نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

شیخ محمد ابراہیم ذوق کے حالات زندگی

شیخ محمد ابراہیم ذوق اور حالاتِ زندگی

 

 شیخ محمد ابراہیم ذوق کا عہد

Shaikh ibraheem zouq biography in urdu  

     دہلی کی تباہی کے بعد یہاں کی شعری بساط لکھنؤ منتقل ہوگئی۔ کچھ عرصہ دہلی میں خاموشی رہی پھر ذوق غالب مومن اور ظفر کے نغموں سے دلی گو نجنے گی۔ ذوق اور غالب تو ظفر کے استاد ہی تھے، مومن اپنے انفرادی رنگ کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔ شیخ محمد ابراہیم ذوق 1789 میں دلی میں پیدا ہوئے۔ اس زمانے میں دلی میں شاہ نصیر کا چرچا تھا۔ ذوق نے شاہ نصیر کی شاگردی اختیار کی۔ شاہ نصیر استاد شاہ تھے۔ نصیر کے دکن جانے کے بعد ذوق کو استاد شاہ کے منصب پر سرفراز کیا گیا اور دربار سے " خاقانیِ ہند " کا خطاب ملا۔ ذوق نے غزلیں بھی کہیں اورقصیدے بھی۔ انھیں زبان و بیان اور فن شاعری پر غیر معمولی قابو تھا۔ فن طب اورموسیقی سے بھی انھیں دلچسپی تھی۔ ذوق کی غزلوں پر قصیدے کا رنگ غالب ہے۔ وہ محاورۂ دلی، تشبیہوں اور استعاروں کے بادشاہ تھے۔ انھوں نے اپنی شاعری کے وسیلے سے دہلوی زبان کا ایک معیار مقرر کیا۔ان کے شاگردوں میں بہادر شاہ ظفر کے علاوہ محمد حسین آزاد، نواب مرزا خاں داغ، ظہیر اور انور نے بہت نام کمایا۔ مومن، ذوق کے استاد بھائی تھے، شا نصیر کو مومن نے بھی اپنا کلام دکھایا تھا۔ ذوق کے ہم عصروں میں غالب جیسا جید شاعر بھی تھا جس سے ذوق کے کئی معرکے رہے۔ یہ زمانہ ذوق، غالب اور مومن کا دور کہلاتا ہے۔ تینوں نے غزل گوئی میں نام کمایا اور تیوں اپنے اپنے رنگ میں یکتا تھے۔

محمد ابراہیم ذوق کے عہد کے سیاسی حالات

    ذوق غالب اور مومن کا زمانہ سیاسی، معاشی اور سماجی حیثیت سے بڑے انتشار کا زمانہ تھا۔ مغل سلطنت سیاسی اعتبار سے ختم ہو چکی تھی۔ 1757ء کی جنگ پلاسی کے بعد انگریزوں کا اقتدار بہت بڑھ گیا تھا۔ بنگال انگریزوں کے قبضے میں آ گیا تھا۔ شمالی ہندوستان پر مرہٹوں کا زور تھا۔ 1805ء میں لارڈ لیک نے مرہٹوں کو شکست دے کر شاہ عالم کو تخت پر بٹھا دیا لیکن سلطنتِ شاہ عالم از دلی تا پالم رہ گئی تھی۔ سب کچھ انگریز گورنر کے ہاتھ میں تھا۔ شاہ عالم کے انتقال کے بعد اکبر شاہ ثانی تخت نشین ہوا۔ 1837ء میں اس کے خاتمے کے بعد بہادر شاہ ظفر تخت نشین ہوئے اور 1857ء تک دلی کی سلطنت پر قائم رہے۔ ان کی حکومت بھی قلعۂ معلٰی کی چار دیواری تک محدود تھی۔ انگریزوں کے سامنے ان کی حیثیت بھی شاہِ شطرنج سے زیادہ نہ تھی۔ در حقیقت مغلیہ سلطنت 1788ء میں اسی وقت ختم ہو چکی تھی جب غلام قادر روہیلہ نے شاہ عالم کو اندھا کردیا تھا۔

     شمالی ہندوستان میں شاہان اودھ زیادہ دیر تک محفوظ رہے۔ 1856ء میں واجد علی شاہ کو بے دخل کرکے مٹیا برج کلکتہ بھیج دیا گیا۔ ہندوستان کے دو اہم دربار ٹوٹ گئے جن سے اہل ہنر، اہل قلم اور اہل علم کی امیدیں وابستہ تھیں، جن کے وسائل اور ذرائع تھے۔ ایسے اہل قلم نے دیارِ غیر میں اپنا ٹھکانہ بنالیا۔ ذوق کو حیدرآباد آنے کی دعوت دی گئی تھی انہوں نے لکھا :

ان دنوں گَر چہ دکن میں ہے بڑی قدر سخن

کون جائے ذوق پر! دلی کی گلیاں چھوڑ کر

     ذوق نے 65 برس کی عمر پائی۔ اس عمر کے 54 سال انہوں نے انیسویں صدی میں گزارے۔ یہ وہی دور ہے جب ہندوستان کی تاریخ میں مادّی، سیاسی اور تہذیبی کشمکش شروع ہوچکی تھی۔ مغرب کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت کے آگے ہندوستانیوں نے بہ ظاہر شکست تسلیم کر لی لیکن اس وقتی شکست کے پیچھے سیاسی بصیرت کام کررہی تھی۔ در اصل ہر زمانے کا روشن فکر طبقہ اپنی ذمہ داری کا سنجیدہ احساس رکھتا ہے۔ ماضی میں کی گئی غلطیوں اور کوتاہیوں کا پھر سے اعادہ نہ ہو اس کا جائزہ لیتا ہے اور ایسی اقدار و افکار کو عام کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے مستقبل درخشاں ہوسکے۔ اس زمانے کے اہلِ تصوف، شاعر، ادیب اور مفکر بھی آزادیِ وطن، آزادیِ فکر اور صحت مند ادب کی تعمیر و تشکیل کے سامان کررہے تھے۔ اس صدی میں جو تبدیلی واقع ہورہی تھی اس کی ایک جھلک راجہ رام موہن رائے کی تحریک کی شکل میں صاف نمایاں ہے۔ شمالی ہند میں سر سید احمد خان نے سماجی شعور کو تبدیلی کا شدت سے احساس کیا، سیاسی، علمی، ادبی اور تہذیبی انقلاب کے امکانات روشن کیے۔

     جو لوگ روایات کا ساتھ نہ دے سکے وہ عصرِ جدید کے تقاضوں کی طرف کھلی آنکھ سے دیکھنے کے لیے مجبور ہوگئے۔ غالب اور غالب کے شاگردوں نے نئی روشنی کو خوش آمدید کہا۔ جو شاعر روایات سے جڑے رہے۔ اپنے مزاج کے مطابق اپنے فن کی آبیاری کرتے رہے۔ ذوق کی غزل اور ذوق کے قصائد ان کی اپنی ادبی تہذیب کے آئینہ دار ہیں۔ 

شیخ محمد ابراہیم ذوق کے حالات زندگی

    شیخ محمد ابراہیم ذوق 1788ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام شیخ محمد رمضان تھا۔ دہلی کے کابلی دروازے میں رہتے تھے۔ ڈاکٹر تنویر احمد علوی کے مطابق ان کا آبائی پیشہ ظروف سازی تھا۔ محمد رمضان کچھ زیادہ پڑھے لکھے آ دمی نہیں تھے لیکن پڑھے لکھے لوگوں کی صحبت نے انھیں بھی ذہنی طور پر باشعور بنا دیا تھا۔ شیخ محمد رمضان، نواب لطف علی خاں کی سرکار میں ملازم تھے۔ نواب لطف علی خاں اپنے وقت کے رئیسوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ ان کے بڑے بھائی نواب رضی خاں، وکیلِ سلطانی تھے ۔

     ذوق کی ابتدائی تعلیم مولانا عبدالرزاق کے مدرسے میں ہوئی۔ اسی مدرسے میں محمد باقر سے ذوق کی دوستی ہوگئی۔ یہ دوستی تمام عمر باقی رہی محد باقر، محمدحسین آزاد کے والد تھے۔ اردو صحافت میں مولانا محمد باقر کا نام ممتاز مقام رکھتا ہے وہ دہلی سے " دہلی اردو اخبار " نکالا کرتے تھے۔ شمالی ہند وستان میں اردوکا یہ پہلا باقاعدہ اخبار ہے۔ یاخبار 1836ء سے نکلنا شروع ہوا اور 1857 تک جاری رہا۔ مولانا با قر اپنے اخبار میں انگریزوں کی مخالفت میں لکھا کرتے تھے اس لیے انھیں گرفتار کرکے شہید کر دیا گیا۔ 

     ذوق، عبدالرزاق کے مدرسے سے اٹھے تو حافظ غلام رسول شوق کے مکتب میں شریک ہوئے۔ شوق کو شاعری کا شوق تھا۔ ان کی صحبت میں ذوق کو بھی شعر گوئی سے دلچسپی پیدا ہوگئی۔ یعنی بچپن ہی سے شعر کہنے لگے اور غلام رسول شوق کو اپنے کلام دکھانے لگے۔ شوق کے ایما پر انہوں نے اپنا تخلص ذوق رکھا 

ولی دکنی کے حالات زندگی

     میر کاظم حسین نامی ایک شخص ذوق کے بچپن کے دوست تھے ان کا تخلص بے قرار تھا۔ بے قرار شاہ نصیر کے استاد تھے۔ بہادر شاہ ظفر اور مومن خاں مومن بھی بھی شاہ نصیر کے شاگرد تھے۔ شاہ نصیر کی شہرت اس زمانے میں دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ سنگلاخ زمینوں میں شعر کہتے تھے ان کے شاگردوں میں شہزادہ مرزا ابو ظفر بھی شامل تھے۔ یہی امتیاز ذوق کو بھی کشاں کشاں شاہ نصیر کے پاس لے گیا۔ شاہ نصیر اس کے بعد جلد ہی دکن چلے گئے۔ ذوق اپنا کلام بہ نظر اصلاح خود دیکھنے لگے۔ انہیں فارسی اور اردو کا بہت کلام یاد تھا، مطالعہ خاصہ وسیع تھا۔ اس وقت کے مروجہ علوم جیسے طب، علم فلکیات، موسیقی، فلسفہ اور حکمت پر عبور حاصل تھا۔ شعر و شاعری سے تو انہیں ذاتی دلچسپی تھی۔ فن عروض پر ید طولٰی حاصل تھا۔ جس کا اندازہ ان کے قصائد سے ہوسکتا ہے۔ ان اوصاف کی وجہ سے ان میں خود اعتمادی آگئی تھی۔ اسی زمانے میں مرزا ابو ظفر ولی عہد سلطنت کے یہاں اکثر مشاعرے ہوا کرتے تھے۔ان میں فی البدیہہ غزلیں بھی کہی جاتی تھی۔ ان مشاعروں میں اکثر دلی کی کہنہ مشق شعرا جیسے فراق، احسان، قاسم اور منت وغیرہ شریک ہوتے تھے۔ ذوق بھی ذوق بھی اپنے دوست کاظم حسین بے قرار کے ساتھ مشاعروں میں جانے لگے۔ ولی عہد مرزا ابو ظفر ذوق کے استادانہ کلام سے متاثر ہوئے۔ اس وقت ذوق کی عمر انیس بیس برس کی تھی۔ ولی عہد، ذوق کے شاگرد ہوتے ہی ذوق کی شہرت اور مقبولیت میں اضافہ ہوگیا۔ قلعہ اور شہر کے بہت سے نو مشق بلکہ کہنہ مشق شاعر بھی ان کے دائرۂ تلمذ میں داخل ہوگئے۔ 1837ء میں شہزادہ ظفر کے سر پر تاج رکھا گیا تو ذوق استاد شاہ کہلانے لگے۔ اکبر شاہ ثانی کے دربار سے ذوق کو ان کے ایک معرکۃ الآرا قصیدے پر " خاقانیِ ہند " ک الخطاب ملا تھا اس لئے اردو ادب کی تاریخوں میں اکثر ان کے نام کے ساتھ خاقانیِ ہند شیخ۔ محمد ابراہیم ذوق لکھا جاتا ہے۔ ظفر اپنی تخت نشینی ( اکتوبر 1837 ) کے موقع پر ذوق کو ان کے قصیدۂ تہنیت " روکش ترے رخ سے ہو کیا نورِ سحر رنگِ شفق " کے صلے میں ملک الشعراء کا خطاب دیا اور ان کی تنخواہ سو روپے ماہانہ کردی۔ عید، بقر عید کے موقع پر خلعت و انعام سے سرفراز کیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ بہادر شاہ ظفر بیمار ہوئے اور جب شفا پائی تو ذوق نے ایک قصیدہ لکھا جس کا مطلع ہے :

واہ واہ کیا معتدل ہے باغ عالم کی ہوا 

مثل نبضِ صاحبِ صحت ہے ہر موجِ صبا


ملک الشعراء غواصی کے حالات زندگی

اس کے صلے میں خطاب " خان بہادر " خلعت اور ایک ہاتھی عنایت ہوا۔ ذوق نے 65 برس کی عمر پائی۔ 15 اکتوبر 1854ء کو انتقال کیا۔ قدم شریف کے پاس کلو کا تکیہ دہلی کے مشہور قبرستان میں دفن ہوئے۔ ذوق کے اکلوتے بیٹے شیخ محمد اسماعیل فوق نے ان کا دیوان مرتب کیا۔

    ذوق اپنی طباعی، قوتِ حافظہ کے لئے مشہور تھے۔ وہ ایک درویش صفت انسان تھے، خدا پرس اور قناعت پسند تھے۔ کہتے ہیں دہلی میں کئی مکانات ان کی جائیداد میں تھے مگر وہ خود عمر بھر ایک چھوٹے سے مکان میں رہے۔ مال و زر، جاہ و نصب کے طلب گار نہیں تھے۔ جو کچھ ملا فنِ شعر میں کمال کی وجہ سے ملا کہتے ہیں :

بے لوث حبّ زر سے ہے دامن ہمارا پاک

گر چھینٹ بھی پڑے تو بہ حدِ درم نہیں

     شاعری ہی ذریعۂ معاش اور وجہ افتخار تھی۔ اردو ادب میں انھوں نے جو مقام پیدا کیا وہ کسی خاندان وجاہت کی وجہ سے نہ تھا، نہ کاسۂ گدائی لیے دربار سے خطابات کی خواہش کی، بلکہ اپنے ذاتی علم و فضل، ۔شق و مزاولت کی بنیاد پر دربارِ شاہ میں جگہ پائی اور استاد شاہ مقرر ہوئے، خطابات و خلعت سے نوازے گئے۔ ابھی شاہ نصیر کے شاگرد تھے ان کے کلام میں بڑی روانی پیدا ہوگئی تھی۔ استاد کی طرح مشکل زمینوں میں شعر کہتے کہتے بڑی مشاقی آگئی تھی۔ خود استاد کو ان پر رشک آنے لگا تھا۔ ایک مرتبہ شاہ نصیر نے ایک مشکل ردیف " آتش و آب و خاک باد " میں غزل کہی اور اپنے عصر کے شاعروں کو چیلینج کیا کہ اس طرح میں جو غزل لکھے اس کو میں اپنا استاد مان لوں گا۔ ذوق نے بھی اس زمیں میں طبع آزمائی کی۔ ایک غزل اور تین قصیدے لکھ کر پیش کیے۔ شاہ نصیر سے شاگرد کی یہ جرات برداشت نہ ہوسکی انھوں نے ذوق کے کلام پر اعتراضات کیے۔ ذوق نے اسناد پیش کیں۔ اہل ذوق شعرا نے ذوق کے اسناد کی تصدیق کی اور ان کی استادی مسلم ہوگئی۔ ذوق کے کئی شاگرد تھے۔ ان میں ۔رزا خاں داغ، ظفر، آزاد، ظہیر ، اور انور کے نام قابل ذکر ہیں :

تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام