نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

ذوق کی شاعری اور غزل گوئی

ذوق کی شاعری اور غزل گوئی

 

ذوق کی شاعری اور غزل گوئی

Ibraheem zouque urdu poetry

ذوق بڑے با کمال شاعر تھے۔ ان کا کمال فن ان کی غزلوں اور قصیدوں دونوں میں نظرآ تا ہے۔ وہ بہت کم عمری سے شعر کہہ رہے تھے۔ انیسویں صدی کے ابتدائی نصف دہے میں دربار شاہی میں ان ہی کا بول بالا رہا۔ بہت کہا اور خوب کہا۔ کہتے ہیں جو کچھ ان کا سرمایۂ سخن تھا وہ پورے کا پورا ہمارے سامنے نہ آسکا۔ بہت کچھ گردش زمانہ کی نذر ہوگیا۔
انھوں نے خود اس کی حفاظت نہیں کی۔ جو لکھتے تھے وہ اپنے تکیے کے غلاف میں بھر کر رکھ دیتے تھے۔ اکثر ایساہوا کہ غلاف دھلنے گیا تو کلام بھی صاف ہو گیا۔ ان کے انتقال کے بعدان کے بیٹے شیخ محمد اسماعیل فوق اور محمد حسین آزاد نے مل کر دیوان ترتیب دیا۔ یہ پہلا دیوان تھا جو 1859 میں ذوق کے انتقال کے پانچ سال بعد دہلی سے شائع ہوا۔ اس دیوان میں چوبیس قصائد ہیں اور 280 غزلیں۔ ذوق کو قصیدہ اور غزل دونوں اصناف پر قدرت حاصل تھی۔ انھوں نے اکبر شاہ ثانی، مرزا مغل اور بہادرشاہ ظفر کی مدح میں قصیدے کہے۔ ایک قصیدہ کسی بزرگ سید عاشق شاہ کی تعریف میں ہے۔ ذوق کے قصائد سے ان کے گہرے اور وسیع مطالعے کا اندازہ ہوتا ہے۔ انھوں نے مختلف علوم مثلا نجوم، فلسفہ، تصوف، موسیقی، منطق، طب اور موسیقی سے متعلق اپنی معلومات کا اظہار قصیدوں میں کیا ہے۔ ذوق کی غزلوں کے اشعار کی تعداد 1833 ہے۔ ذوق جیسے شاعر کے لیے جس نے 54 سال اپنی زندگی کے شعر گوئی میں گزارے یہ تعداد کچھ زیادہ نہیں لیکن ان کے مذاقِ سخن اور اسلوبِ شاعری کو سمجھنے کے لیے بہت کافی ہے۔

      شیخ محمد ابراہیم ذوق نے جس وقت شاعری شروع کی وہ کلاسیکی شاعری کا زمانہ تھا۔ ناسخ نے غزل کو دل سے نہیں دماغ سے سوچنے کی چیز بنادیا۔ آتش نے غزل کے آ بگینے کو زندگی اور عشق کی حرارت دے کر تابندہ کر دیا۔ دہلی میں ذوق استادِ شاہ تو تھے لیکن حکومت کی ساری باگ ڈور 

انگریزوں کے ہاتھ میں تھی۔ 

ذوق کی حالات زندگی 

مرزا غالب اور مسائل تصوف

     حسن وعشق غزل کا بنیادی موضوع ہے جس کی وسعتوں اور پہنائیوں کی کوئی حد نہیں اب یہ شاعر کی اپنی ہمت اپنے ذہنی رجحان اور افتادِ طبع پر منحصر ہے کہ وہ اس میدان میں کہاں تک دوڑ سکتا ہے۔ ذوق کے یہاں حسن و عشق کے مضامین نایاب نہیں۔ ان میں عشق کی حرارت ضرور محسوس ہوتی ہے ۔ چند شعر دیکھئے :

مرزا غالب کی غزل گوئی

ہوئے کیوں، اس پہ! عاشق، ہم ابھی سے

لگایا جی کو ناحق غم ابھی سے


بیان درد محبت، جو ہو تو، کیوں کر ہو

زبان، دل کے لیے ہے نہ دل زباں کے لئے 


مزے جب موت کے، عاشق بیاں کبھو کرتے

مسیح و خضر، بھی مرنے کی آرزو کرتے


تو جان! ہے ہماری، اور جان ہے، تو سب کچھ

ایمان کی تو یہ ہے، ایمان ہے تو سب کچھ 


وقت پیری شباب کی باتیں

ایسی ہے جیسے خواب کی باتیں

خواجہ حیدر علی آتش کی غزل گوئی


     درد ہجر، عشق کا لازمہ ہے جس دل میں عشق و محبت کی آگ جلتی ہو وہاں درد، تڑپ، تپش و حرارت کا ہونا ضروری ہے۔ ذوق نے عشق کیا ہو یا نہ ہو مگر ماحول ایسا ملا جہاں یہ سب کچھ مشاہدے میں آتا رہا، دل میں گھر کرتا رہا اور شعر کے سانچے میں ڈھلتا رہا :

میر تقی میر کی غزل گوئی

گر پڑا آگ میں پروانہ دمِ گرمیِ شوق

سمجھا اتنا بھی نہ کم بخت کہ جل جاؤں گا


فرقت میں، تری تارِ نفس، سینے میں میرے 

کانٹا سا، کھٹکتا ہے، نکل جائے تو اچھا 


کل گئے تھے تم جسے بیمارِ ہجراں چھوڑ کر

چل بسا! وہ آج؛ سب ہستی کا ساماں، چھوڑ کر


ذوق بھلے ہی شراب و کباب کی لذت سے نا واقف رہے ہوں مگر روایتاً مضامین پر بھی طبع آزمائی کی ہے اور اس میں بھی لطف پیدا کردیا ہے :


ابھی ذوق آیا ہے تو نے کدے سے

یہ دعویٰ نہ کر پارسائی کا جھوٹا 


پی بھی جا ذوق نہ کر پیش و پس جام شراب

لب پہ توبہ ترے دل میں ہوسِ جام شراب


دروازے مے کدہ کا نہ کر بند محتسب

ظالم خدا سے ڈر کہ درِ توبہ باز ہے

ولی دکنی کی غزل گوئی


     ذوق نے سیدھی سادھی زندگی گزاری۔ دربار سے وابسطہ رہے مگر دربار داری نہیں آئی۔ با اخلاق، با کردار، نیک نفس انسان تھے۔ کوئی شوق نہ تھا۔ اخلاقی اور واعظانہ مضامین ان کی طبیعت سے لگا کھاتے ہیں اس لیے عام فہم زبان میں روز مرہ اور محاورے کے مطابق ایسے موضوعات کو ادا کردیا ہے ۔

منھ سے بس کرتے، کبھی یہ نہ خدا کے بندے

گر حریصوں کو خدا ساری خدائی دیتا


نام منظور ہے تو، فیض کے سامان بنا

پل بنا، چاہ بنا، مسجد و تالاب بنا


ہوئے انسان سب سوزِ محبت کے لیے پیدا

فرشتے ہوتے گر ہوتے عبادت کے لیے پیدا

اردو غزل کا آغاز و ارتقا


     ذوق کا مطالعہ وسیع تھا وہ تصوف کے مسند نشین نہ تھے مگر فلسفہ، حکمت اور تصوف کے رموز و نکات سے خوب واقف تھے۔ انہوں نے مضامین وہی باندھے ہیں جو صدیوں سے مستعمل رہے ہیں لیکن اظہار میں ندرت پیدا کردی ہے۔

ازل سے یوں دلِ عاشق ہے نور کی قندیل 

کہ جیسے عرشِ خدائے غفور کی قندیل


ہمارے کعبۂ دل میں ہمیشہ روشن ہے

کسی کہ بابِ کمالِ ظہور کی قندیل


ہیں آئینے میں صورتِ تصویر آئینہ

آئینہ رو کے سامنے حیرانیاں میں، ہم 


     ذوق کا زمانہ لکھنؤ کی خارجیت سے ابھی آزاد ہونے نہیں پایا تھا۔ ناسخ کی آواز ابھی فضاؤں میں گونج رہی تھی، ذوق کا کلام بھی اس سے مبرّا نہیں۔

یہ جتنے سرو ہیں سب اس کے قد پہ زہر کھاتے ہیں

چمن میں، سبز، کیونکر ہو نہ جائیں سر سے پاؤں تک


نازک خیالیاں، مری توڑیں عدو کا دل

میں وہ بلا ہوں، شیشہ(آئینہ)سے پتھر کو توڑ دوں


کرتی ہے زیر برقعٍ فانوس تاک جھانک

پروانے سے ہے شمع مقرر لگی ہوئی


اس حور وش کا گھر مجھے جنت سے ہے سوا

لیکن رقیب ہو تو جہنم سے کم نہیں 

غواصی کی غزل گوئی


روایتی اور خارجہ مضامین کی طرح عام تجربے اور مشاہدے کی بات بے لاگ اور غیر جذباتی انداز سے کہنا ذوق کا وہ انداز ہے جو ان کی شخصیت کے عین مطابق ہے۔ ان کی زبان سادہ، عام فہم اور روز مرہ کے مطابق ہوتی ہے۔ اس لئے ان کے اشعار آج تک زبان زد خاص و عام ہیں۔ بالخصوص یہ اشعار دیکھیے:

وقت پیری شباب کی باتیں

ایسی ہے جیسے خواب کی باتیں


پھول تو، دو دن، بہارِ جاں فزا، دکھلائے گی

حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا ٹ


اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ سے ملنا 

بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے


اے شمع، تیری عمر، طبیعی ہے ایک رات

ہنس کر گزار، یا اسے، رو کر گزار دے


Ugc net exam, ugc net urdu material, ugc net exam 2021, ugc net urdu book , ugc urdu notes, ugc net urdu syllabus

تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام