نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

فروری, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

اردو غزل کا آغاز اور ارتقاء

اردو غزل کا آغاز اور ارتقاء  Urdu Ghazal ka aagaz o irtaqa اردو غزل کا آغاز و ارتقا تمھید گزشتہ اکائی میں ہم نے غزل کی صنف ، اس کی فنی خصوصیات اور غزل کے موضوعات کا جائزہ لیا۔ اس اکائی کے مطالعے کے بعد آپ غزل کی صنف سے پوری طرح روشناس ہوچکے ہیں ۔ اب ہم آ پ کو بتائیں گے کہ اردو میں غزل کی صنف کی ابتدا کس طرح سے ہوئی ۔ دکن کے شاعروں نے اس صنف کی کس طرح آبیاری کی شمالی ہند کے فارسی گو شاعروں نے ولی کا اثر قبول کیا اور اردو میں غزل کہنے لگے ۔ دہلی کی تباہی کے بعد اردو شاعری کا مرکز لکھنؤ میں منتقل ہوا ۔ دربار لکھنؤ کے عیش و عشرت کے ماحول نے غزل کی فطری سادگی کو متاثر کیا اور اس کا معیار پست ہوگیا دہلی میں جب  اردو شاعری کا احیا ہوا تو غالب، مومن اور ذوق جیسے غزل گو شاعروں نے اس صنف کو نئی بلندیوں سے آشنا کیا۔بعد کے دور میں غزل پھر انحطاط کا شکار ہوئی لیکن حسرت اور ان کے معاصرین نے اس صنف کو سنبھالا دیا ۔ بعد ازاں ترقی پسند شعرا نے غزل کے استعاروں کو نئے تلازمے دیے۔ ترقی پسند تحریک کے بعد جدیدیت کا رجحان فروغ پایا۔ جدیدیت نے غزل کی زبان میں انقلابی تبدیلی پیدا کی اور اس کے استعاروں کے

غزل کے دیگر موضوعات ‏حیات ‏و ‏کائنات ‏زندگی

عشق مجاز اور تصوف کے علاو اردو کی غزلیہ شاعری کے دیگر موضوعات کا شمار نہیں ۔ حیات و کائنات کے گونا گوں مسائل پر غزل گو شاعروں نے غور و خوض کیا ،زندگی ہو برتا ، قریب سے دیکھا اور محسوس کیا   قوت متخیلہ سے کام لے کر ایک استعاراتی کائنات تخلیق کی جس کا مرکز انسان تھا۔ ان کے پیش نظرزند گی کے سبھی رنگ و روپ تھے۔ ایک طرف صدیوں کی تاریخ تھی، تہذیبی اور سماجی ورثہ تھا  مذہبی اور  اخلاقی قدریں تھیں  دوسری طرف انسان کے نفسیاتی  اور وجودی کے  مسائل تھے۔ غزلیہ شاعری نے انسانی زندگی کے سارے معاملات کا احاطہ کیا انہیں عشق کی زبان عطا کی ۔ غزل کا واحد متکلم عاشق ہے جس کےمعاملات محبوب سے بھی ہیں اور خدا سے بھی برسر اقتدار قوتوں اور سماج کے ٹھیکیداروں سے بھی ہیں  یہ عاشق ایک آزادمنش رند ہے ساری کائنات جس کے لیے سے کدہ ہے اس مے کدے کی اپنی قدریں ہیں ۔ وہ ریا کاری ،مکر وفریب، استحصال اور ظلم و استبداد سے نبردآزما ہوتا ہے۔ غزلیہ شاعری کا یہ کردار جو رند منش  عاشق ہے انسان کے وجوی کرب اور داخلی احساسات و جذبات سے بھی سرو کار رکھتا ہے۔ زندگی کی غایت کی تلاش اور مقاصد حیات کا تعین بھی اس کے فکر و وجدان کا م

غزل ‏کا ‏موضوع ‏عشق ‏حقیقی ‏اور ‏تصوف ‏پر ‏شاعری

عشق مجازی ہے بعد غزل کا خاص موضوع عشق حقیقی اور تصوف ہے ۔ تصوف کے موضوع کے بارے میں کہا گیا ہے کہ " برائے شعر گفتن خوب است " لیکن یہ بات درست نہیں ۔ صوفی شاعروں نے اپنی واردات کا اظہار غزل میں کیاہے اس کے علاوہ فلسفۂ تصوف کی اصطلاحوں میں شاعروں نے حیات و کائنات کے مختلف مسائل کے بارے میں اپنے نظریات اور خیالات کا اظہار کیا ہے: مختلف مسائل کے بارے میں اپنے نظریات اور خیالا ت کا اظہار کیا ہے خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی نہ تو رہا نہ میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی سراج نا حق  ہم مجوروں پر یہ  تہمت  ہے مختاری کی چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا میر تقی میر ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں اپنے سوائے کس کو موجود جانتے ہیں میر تقی میر مہر ہر ذرے میں مجھ کو ہی نظر آتا ہے تم بھی ٹک دیکھو تو صاحب نظراں ہے کہ نہیں مرزا رفیع سودا ارض و سا کہاں ترکی وسعت کو پا سکے میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے درد دل ہر قطرہ ہے ساز انا لبحر ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا مرزا غالب حسن پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کا ہوشیار رہی ہے کہ جو دیوانہ ہے اس کا آتش گم جب سے کیے بیش ت

غزل کا موضوع عشق ،عشقیہ جذبات و احساسات پر شاعری

 غزل کا خاص موضوع عشق ہے غزل کا واحد متکلم عاشق ہوتا ہے ۔ غزل میں وہ اپنے عشقیہ جذبات و احساسات  کا اظہار کرتا ہے وہ محبوب کے حسن سے متاثر ہوتا ہے اور اسکی سراپا تشبیہات اور استعاروں کے ذریعے تصویر کشی کرتا ہے۔ سراپا نگاری کے علاوہ معاملات عشق کا بیان ہوتا ہےوصل و فراق کی کیفیات بیان ہوتی ہیں ۔ چند شعر ملاحظہ ہوں : Urdu poetry ولی اس گوہر جان  حیا  کی  کیا کہوں خوبی میرے پہلو میں یوں آوے ہے جیوں سینے میں راز آوے ولی تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا ج جادوہیں تیرے نین غزالوں سے کہوں گا ولی نازکی اس کے لب کی کیا کہیے  پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے میر تقی میر یاد اس کی اتنی خوب نہیں میر باز آ نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا میر تقی میر Romentic urdu poetry مت پوچھ یہ کہ رات کٹی کیوں کہ تجھ بغیر اس گفتگو سے فائدہ؟ پیارے!  گزر گئی سودا  ہم نشیں پوچھ نہ اس شوخی کی خوبی مجھ سے کیا کہوں تجھ سے غرض جی کو مرے بھاتا ہے درد گرچہ ہے طرز تغافل پردہ دار راز عشق  پر ہم ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے مرزا غالب کیا کیجئے کہ طاقت نظارہ ہی نہیں جتنے وہ بے حجاب ہیں ہم شرم سار ہیں مومن خاں مومن Is

صنائع معنوی

صنائع معنوی   صنائع معنوی سے شعر کی معنوی خوبیاں واضح ہوتی ہیں ۔ ذیل میں چند خاص صنعتوں کی تفصیل دی جارہی ہے صنعت تضاد 1 شعر میں ایسے الفاظ لائے جائیں جو معنوی میں ایک دوسرے کی ضد ہو اس کو صنعت طباق بھی کہتے ہیں۔ اگر دو متضاد معنی کے لفظ لائے جائے تو اسے طباق ایجابی کہیں گے صنائع لفظی کسے کہتے ہیں کنایہ کسے کہتے ہیں گاہ جیتا ہوں گاہ مرتا ہوں  آنا جانا تیرا قیامت ہے  اس شعر میں "جیتا" "مرتا"  اور "آنا "جانا”متضاد لفظ ہیں   اگر حروف نفی کسی کے ساتھ معنی میں تضاد ہو تو اسے طباق سلبی کہتے ہیں۔ صبر کہاں جو تم کو کہیے لگ کے گلے سے سوجاؤ بولو نہ بولو بیٹھو نہ بیٹھو کھڑے کھڑے ٹک ہو جاؤ میر تقی میر تشبیہ اور انکی قسمیں   2 صنعت ایہام شعر میں ایسا لفظ لایا جائے جو ذو معنی ہو۔ ایک قریبی مفہوم ہو جس کی طرف فوری ذہن منتقل ہو اور دوسرا مفہوم بعید ہو جو غور کرنے پر کھلے ۔ شاعر کا مفہوم بعید ہوتا ہے ہم سے عبث ہے گمان رنجش خاطر  خاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے مرزا غالب غبار کے قریبی معنی دھول ہے معنی بعید رنجش ہے اور یہی شاعر کی مراد ہے ۔ 3 صنعت مراعات النظیر شعر میں ایسے لف

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

کنایہ

مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے ۔ مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے لغت میں پوشیدہ بات کہنے کو کنایہ کہتے ہیں۔👈 علم بیان میں کنایہ وہ لفظ یا الفاظ ہیں جو حقیقی معنوں میں مستعمل نہ ہوں بلکہ ان سے غیر حقیقی معنی مراد ہوں لیکن  حقیقی معنی بھی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ نہیں ہوس وقت جوش مستی قد خمیدہ سے تو حیا  بتوں کا بندہ رہے گا کب تک خداخدا کر، خداخدا کر ہوس اس شعر میں قد خمیدہ کنایہ ہے عالم پیری سے

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

استعارہ اور تلازمے

مجاز کی دوسری قسم استعارہ ہے۔ استعارہ کی بنیاد تشبیہ پر ہوتی ہے۔ تشبیہ میں مشبہ اور مشبہ بہ میں مشابہت دکھائی جاتی ہے جب کے استعارے میں مشابہت کی بنا پر مشبہ کو مشبہ بہ ٹھہراتے ہیں ۔ اگر یہ کہا جائے کہ احمد شیر کی طرح بہادر ہے تو یہ تشبیہ ہوگی۔ لیکن بہادری کے وصف کی بنا پر احمد کو شیر کہا جائے تو یہ استعارہ ہوگا ۔  استعارہ کا موضوع چمن، گلستاں   استعارہ کا موضوع ساقی شراب و زاہد استعارہ کا موضوع قتل قاتل زخم خنجر        استعارے میں مشبہ کو مستعارلہ اور مشبہ بہ کو مستعار منہ کہتے ہیں اور وجہ شبہہ وجہ جامع کہلاتی ہے۔ یہ شوخی نرگس مستانہ ہم سے  چھلک کہ رہ گیا پیمانہ ہم سے  شان الحق حقی " نرگس مستانہ " استعارہ ہے محبوب کی آنکھ کا جو نرگس کے مشابہہ ہے اور جس سے مستی جھلک رہی ہے ۔ شعر میں آنکھ کا ذکر نہیں جس کو نرگس سے تشبیہ دی گئی ہے ۔          اردو غزل کی زبان بڑی حد تک استعارتی ہے ۔ ہر استعارہ تشبیہ کے مختلف علاقے رکھتا ہے جنھیں تلازمہ کہتے ہیں ۔ مثلاً گلشن ، گلستاں یا چمن کے تلازمے ہیں : زندگی ،دنیا ،وغیرہ۔ کبھی شعر میں ایک ہی استعارہ بہ یک وقت مختلف تلازموں کے ساتھ برتا جاتا

تشبیہ اور انکی قسمیں

:صنعت مجاز پہلے ہم مجاز کی تشریح کریں گے اور بتائیں گے کہ ان سے شعر میں ایجاز کے علاوہ اور کیا فائدے اٹھائے جاتے ہیں ۔ اگر کلام میں لفظ کو لغوی معنی میں برتا جائے تو اسے حقیقت یا حقیقی معنی کہیں گے اس کے بر خلاف لفظ سے ایسے معنی مراد لیں جو اس کےحقیقی معنی نہ ہوں تو اسے مجاز کہیں گے۔مجاز کی چار قسمیں ہیں۔ تشبیہ استعارہ مجاز مرسل  کنایہ :تشبیہ تشبیہ میں ایک چیز کو دوسری چیز سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے م میرتقی میر اس شعر میں لب کو گلاب کی پنکھڑی سے تشبیہ دی گئی ہے۔دونوں کی مشترکہ خصوصیات نزاکت ہے _____________________________________________________ تشبیہ کے پانچ اجزاء ہوتے ہیں۔- مشبہ = جس کو تشبیہہ دی جائے اس شعر میں 'لب' مشبہ ہے -مشبّہ بہ = جس سے کسی چیز کو تشبیہہ دی جائے ۔ متذکرہ شعر میں 'گلاب کی پنکھڑی' مشبّہ بہ ہے۔ -وجہ تشبیہہ = وہ خصوصیت جس کی وجہ سے تشبیہ دی گئی ۔ شعر میں 'نزاکت' وجہ شبہ ہے ۔  غرض تشبیہہ = جس مقصد سے تشبیہہ دی گئی ۔ یہاں غرض تشبیہہ 'لب کی نزاکت' کو ظاہر کرنا ہے۔ -حروف تشبیہہ = وہ حروف جن

حذف ایما اور ایمائیت

حذف ایما اور ایمائیت غزل کا ہر شعر معنوں کے لحاظ سے مکمل ہوتا ہے۔اس کا دوسرے شعر یا اشعار سے معنوی ربط ہونا ضروری نہیں۔اگر تمامعار میں خیال کا تسلسل ہوتو ایسی غزل کو غزل مسلسل کہیں گے۔ غزل کے ایک شعر یعنی دو مصرعوں میں کسی وسیع مضمون کو ادا کرنا ہوتا ہے جو آسان نہیں ۔ اس کے لئے شاعر مختلف تدابیر اختیار کرتے ہیں۔ایک طریقہ یہ ہے کہ بات کے کسی حصے کو حذف کردیا جائے ۔ اور اس طرف اشارہ کردیا جائے غزل کی صنف اور ہئیت :مومن کا شعر ہے یہ عذر(بہانہ-کوتاہی) امتحان جذب دل کیسا نکل آیا میں الزام اس کو دیتا تھا قصور(غلطی) میرا نکل آیا  اس شعر میں یہ بات مخذوف ہے کہ عاشق نے محبوب کو کیا الزام دیا ۔ عذر امتحان جذب دل سے اشارہ ملتا ہےکہ الزام کیا تھا ۔محبوب نے عاشق سے ملاقات کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ نہیں آیا ۔ عاشق اس پر وعدہ خلافی کا الزام لگاتا ہے ۔ محبوب نے جواب دیا کہ میں تمھارے جذب دل کا امتحان لے رہا تھا ۔ اگر تمھارے دل میں کشش ہوتی تو خود کھینچ کر چلا آتا ۔ عاشق محبوب کو الزام دے رہا تھا ۔ لیکن محبوب کے جواب سے خود اس کا قصور نکل آیا  غزل کی صنف اور اسکی فنی خصوصیت بیان کے جس حصے کو حذف کیا گیا

غزل کی صنف اور ہئیت

 غزل کی صنف اور ہئیت       عورتوں سے یا عورتوں کے بارے میں بات کرنے کو غزل کہتے ہیں گویا اس کا دائرہ کار حسن پرستی اور عشق مجاز ہے    ۔شمس قیس رازی نے غزل کی الگ توجیہ کی ہے ۔ہرن کو غزال کہتے ہیں اور غزال کی ایک خاص آواز کو غزل الکلب کا جاتا ہے ۔جب ہرن کوشکاری کتے گھیر لیتے ہیں تو وہ سہم جاتا ہے اور اس کے حلق سے درد بھری آواز نکلتی ہے ۔ شکاری کتے اس آواز سے متاثر ہوکر اس کا تعاقب چھوڑ دیتے ہیں ۔ اس آواز میں مایوسی کے ساتھ امید کی کیفیت بھی ہوتی ہے۔ اس تعریف کی رو سے غزل عشقیات سے نکل کر زندگی کی کشمکش ، انسان کی کاوشوں اور امید و بیم کی حالت کو اپنے دائرے میں لے لیتی ہے ۔ تشبیہ اور انکی قسمیں         عربی میں قصیدے کی تمھید کو تشبیب ، نسیب اور جس تمہید میں محبوب کا سراپا بیان کیا جائے اسے غزل کہتے ہیں۔ قصیدے کی صنف عربی سے فارسی میں پہنچی ۔فارسی گو شاعروں نے غزل کو  قصیدے سے علاحدہ کرکے ایک مستقل صنف بنادیا ۔قصیدے کی طرح غزل کا پہلا شعر جس کے دونوں مصرع ہم قافیہ ہوتے ہیں مطلع کہلاتا ہے۔ غزل کے باقی اشعار کے ہر دوسرے مصرع میں قافیے کی پابندی کی جاتی ہے اور ہم قافیہ الفاظ لائے جاتے ہیں غ