نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ذوق کا قصیدہ

  ذوق کا قصیدہ Zouq ka qasida  ساون میں دیا پھر مہہ شوال ، دکھائی  برسات میں عید آئی ، قدح کش خوار کی بن آئی کرتا ہے ہلال ابروئے ، پُر خم سے اشارہ  ساقی کو کہ گھر بادے سے ، کشتی طلائی ہے عکس فگن جام بلوریں سے ، مئے سرخ  کس رنگ سے ہوں ، ہاتھ نہ مے کش کے حنائی  کوندے ہے جو بجلی تو یہ سوجھے ہے نشے  ساقی نے ہے ، آتش سے ، مئے تیز اڑائی  یہ جوش ہے باراں کا کہ افلاک کے نیچے  ہووے نہ ممیز کره ناری و مائی  پہنچا ، کمک لشکر باراں سے ہے۔ل ، یہ روز  ہر نالے کی ہے دشت میں دریا ، پہ چڑھائی ہو قلزم عماں پہ لب جو متبسم تالاب سمندر کو کرے چشم نمائی  ہے کثرت باراں سے ہوئی عام یہ سردی  کافور کی تاثیر گئی جو زمیں پائی  سردیِ حنا پہنچے ہے ، عاشق کے جگر تک  معشوق کا گر ہاتھ میں ، ہے دست حنائی  عالم یہ ہوا ہوا کا ہے کہ تاثیر ہوا سے  گردوں پہ ہے ، خورشید کا بھی ، دیدہ ہوائی کیا صرف ہوا ہے ، طرب و عیش سے ، عالم  ہے مدرسے میں بھی ، سبق صرف ہوائی خالی نہیں مئے سے روشِ دانۂ انگور  زاہد کا بھی ہر دانۂ تسبیح ریائی کرتی ہے صبا آکے کبھی مشک فشانی کرتی ہے نسیم آکے کبھی ، لخلخہ سائی  تھا سوزئی خار کا صحرا میں جہاں فرش

ذوق کی شاعری اور غزل گوئی

ذوق کی شاعری اور غزل گوئی

 

ذوق کی شاعری اور غزل گوئی

Ibraheem zouque urdu poetry

ذوق بڑے با کمال شاعر تھے۔ ان کا کمال فن ان کی غزلوں اور قصیدوں دونوں میں نظرآ تا ہے۔ وہ بہت کم عمری سے شعر کہہ رہے تھے۔ انیسویں صدی کے ابتدائی نصف دہے میں دربار شاہی میں ان ہی کا بول بالا رہا۔ بہت کہا اور خوب کہا۔ کہتے ہیں جو کچھ ان کا سرمایۂ سخن تھا وہ پورے کا پورا ہمارے سامنے نہ آسکا۔ بہت کچھ گردش زمانہ کی نذر ہوگیا۔
انھوں نے خود اس کی حفاظت نہیں کی۔ جو لکھتے تھے وہ اپنے تکیے کے غلاف میں بھر کر رکھ دیتے تھے۔ اکثر ایساہوا کہ غلاف دھلنے گیا تو کلام بھی صاف ہو گیا۔ ان کے انتقال کے بعدان کے بیٹے شیخ محمد اسماعیل فوق اور محمد حسین آزاد نے مل کر دیوان ترتیب دیا۔ یہ پہلا دیوان تھا جو 1859 میں ذوق کے انتقال کے پانچ سال بعد دہلی سے شائع ہوا۔ اس دیوان میں چوبیس قصائد ہیں اور 280 غزلیں۔ ذوق کو قصیدہ اور غزل دونوں اصناف پر قدرت حاصل تھی۔ انھوں نے اکبر شاہ ثانی، مرزا مغل اور بہادرشاہ ظفر کی مدح میں قصیدے کہے۔ ایک قصیدہ کسی بزرگ سید عاشق شاہ کی تعریف میں ہے۔ ذوق کے قصائد سے ان کے گہرے اور وسیع مطالعے کا اندازہ ہوتا ہے۔ انھوں نے مختلف علوم مثلا نجوم، فلسفہ، تصوف، موسیقی، منطق، طب اور موسیقی سے متعلق اپنی معلومات کا اظہار قصیدوں میں کیا ہے۔ ذوق کی غزلوں کے اشعار کی تعداد 1833 ہے۔ ذوق جیسے شاعر کے لیے جس نے 54 سال اپنی زندگی کے شعر گوئی میں گزارے یہ تعداد کچھ زیادہ نہیں لیکن ان کے مذاقِ سخن اور اسلوبِ شاعری کو سمجھنے کے لیے بہت کافی ہے۔

      شیخ محمد ابراہیم ذوق نے جس وقت شاعری شروع کی وہ کلاسیکی شاعری کا زمانہ تھا۔ ناسخ نے غزل کو دل سے نہیں دماغ سے سوچنے کی چیز بنادیا۔ آتش نے غزل کے آ بگینے کو زندگی اور عشق کی حرارت دے کر تابندہ کر دیا۔ دہلی میں ذوق استادِ شاہ تو تھے لیکن حکومت کی ساری باگ ڈور 

انگریزوں کے ہاتھ میں تھی۔ 

ذوق کی حالات زندگی 

مرزا غالب اور مسائل تصوف

     حسن وعشق غزل کا بنیادی موضوع ہے جس کی وسعتوں اور پہنائیوں کی کوئی حد نہیں اب یہ شاعر کی اپنی ہمت اپنے ذہنی رجحان اور افتادِ طبع پر منحصر ہے کہ وہ اس میدان میں کہاں تک دوڑ سکتا ہے۔ ذوق کے یہاں حسن و عشق کے مضامین نایاب نہیں۔ ان میں عشق کی حرارت ضرور محسوس ہوتی ہے ۔ چند شعر دیکھئے :

مرزا غالب کی غزل گوئی

ہوئے کیوں، اس پہ! عاشق، ہم ابھی سے

لگایا جی کو ناحق غم ابھی سے


بیان درد محبت، جو ہو تو، کیوں کر ہو

زبان، دل کے لیے ہے نہ دل زباں کے لئے 


مزے جب موت کے، عاشق بیاں کبھو کرتے

مسیح و خضر، بھی مرنے کی آرزو کرتے


تو جان! ہے ہماری، اور جان ہے، تو سب کچھ

ایمان کی تو یہ ہے، ایمان ہے تو سب کچھ 


وقت پیری شباب کی باتیں

ایسی ہے جیسے خواب کی باتیں

خواجہ حیدر علی آتش کی غزل گوئی


     درد ہجر، عشق کا لازمہ ہے جس دل میں عشق و محبت کی آگ جلتی ہو وہاں درد، تڑپ، تپش و حرارت کا ہونا ضروری ہے۔ ذوق نے عشق کیا ہو یا نہ ہو مگر ماحول ایسا ملا جہاں یہ سب کچھ مشاہدے میں آتا رہا، دل میں گھر کرتا رہا اور شعر کے سانچے میں ڈھلتا رہا :

میر تقی میر کی غزل گوئی

گر پڑا آگ میں پروانہ دمِ گرمیِ شوق

سمجھا اتنا بھی نہ کم بخت کہ جل جاؤں گا


فرقت میں، تری تارِ نفس، سینے میں میرے 

کانٹا سا، کھٹکتا ہے، نکل جائے تو اچھا 


کل گئے تھے تم جسے بیمارِ ہجراں چھوڑ کر

چل بسا! وہ آج؛ سب ہستی کا ساماں، چھوڑ کر


ذوق بھلے ہی شراب و کباب کی لذت سے نا واقف رہے ہوں مگر روایتاً مضامین پر بھی طبع آزمائی کی ہے اور اس میں بھی لطف پیدا کردیا ہے :


ابھی ذوق آیا ہے تو نے کدے سے

یہ دعویٰ نہ کر پارسائی کا جھوٹا 


پی بھی جا ذوق نہ کر پیش و پس جام شراب

لب پہ توبہ ترے دل میں ہوسِ جام شراب


دروازے مے کدہ کا نہ کر بند محتسب

ظالم خدا سے ڈر کہ درِ توبہ باز ہے

ولی دکنی کی غزل گوئی


     ذوق نے سیدھی سادھی زندگی گزاری۔ دربار سے وابسطہ رہے مگر دربار داری نہیں آئی۔ با اخلاق، با کردار، نیک نفس انسان تھے۔ کوئی شوق نہ تھا۔ اخلاقی اور واعظانہ مضامین ان کی طبیعت سے لگا کھاتے ہیں اس لیے عام فہم زبان میں روز مرہ اور محاورے کے مطابق ایسے موضوعات کو ادا کردیا ہے ۔

منھ سے بس کرتے، کبھی یہ نہ خدا کے بندے

گر حریصوں کو خدا ساری خدائی دیتا


نام منظور ہے تو، فیض کے سامان بنا

پل بنا، چاہ بنا، مسجد و تالاب بنا


ہوئے انسان سب سوزِ محبت کے لیے پیدا

فرشتے ہوتے گر ہوتے عبادت کے لیے پیدا

اردو غزل کا آغاز و ارتقا


     ذوق کا مطالعہ وسیع تھا وہ تصوف کے مسند نشین نہ تھے مگر فلسفہ، حکمت اور تصوف کے رموز و نکات سے خوب واقف تھے۔ انہوں نے مضامین وہی باندھے ہیں جو صدیوں سے مستعمل رہے ہیں لیکن اظہار میں ندرت پیدا کردی ہے۔

ازل سے یوں دلِ عاشق ہے نور کی قندیل 

کہ جیسے عرشِ خدائے غفور کی قندیل


ہمارے کعبۂ دل میں ہمیشہ روشن ہے

کسی کہ بابِ کمالِ ظہور کی قندیل


ہیں آئینے میں صورتِ تصویر آئینہ

آئینہ رو کے سامنے حیرانیاں میں، ہم 


     ذوق کا زمانہ لکھنؤ کی خارجیت سے ابھی آزاد ہونے نہیں پایا تھا۔ ناسخ کی آواز ابھی فضاؤں میں گونج رہی تھی، ذوق کا کلام بھی اس سے مبرّا نہیں۔

یہ جتنے سرو ہیں سب اس کے قد پہ زہر کھاتے ہیں

چمن میں، سبز، کیونکر ہو نہ جائیں سر سے پاؤں تک


نازک خیالیاں، مری توڑیں عدو کا دل

میں وہ بلا ہوں، شیشہ(آئینہ)سے پتھر کو توڑ دوں


کرتی ہے زیر برقعٍ فانوس تاک جھانک

پروانے سے ہے شمع مقرر لگی ہوئی


اس حور وش کا گھر مجھے جنت سے ہے سوا

لیکن رقیب ہو تو جہنم سے کم نہیں 

غواصی کی غزل گوئی


روایتی اور خارجہ مضامین کی طرح عام تجربے اور مشاہدے کی بات بے لاگ اور غیر جذباتی انداز سے کہنا ذوق کا وہ انداز ہے جو ان کی شخصیت کے عین مطابق ہے۔ ان کی زبان سادہ، عام فہم اور روز مرہ کے مطابق ہوتی ہے۔ اس لئے ان کے اشعار آج تک زبان زد خاص و عام ہیں۔ بالخصوص یہ اشعار دیکھیے:

وقت پیری شباب کی باتیں

ایسی ہے جیسے خواب کی باتیں


پھول تو، دو دن، بہارِ جاں فزا، دکھلائے گی

حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا ٹ


اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ سے ملنا 

بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے


اے شمع، تیری عمر، طبیعی ہے ایک رات

ہنس کر گزار، یا اسے، رو کر گزار دے


Ugc net exam, ugc net urdu material, ugc net exam 2021, ugc net urdu book , ugc urdu notes, ugc net urdu syllabus

تبصرے

Popular Posts

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

میر تقی میر کی شاعری کا اسلوب

میر تقی میر کی شاعری کا اسلوب میرتقی میر غزل کے مسلم الثبوت استاد ہیں   شعراء نے میر کے دیوان کی تعریف یہ کہہ کر کی ہے کہ ان کا دیوان " گلشن کشمیر " سے کم نہیں ہے۔ اسی طرح تذکرہ نویسوں نے بھی ان کی قادر الکلامی کا اعتراف کیا : قائم چاند پوری : فروغ محفل سخن پردازاں، جامع آیات سخن دانی گردیزی : سخن سنج بے نظیر  میر حسن : شاعر دل پذیر  مصحفی : در فن شعر ریختہ مرد صاحب کمال شیفتہ : سخن ورِ عالی مقام