی نے اپنے کلام میں نہ کسی پیش روشاعر کا تذ کر کیا ہے اور نہ کسی ہم عصر شاعرکو وہ اپنا مد مقابل سمجھتا ہے جب کہ دکنی اردو کے دیگر بلند پایہ شاعروں نے اپنے کلام میں گزرے ہوئے یا ہم عصر شاعروں کا ذکر نہ صرف بڑی عزت واحترام سے کیا ہے بلکہ ان کو کامل الفن اور اپنا استاد سخن بھی کہا ہے ۔ جیسے محمد قلی قطب شاہ اور وجہی نے اپنے پیش رو اساتذۂ سخن کی حیثیت سے فیروز اور محمودکو یاد کیا ہے ۔ یہی حال ابن نشاطی کا ہے جس نے اپنی مثنوی’’پھول بن‘‘ میں دکنی اردو کے چار بلند پا یہ شعرا ء فیروز، سیدمحمود، ملا خیالی اور شیخ احمد کا ذکر بڑی عزت و احترام کے ساتھ کیا ہے ۔خود غواصی کو اس کے ہم عصر شعرا میں مقیمی اور نصرتی نے اور زمانۂ مابعد کے سخن وروں میں غوثی بیجا پوری، عشرتی، سید اعظم او

غواصی کے حالات زندگی

غواصی کے حالات زندگی       ملک الشعراء ابو محمد غواصی قطب شاہی دور ایک عظیم المرتبت سخن ور ہے۔ اس شہرت اور نام وری کا یہ عالم ہے کہ میر حسن، میر تقی میر اور قائم نے اپنے تذکروں میں غواصی کا ذکر کیا ہے جب کہ دکنی اردو کے دوسرے بلند پایہ شعرا جیسے محمد قلی قطب شاہ، ملک الشعراء وجہی، ابن نشاطی، نصرتی وغیرہ ان تذکروں میں جگہ نہ پا سکے لیکن اس کے باوجود اس کے واقعات حیات پر تاریکی کا پردا پڑا ہوا ہے۔ اس کا پورا نام، سنہ ولادت، تعلیم وتربیت، عمر، سنہ وفات، اور خاص طور پر آخری زمانے کے حالات کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ البتہ درمیانی زندگی بارے میں کچھ واضح نقوش ضرور مل جاتے ہیں۔

ملک الشعراء غواصی

  ملک الشعراء غواصی      اس اکائی میں قطب شاہی دور کے عظیم المرتبت شاعر ملک الشعراء غواصی کی حیات اور غزل گوئی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ابتداً اس کے واقعات حیات اور ادبی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے اور پھر اس کی غزل گوئی کی خصوصیات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔       غواصی دکنی اردو کا ایک قادر الکلام شاعر تھا۔ اس نے محمد قلی قطب شاہ کے عہد میں شاعری کا آغاز کیا۔ عہد محمد قطب شاہ میں دیگر دکنی شعرا کی طرح گمنام رہا لیکن عبد اللہ قطب شاہ کے دور میں اس نے ایک با کمال سخنور کی حیثیت سے شہرت حاصل کی ۔ سلطان عبداللہ نے اس کو نہ صرف اپنے دربار کا ملک الشعرا مقر ر کیا بلکہ شاہی سفیر کی حیثیت سے بیجا پور روانہ کیا اور "فصاحت آثار ‘‘ کے خطاب سے بھی نوازا۔       غواصی نے تین مثنویاں " مینا ست ونتی " ،سیف الملوک و بدیع الجمال " اور طوطی نامہ " کے علاوہ ایک کلیات بھی اپنی یادگار چھوڑا ہے جس میں قصیدے، غزلیں، رباعیاں، نظمیں اور مرثیے سبھی اصناف سخن موجود ہیں۔      جہاں تک غزل گوئی کا تعلق ہے، غواصی دبستان دکن کا سب سے بڑا شاعر ہے ۔ انداز بیان کی سادگی، روانی اور سلاست، تاثر کی

ماہ رمضان کی برکتیں

 قسط۔۔۔2     *💠برکات ماہ رمضان💠*                  اسلامی سال کا نواں مہینہ رمضان المبارک ھے جو بڑی رحمتوں برکتوں والا ہے۔ اللہ تبارک وتعالی کا ہم پر کتنا بڑا احسان عظیم ہےکہ ہمیں امت محمدیہ میں پیدا فرما کر رمضان المبارک جیسی عظیم نعمت سے سر فراز فرمایا۔ اس کی ہر ساعت رحمت و برکت بھری ہے۔اس مہینے میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گنا کر دیا جا تا ہے۔ایک حدیث پاک کےمطابق ایک بار درود شریف پڑھیں توایک لاکھ درود شریف کا ثواب ملتاہے۔ایک اور حدیث میں آتا ہے جو کوئی رمضان المبارک میں ایک بار سبحان اللہ کہے اس کو اس قدر ثواب ملے گا جو غیر رمضان میں ایک لاکھ بار کہنے پر ملتا ہے۔ اسی ماہ میں قرآن مجید کا نزول ہوا اور اسی ماہ میں ایک رات لیلتہ القدر ہے جو ہزار راتوں سے افضل ہے۔اس ماہ میں مرنے والا مومن سوالات قبر سے محفوظ رہتا ہے۔         سبحان اللہ ۔۔۔سبحان اللہ                   اس ماہ مبارک کی نعمتوں، برکتوں کے حصول کے لیے چند تجاویز پیش خدمت ھے۔ 🔹 پنج وقتہ باجماعت نماز خشوع وخضوع اور اطمینان وسکون کے ساتھ  پابندی سے ادا کیجیے۔ 🔹نماز و روزے کے مسائل کو اچھی طرح کسی مستند عا

استقبال ماہ رمضان

قسط۔۔۔۔1      *🏵 استقبال ماہ رمضان 🏵*              اللہ تبارک وتعالی کا کروڑ ہا کروڑ شکر واحسان ھے کہ اس نے ہمیں پھر سے ماہ رمضان المبارک کی مسعود ومبارک ساعتیں نصیب فرمائی ۔ ماہ رمضان المبارک جو ہم پر اللہ تعالی کا عظیم انعام ہے ،اس کی آمد پر اسی طرح خوشی و مسرت کا اظہار اور استقبال کے لیے ایسا ہی ذوق وشوق ہو نا چاہیے جیسا کہ اس کاحق ہے۔               حضرت سیدنا ابراہیم برہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول محتشم رحمت عالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو خوش خبری سناتے ہوئے ارشاد فر مایا کر تے تھے کہ رمضان کا مہینہ آگیا ہے جو کہ بہت ہی بابرکت ہے۔۔ اللہ تبارک و تعالی نے اس کے روزے تم پر فرض کیے ہیں۔اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جا تے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں ۔سر کش شیطانوں کو قید کردیا جا تا اس میں ایک رات شب قدر ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے ۔( تنبیہ الغافلین)      سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا کہ رمضان المبارک کے آنے سے خوش ہونے والے کو اللہ عزوجل قیامت کے غم سے بچائے گا۔( انیس الواعظین )     امیر ا

محمد قلی قطب شاہ انتخاب کلام

  انتخاب کلام غزل 1 پیا باج پیالہ پیا جائے نا پیا باج یک تل جیا جائے نا کہے تھے پیا بن صبوری کروں کھیا جائے اما کیا جائے نا نہیں عشق جس وہ بڑا کوڑ ہے کدھیں اس سوں مل بیسیا جائے نا قطب شہہ نہ دے مجھ دوانے کو پند دوانے کوں کچ پند دیا جائے نا

رمضان المبارک کا چاند

   چاند دیکھنا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھنا شروع کرو اور چاند دیکھ کر افطار (عید) کرو۔اور اگر ابر ہو تو شعبان کی گنتی تیس پوری کرلو۔ (بخاری و مسلم )   🔹مسئلہ۔۔پانچ مہینوں کا چاند دیکھناواجب کفایہ ہے۔..شعبان، رمضان، شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ۔ 🔹چاند دیکھ کر دعا پڑھیں۔۔۔جو نیچے درج ھے۔ 🔹جو شخص ماہ رمضان المبارک کا چاند دیکھ کرحمدوثنا بجا لائے اور سات مرتبہ سورہ فتح پڑھ لے تو اسے مہینہ بھر آنکھوں میں کسی بھی قسم کی شکایت نہیں ہوگی۔( نزہتہ المجالس ج اص 575)  آج 29 شعبان المعظم ھے چاند دیکھنے کی کوشش کیجیے۔۔۔  🖋کلیم احمد قادری  💠رضائے مصطفے اکیڈمی 💠 دھرن گائوں، ضلع جلگاؤں،مہاراشٹر

محمد قلی قطب شاہ کی غزلوں میں صنائع و بدائع مع مثالیں

محمد قلی قطب شاہ کی غزلوں میں صنائع و بدائع مع مثالیں محمد قلی کی بیش تر غزلیں صنائع بدائع کے حسن سے آراستہ ہیں۔ اس کے کلام میں مراعات النظیر، حسن تعطیل، تضاد، سوال و جواب وغیرہ کی صنعتیں موجود ہیں۔ چند شعر ملاحظہ ہوں۔ صنائع بدائع کجل نیناں سہیلیاں کے سو پر مل سیام باداماں تُھڈی ہے سیب دستاں جوں کہ چارولیاں ہیں چاریاں کی حسن تعلیل تج کتا ہوں اے شمع اپ روشنی تھے سر نہ کھینچ مارتے ہیں دم بہ دم گردن کہ توں ہے بے حیا تضاد سب مست گج گنبھیر جوں، قدر است دھرتے تیر جوں آہستگی میں نیر جوں، بیگی منے بارے اہیں سوال و جواب کہ یا کہ عاشقاں کو دکھانے کا بھید کیا کھیے کہ عاشقی منے گونگی زبان کرو      صنائع و بدائع کے استعمال کے علاوہ محمد قلی نے اپنی غزلوں میں تکرار صوتی (alliteration) اور اندرونی قوافی کی مدد سے بھی ایک لے یا جھنکار پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے متعدد غزلوں میں چار چار اور اس زیادہ قافیوں کا بڑے سلیقے سے استمعال کرکے نغمگی اور موسیقیت کا احساس پیدا کیا ہے۔ سہیلیاں جب بچن بولیں، نچھل نرمل رتن رولیں  پنکھی جیواں کے مرغولیں دیکھت کھولیں پراں خوشیاں چندر غواص ہو آیا، گگن سمندر بھیتر د

محمد قلی قطب شاہ کی ریختی گوئی

محمد قلی قطب شاہ کی ریختی گوئی              محمد قلی کے کلام میں ریختی کے نمونے    بھی  خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ اس قبیل کی غزلوں کے مطالعے سے محمد قلی کی قادر البیانی اور بے پناہی شعری صلاحیتوں کے علاوہ عورتوں کی نفسیات کے شعور کا بھی پتہ چلتا ہے۔ محمد قلی نے نسوانی زبان اور نسائی پب و لہجہ میں صنف نازک کے جذبات و احساسات کی بڑی موثر ترجمانی کی ہے۔ اس نے غزلوں کے مقابلے میں ریختیاں زیادہ ڈوب کر کہی ہیں اس لیے ان میں زیادہ نکھار اور تاثر کی فراوانی نظر آتی ہیں۔ موزوں الفاظ، دل کش تراکیب، حسین استعارات اور خوب صورت تشبیہات کے ذریعے اس نے اپنی محبوباؤں کو گویائی عطا کی ہے۔ جن پیو تھے بچھڑے اسے سنسار میں نئیں کچ خط جس ٹھار میں وہ پیو نئیں اس ٹھار میں نئیں کچ خط مرے  سیج  آرے  مرے  ساجنا  دو ہاتھوں میں لے لے یہ دو جو بناں پیا بچھڑا ہے منج کوں دکھ گھنیرا نہ جانو کب ملے گا پیو میرا ترے درسن کی ہوں میں سائیں ماتی مجھے لاؤ پیا چھاتی سوں چھاتی ریختہ کی تعریف، غزل کے موضوع، ریختی مثال، محمد قلی کی ریختی گوئی، ریختی کے اشعار، قلی قطب کے کلام کی سادگی، غزل قصیدہ اور رباعی، ugc net urdu syllabus،

محمد قلی قطب کی شاعری میں مذہبی رنگ

محمد قلی قطب کی شاعری میں مذہبی رنگ محمد قلی کی غزلوں میں حسن وعشق کے ساتھ ساتھ مذہبی رنگ بھی شدت سے ظاہر ہوتا ہے۔ ان کی بیشتر غزلیں "نبی کے صدقے" اور "علی کے صدقے" سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں شک نہیں کی محمد قلی مذہب پر بھر پور عقیدہ رکھتا ہے اور مذہبی ریت رسوم پر بھی چلتا ہے لیکن مذہب کی حقیقی روح سے اس کی شخصیت اور شاعری دونوں عاری ہے۔ اسے صرف مذہب کے تہذیبی پہلوؤں سے دلچسپی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ اپنی عیش کوشی کو بھی "نبی" اور "علی" کا صدقہ قرار دیتا ہے۔ مذہبی نظموں کے علاوہ اس کی غزلوں میں "نبی کے صدقے" اور "علی کے صدقے" سے شروع ہونے والے بے شمار قطعے موجود ہیں۔ نبی صدقے قطب جم عیش کر عیش کہ تجھ در پر کھڑے ہے فتح و اقبال محمد ہور علی کا ناؤں لے کر قطب شہہ جینتیا  سو چنچل کے دو جو بن گڑتس اوپر کے بھی تن تعویذ نبی صدقے بارہ اماماں کرم تھے کرو عیش جم بارہ پیاریاں سو پیارے      محمد قلی کو مذہب اس لئے عزیز ہے کہ اس کی مدد سے زندگی حکومت، دولت، عروج اور دینی اعزاز حاصل ہوا ہے۔ حمد و نعت مناجات و منقبت کے علاوہ اس نے عید میلاد،

محمد قلی قطب اور ہندوستانیت

محمد قلی قطب اور ہندوستانیت محمد قلی قطب شاہ ہندوستانیت کا بہت بڑا پرستار ہے۔ اس کی رگ و پے میں ہندوستان کی تہذیب سرایت کر گئی ہے۔ وہ ہندوستان کی ہر نمایاں اور مشہور رسم اور تہوار کے علاوہ وضع قطع کو اپنے خیالات میں بسا لینا چاہتا ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ اس نے اپنے آباو اجداد کی روش سے ہٹ کر کی وضع قطع اور لباس اختیار کیا۔ قطب شاہی سلاطین میں وہ پہلا بادشاہ ہے جس نے داڑھی کی بجائے مونچھ رکھی۔ گلے میں ہندوؤں کی طرح کپڑا (انگ وسترم ) ڈالا اور قاقم وسنجان و سمور کے کوٹ اور کنچوں کی جگہ دکن کے موسم کے لحاظ سے دیسی ململ کے سادہ کپڑے زیب تن کیے۔ محمد قلی کی غزلیں نہ صرف ہندوستانی عیدوں، تہواروں، موسموں، پھلوں، پھولوں، پرندوں، کھیلوں وغیرہ کی مکمل ترجمانی کرتی ہیں بلکہ ہندوستانی عوام کے طور طریقوں، رسومات، معتقدات اور توہمات کی آئینہ دار بھی ہیں۔ محمد قلی کی تشبیہوں، استعاروں اور تلمیحوں میں بھی ہندوستانی تہذیب کی روح رچی بسی ہوئی ہے۔ محمد قلی کی تخلیقات کا بیشتر مواد اس کے گردوپیش کے حالات اور مقامی ماحول کے گونا گوں تجربات سے حاصل کیا ہوا ہے جو تشبیہوں، استعاروں، تلمیحوں او

محمد قلی قطب اور تصور محبوب

 محمد قلی قطب اور تصور محبوب دکنی اردو کے دوسرے متغزلین کی طرح محمد قلی کا تصور محبوب اردو شاعری میں ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ یہ محبوب تصوری و خیالی پیکر نہیں بلکہ اسی عالم رنگ و بو میں رہنے بسنے والا گوشت پوست کا مادی اور مجازی محبوب ہے ۔ محمد قلی کے یہاں محبوب کی جنس مبہم نہیں رہتی بلکہ برملا انداز میں وہ اس کے لیے صیغۂ تانیث کا استعمال کرتا ہے اور اسکی سہیلی، دھن، سودھن، ناری، پیاری، پدمنی، سندری، ٹھنی، سانولی، گوری، چھبیلی، کنّولی، پدمنی، ہندی چھوری وغیرہ ناموں سے یاد کرتا ہے۔ چند شعر دیکھئے دھن سیس پر پھولاں جڑے انبر پہ جوں تارے جڑے حوراں ملک دیکھن کھڑے دستن تماشا یو بڑا  ایسی سندر کوں پایا ہوں خدا کے رحم تھے قطبا  جو حوراں ہور ملک دیکھ کر ہوے حیران سارے ہیں عشق کی پتلی ہے فوری رنگیلی  چتر نیناں میں دستی ہے چھبیلی برستا سیس تیرے نور جلوہ نہ دیکھی تجھ سی کوئی سندر سہیلی رنگیلی سائیں تھے یوں رنگ بھری ہے  سگڑ سندر سہیلی گن بھری سے 

محمد قلی کی غزل گوئی اظہار بیان کی سادگی

   محمد قلی کی غزل گوئی اظہار بیان کی سادگی      محمد قلی قطب شاہ اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر ہے۔  گولکنڈے کے چھٹے حکمراں اور محمد قلی کے بھتیجے اور داماد سلطان محمد قطب شاہ نے 1616 میں کلیات محمد قلی کو مرتب کرکے اس پر ایک منظوم مقدمہ بھی تحریر کیا تھا۔  محمد قلی کو اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر ہونے کے علاوہ یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے صنف  غزل پر سب سے پہلے با قاعد طبع آزمائی کی ۔ تعداد اور تنوع کے اعتبار سے جتنی غزلیں محمد قلی قطب شاہ کے یہاں ملتی ہیں اتنی دکنی اردو کے کسی اور شاعر کے دیوان میں نہیں ملتیں ۔       محمد قلی نے ایک ایسے دور میں غزل کی صنف پر خصوصی توجہ دی جب کہ دبستان دکن میں مثنوی کا طوطی بول رہا تھا۔ محمد قلی سے قبل دکنی اردو میں غزل کی روایت نہایت کمزور تھی۔ صرف مشتاق، لطفی، فیروز، محمود اور ملاخیالی کی اکا دکا اور متفرق غزلیں ہی کل کائنات غزل تھی ۔ محمد قلی نے یوں تو تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی لیکن بنیادی طور پر وہ غزل کا شاعر ہے۔  مثنویوں اور رباعیوں کو چھوڑ کر اس کا سارا کلام غزل کی ہئیت میں ہے یہاں تک کہ اس کی وہ تخلیقات بھی جنھیں ڈاکٹر زور اور ڈاکٹر سی