Ad

مرزا رفیع سودا کی قصیدہ نگاری

مرزا رفیع سودا کی قصیدہ نگاری


مرزا رفیع سودا کی قصیدہ نگاری

Mirza Rafi Sauda qaseeda in Urdu

مرزا محمد رفیع سودا سے قبل دکن اور شمالی ہند میں ایسے اردو شاعروں کی تعداد خاصی ہے جنھوں نے قصیدے کہے ۔ ان تمام شاعروں اور خود سودا کے معاصرین کے قصیدوں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی اردو زبان قصیدہ نگاری کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔ سودا پہلے اردو شاعر ہیں جنھوں نے قصیدہ نگاری کے فن میں با قاعدگی پیدا کی اور اپنی غیر معمولی صلاحیتوں سے فن قصیدہ نگاری کو عروج پر پہنچایا ۔ اس لیے بعض معاصر تذکرہ نگاروں نے انھیں فن قصیدہ نگاری کا " نقّاش اوّل " کہا ہے ۔

مرزا رفیع سودا کے حالات زندگی

      سودا کے قصیدے سے اردو قصیدہ نگاری کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوتا ہے ۔ سودا کے قصیدوں میں مضامین کا تنوع ، رنگا رنگی ، قدرت کلام اور پر شور انداز بیان ہے ۔ قصیدے کا انداز بیان دوسری اصناف سخن سے بہت مختلف ہوتا ہے ۔ قصیدے میں شاعر طرح طرح کے موضوعات پر اظہار خیال کرتا ہے ۔ اس میں مضمون آفرینی ، جوش بیان ، کلام کی پختگی ، شکوہ الفاظ ، روانی و سلاسلات ، جدتِ بیان ، قادر الکلامی اور مشکل زمینوں میں شعر کہنے کی قدرت شامل ہوتی ہے ۔ ان تمام خوبیوں کے لیے شاعر میں غیر معمولی صلاحیتوں کا ہونا ضروری ہوتا ہے ۔اسی لیے بیش تر تذکرہ نگاروں نے سودا کون قصیدہ نگاری کا امام کہا ہے ۔ سودا کو بنیادی طور پر قصیدے کا شاعر تسلیم کیا جا تا تھا۔ حالاں کہ سودا کوغزل گوئی پر بھی پوری قدرت حاصل تھی ، اس لیے سودا کو پسند نہیں تھا کہ نقادان فن ان کے قصیدے کو غزل پر ترجیح دیں ۔ ان کا ایک شعر ہے:

لوگ کہتے ہیں ! کہ سودا کا قصیدہ ہے خوب

ان کی خدمت میں، لیے میں یہ غزل، جاؤں گا

دکنی اردو ادب میں قصیدے کی روایت

      سودا نے جب قصیدہ گوئی کے میدان میں قدم رکھا ہے ، اس زمانے میں دکنی اور اردو میں قصیدہ نگاری کی خاصی طویل روایت تو تھی لیکن ایسے قصیدے نہیں تھے جو سودا جیسے فن کار کے لیے قابل تقلید ہوتے۔ فارسی میں البتہ قصیدوں کا بیش بہا ذخیرہ موجود تھا۔ سودا نے سن کی قصیدوں کو نہ صرف اپنے لیے نمونہ بنایا بلکہ اس فن میں خاطر خواہ اضافہ بھی کیا۔ قصیدے کی ابتدا عربی زبان میں ہوئی تھی عربی میں جو قصائد کسی کی تعریف میں ہوتے تھے ان کی تمہید یعنی شروع میں عشقیہ اشعار ہوتے تھے جنھیں تشبیب کہا جا تا ہے ۔ جب قصیدہ ایران آیا تو فارسی شاعروں نے عشقیہ مضامین کی پابندی نہیں رکھی بلکہ قصیدے کی تمہید میں طرح طرح کے مضامین داخل کر دیے ۔ فارسی شاعروں نے مذہبی مسائل ، پند و نصائح ، صبر و قناعت ، خود داری ، انسانی عظمت ، دنیا کی ہے ثباتی و نا پائیداری ، شاعرانہ تعلی یعنی اپنی اور اپنے فن کی تعریف ، ہم عصروں پر طعن و تعریض اور معاشی بد حالی وغیرہ جیسے مضامین باندھے گئے۔ تشبیب کے بعد گریز ہوتا ہے۔ گریز ان اشعار کو کہتے ہیں جن کے ذریعے شاعر اپنے اصل موضوع کی طرف رجوع کرتا ہے۔ گریز کے بعد مدح شرع ہوتی ہے۔ گریز میں ایسے اشعار ہوتے ہیں جو تشبیب اور مدح میں ربط پیدا کرتے ہیں ۔ مدح کے بعد خاتمہ ہوتا ہے ، جس میں شاعر ممدوح کے لئے دعا مانگتا ہے یا حسن طلب سے کام لے کر اپنے لیے کچھ طلب کرتا ہے۔


سودا نے جن بڑے فارسی نگاروں کی تقلید کی ہے اور ان کے قصیدوں کو اپنے لئے نمونہ بنایا ہے ، وہ ہیں خاقانی ، انوری ، عرفی ، سودا نے سلاطین اور صاحب ثروت لوگوں اور بزرگانِ دین کی مدح میں کافی تعداد میں قصیدے کہے ہیں۔ 


      بعض تذکرہ نگاروں نے رائے دی ہے کہ سودا کے قصائد فارسی شاعر عرفی ، خاقانی اور انوری کے پہلو بہ پہلو ہیں اور بعض کا تو خیال ہے کہ سودا اپنے بعض قصیدوں میں فارسی قصیدہ گو شعرا سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔ محمد حسین آزاد جیسے ممتاز نقاد اور فن کے پارکھ نے سودا کے قصیدوں کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ ، اول قصائد کا کہنا اور پھر اس دھوم دھام سے اعلیٰ درجہ فصاحت و بلاغت پر پہنچانا سودا کا کارنامہ ہے۔ 

       سودا نے تقریباً 39 قصیدے لکھے ہیں۔ انھوں نے آنحضرت ﷺ ، حضرت علی ، حضرت امام کاظم ، حضرت امام ضامن ، حضرت امام عسکری ، حضرت امام مہدی ، حضرت فاطمہ ، حضرت امام زین العابدین ، حضرت امام حسین ، حضرت امام باقر ، حضرت امام جعفر صادق ، اور حضرت امام تقی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی مدح میں قصیدے لکھے ہیں ۔ دو قصیدوں میں سودا نے مغل بادشاہوں عالم گیر ثانی اور شاہ عالم کی مدح کی ہے۔ ان کے علاوہ سودا نے غازی الدین خاں ، اودھ کے دو نوابوں شجاع الدولہ ، آصف الدولہ اور حکیم میر کاظم ، سرفراز الدولہ ، حسن رضا خاں ، نواب سیف الدولہ ، احمد علی خاں ، بسنت خاں خواجہ سرا ، نواب مہربان خاں رند اور نواب عماد الملک کی مدح میں قصیدے کہے ہیں۔ سودا کا ایک فارسی قصیدہ بھی ملتا ہے جو " قصیدہ در تعریف مسجد نو " کے عنوان سے لکھا گیا تھا۔ 


     قصیدے کی ایک قسم وہ بھی ہے جس میں کسی شخص ، چیز یا روایت کی ہجو کہی جاتی ہے یعنی مذاق اڑایا جاتا ہے۔


      ہجو نگار جب سماج میں نا ہموار ، بے آہنگ ، بد صورت اور ناقص چیزیں دیکھتا ہے تو اس کا حس مزاح جاگ جاتی ہے ، وہ اپنی تخلیقی قوتوں کو رو بکار لاکر ان چیزوں کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ پڑھنے والے پر ان چیزوں میں چھپا تضاد ، ناہمواری اور بے آہنگی اجاگر ہوجاتی ہے۔ سودا نے کچھ ہجویں تو ہجو کے انداز میں لکھی ہیں اور کچھ قصیدے کی طرز پر ۔


      سودا کی ہجویں اور ہجویہ قصائد کو کئی خانوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ بعض ہجویں ایسی ہیں جن میں سودا نے سماجی اور معاشرتی زندگی کی ناہمواری کا مضحکہ اڑایا ہے ۔ ان کی ظریفانہ طبیعت اور شگفتہ مزاجی نے اپنے بعض مخالفوں کو بھی طنز و مزاح کا نشانہ بنایا ہے۔ اپنے ہم عصر شاعروں میں انھوں نے میر ضاحک ، فاخر مکیں ، قیام الدین قائم اور میر تقی میر کو بھی نہیں بخشا ۔


      سودا نے گھوڑے کی کئی ہجویں اور ہجویہ قصائد کہے ہیں۔ انھوں نے حضرت علی کے گھوڑے کی تعریف میں زمین و آسمان ایک کردیا ہے اور سیف الدولہ کی گھوڑی کی مدح میں اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کا بھرپور استمعال کیا ہے۔ 


      فارسی شاعر انوری نے گھوڑے کی ہجو لکھی ہے۔ اس کے انداز کر سودا نے بھی اردو میں " در ہجوِ اسپ موسوم بہ تضحیک روزگار " کے عنوان سے ایک ہجویہ قصیدہ لکھا ہے جسے سودا کے قصیدوں میں بہت اہمیت حاصل ہے ۔

      اپنے معاصرین کے مقابلے میں سودا گہرا سماجی شعور رکھتے تھے ، اسی لیے عہد سودا کی سماجی تہذیبی ، اقتصادی اور تاریخی حقیقتوں کو سمجھنے کے لئے ان کے کلام اور خاص طور پر ان کے شہر آشوبوں اور ہجویہ قصیدوں کا مطالعہ بہت ضروری ہے ۔

مغل حکومت کا زوال

Mughal empire ka zawaal

سودا کی ولادت 1707 ء میں ہوئی تھی۔ اس وقت تک مغل حکومت کے زوال کے اثرات کچھ زیادہ نمایاں ہوئے تھے کیونکہ تقریباً دو صدیوں کی محنت سے حاصل کی ہوئی دولت و طاقت اور عزت و شوکت باقی تھی۔ مغل خزانے ابھی دولت سے بھرے ہوئے تھے لیکن سودا کے دیکھتے ہی دیکھتے یہ خزانے خالی ہوگئے۔ عظیم مغل بادشاہ ، جن کا جاہ و جلال ہندوستان کی تاریخ میں ضرب المثل تھا ، ان کے وارث بے کسی اور لاچاری کی مکمل تصویر بن چکے تھے۔ سودا نے سن بادشاہوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھرتے ہوئیں دیکھیں ۔ جواہرات سے بنایا گیا سرمہ جن کے پیروں کی دھول سمجھا جاتا تھا ۔ ناز و نعم میں پلے ہوئے شہزادے ایک ایک روٹی کو ترس رہے تھے   پھولوں میں چلنے والی شہزادیاں ، جنھیں کبھی سورج کی کرن نے بھی نہیں دیکھا تھا ، حملہ سروں کے ہاتھوں بے آبرو ہورہی تھی ۔ نادر شاہ ، احمد شاہ ابدالی ، روہیلوں مرہٹوں ، جاٹوں اور سکھوں کے ہاتھوں دلی بار بار اجڑ رہی تھی۔ ان حالات کا اثر بہ راہ راست فوج پر پڑا۔ ایران ، خراسان ، ترکستان اور افغانستان سے آنے والے سپاہیوں کی بھرتی بند ہو چکی تھی ۔ شاہی خزانے خالی ہونے کی وجہ سے رہی سہی فوج بھی بے بس اور لاچار ہوگئی تھی ۔ مہینوں اور بعض اوقات برسوں تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے سپاہیوں کے ولولے سرد اور ان کی بہادری اور دلیری مفلسی نذر کی ہو چکے تھے۔ بادشاہ اپنے افلاس کی وجہ سے سپاہیوں کو تنخواہیں دینے سے معذور تھا۔ احمد شاہ کے زمانے میں محلات شاہی کے ساز و سامان کی فہرست بنا کر دکان داروں کو دے دی گئی تھی تا کہ انھیں فروخت کر کے سپاہیوں کی تنخواہیں دی جاسکیں ۔ مفلسی سے تنگ آکر فوجی اپنے گھوڑے بیچ دیتے تھے ۔ پیدل فوج کے پاس وردیاں نہیں رہی تھیں ۔ جانوروں کو کھانے کو چارہ نہ ملتا تھا جس کی وجہ سے وہ مرنے لگے تھے ۔ یہ تھے وہ حالات جن کی عکاسی سودا نے اپنے قصیدے " در ہجو اسپ موسوم بہ تضحیک روزگار " میں کی ہے۔ یہ ہجو قصیدہ ایک گھوڑے اور ایک سپاہی کی نہیں بلکہ یہ علامت ہے اس فوجی نظام کی ۔


حکومت کی مالی بد حالی نے جس کی یہ حالت کردی تھی بہ ظاہر سودا نے اس قصیدے میں طنز و مزاح سے کام لیا ہے لیکن حقیقت میں یہ مغل حکومت کے زوال کی درد ناک تصویر ہے۔ قصیدہ تضحیک روزگار کی ابتدا ان اشعار سے ہوتی ہے :


ہے چرخ جب سے ابلق ایام پر سوار 

رکھتا نہیں ہے دست عناں کا بہ یک قرار


جن کے طویلے بیچ کوئی دن کی بات ہے

ہرگز عراقی و عربی کا نہ تھا شمار


 اب دیکھتا ہوں میں کہ زمانے کے ہاتھ سے 

موچی سے کفشِ پا کو گھٹاتے ہیں وہ ادھار 


ان تینوں شعروں میں سودا نے اپنے عہد کے صاحب اقتدار طبقے کی مختصر لفظوں میں مکمل بد حالی بیان کردی ہے۔

اس کے بعد سودا اپنے ایک دوست کا ذکر ان الفاظ میں پیش کر تے ہیں :


ہیں گے چنانچہ ایک ہمارے بھی مہرباں 

پاوے سزا جو ان کا کوئی نام لے نہار 


نوکر ہیں سو روپے کے دیانت کی راہ میں 

گھوڑا رکھیں ہیں ایک ، سو اتنا خراب و خوار


پھر اس سپاہی کے گھوڑے کی تصویر ان الفاظ میں کرتے ہیں :


نہ دانہ و نہ کاہ نہ تیمار نہ سئیس 

رکھتا ہو جیسے اسپِ گلیِ طفلِ شیر خوار


نا طاقتی کا اس کے کہاں تک کروں بیاں 

فاقوں کا اس کے اب میں کہاں تک کروں شمار 


مانند نقش نعل زمیں سے بجز فنا 

ہرگز نہ اٹھ سکے وہ اگر بیٹھے ایک بار 


اس مرتبے کو بھوک سے پہنچا ہے اس کا حال

کرتا ہے راکب اس کا جو بازار میں گزار 


 قصاب پوچھتا ہے مجھے کب کروگے یاد 

امیدوار ہم بھی ہیں کہتے ہیں یوں ، چمار


دیکھے ہے جب وہ تو بڑہ و تھان کی طرف 

کھودے ہے اپنے سم سے کنویں ، ٹاپیں مار مار


ہے اس قدر ضعیف کہ اڑ جائے باد سے 

میخیں گر اس کے تھان کی ہوویں نہ استوار 


ند استخواں نہ گوشت نہ کچھ اس کے پیٹ میں

دھونکے ہے دم کو اپنے کہ جوں کھال کو لوہار


گھوڑا اتناسن رسیدہ ہے کہ اس کی عمر بتانا مشکل ہے ۔ سودا کہتے ہیں : 


ہے پیر اس قدر کہ جو بتلائے اس کا سِن 

پہلے وہ لے کے ریگِ بیاباں کرے شمار 


لیکن مجھے ز روئے تواریخ یاد ہے

شیطان اس پہ نکلا تھا جنت سے ہو سوار


     اس ہجویہ قصیدے میں صرف طنز و مزاح اور ظرافت نہیں ہے بلکہ آخری دور کے مغلوں کی مالی بدحالی اور فوری نظام کی کمزوری ، ایک عظیم الشان حکومت کے زوال کی سچی تصویر ہے۔


القصہ ایک دن مجھے کچھ کام تھا ضرور 

آیا ہے دل میں جائے گھوڑے پہ او سوار 


رہتے تھے گھر کے پاس قضارا وہ آشنا 

مشہور تھا جنھوں کئے وہ اسپ نابکار 


خدمت میں ان کی میں نے کیا جا یہ التماس

گھوڑا مجھے سواری کو اپنا دو ' مستعار


فرمایا جب انھوں نے کہ اے مہربان من

ایسے ہزار گھوڑے کروں تم پہ میں نثار


لیکن کسی کے چڑھنے کے لائق نہیں یہ اسپ

یہ واقعہ ہے اس کو نہ جانو گے ، انکسار


صورت کا جس کا دیکھنا ہے گا گدھے کو ننگ

سیرت سے جس کے نت ہے سگِ خشمگیں کو عار


بد رنگ جیسے لید و بدبو ہے چوں پشاب

بد یمن یہ کہ اصطبل اوجڑ کرے ہزار


حشری ہے اس قدر کہ بہ حشر اس کی پشت پر

دجال اپنے منہ کو سیہہ کرکے ہو سوار


اتنا وہ سرنگوں ہے کہ سب اڑ گئے ہیں دانت

جبڑے پہ بس کہ ٹھوکروں کی نت پڑے ہے مار


کم رو ہے اس قدر کہ اگر اس کے نعل کا

لوہا گلا کے تیخ بناوے کبھو ، لوہار


ہے دل کو یہ یقین کہ وہ تیغ روزِ جنگ

رستم کے ہاتھ سے نہ چلے وقت کار زار 


مانند اسپ خانہ شطرنج اپنے پاؤں

جز دست غیر کے نہیں چلتا ہے زینہار


    اس ہجویہ قصیدے میں صرف طنز و مزاح اور ظرافت نہیں بلکہ آخری دور کے مغلوں کی مالی بدحالی اور فوجی نظام کی کمزوری کی سچی تصویر ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے