نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ذوق کا قصیدہ

  ذوق کا قصیدہ Zouq ka qasida  ساون میں دیا پھر مہہ شوال ، دکھائی  برسات میں عید آئی ، قدح کش خوار کی بن آئی کرتا ہے ہلال ابروئے ، پُر خم سے اشارہ  ساقی کو کہ گھر بادے سے ، کشتی طلائی ہے عکس فگن جام بلوریں سے ، مئے سرخ  کس رنگ سے ہوں ، ہاتھ نہ مے کش کے حنائی  کوندے ہے جو بجلی تو یہ سوجھے ہے نشے  ساقی نے ہے ، آتش سے ، مئے تیز اڑائی  یہ جوش ہے باراں کا کہ افلاک کے نیچے  ہووے نہ ممیز کره ناری و مائی  پہنچا ، کمک لشکر باراں سے ہے۔ل ، یہ روز  ہر نالے کی ہے دشت میں دریا ، پہ چڑھائی ہو قلزم عماں پہ لب جو متبسم تالاب سمندر کو کرے چشم نمائی  ہے کثرت باراں سے ہوئی عام یہ سردی  کافور کی تاثیر گئی جو زمیں پائی  سردیِ حنا پہنچے ہے ، عاشق کے جگر تک  معشوق کا گر ہاتھ میں ، ہے دست حنائی  عالم یہ ہوا ہوا کا ہے کہ تاثیر ہوا سے  گردوں پہ ہے ، خورشید کا بھی ، دیدہ ہوائی کیا صرف ہوا ہے ، طرب و عیش سے ، عالم  ہے مدرسے میں بھی ، سبق صرف ہوائی خالی نہیں مئے سے روشِ دانۂ انگور  زاہد کا بھی ہر دانۂ تسبیح ریائی کرتی ہے صبا آکے کبھی مشک فشانی کرتی ہے نسیم آکے کبھی ، لخلخہ سائی  تھا سوزئی خار کا صحرا میں جہاں فرش

ملا نصرتی کے حالات زندگی

 



ملا نصرتی کے حالات زندگی




ملا نصرتی کے حالات زندگی

دکنی شاعروں اور ادیبوں کے حالات زندگی عموماً معلوم نہیں ہوتے۔ نصرتی نے اپنی اولین مثنوی " گلشن عشق " میں اپنی
زندگی کے چند حالات پر روشنی ڈالی ہے۔ دکنی کے اولین محقق عبد الجبار خاں نے نصرتی کا نام محمد نصرت لکھا ہے۔ محمد بیجاپوری نے اپنی کتاب " روضۃ الاولیاء بیجاپور " میں نصرتی کے بھائی شیخ منصور کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شیخ نصرتی ملک الشعراء شیخ منصور کے برادر حقیقی تھے۔ ان دو بھائیوں کے علاوہ ایک اور بھائی شیخ عبد الرحمن بھی تھے جو سپاہی پیشہ تھے۔ محمد ابراہیم کی اس اطلاع کی بنا پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دو بھائیوں کے ناموں میں شیخ شامل ہیں ہے اس لیے نصرتی کا نام بھی شیخ نصرت رہا ہو۔ اسی مناسبت سے اس نے اپنا تخلص نصرتی رکھا ہوگا ۔ یہ تینوں بھائی تین مختلف میدانوں میں کمال رکھتے تھے۔ شیخ منصور علم تصوف اور دعوت دنیوی میں منفرد و یکتا تھے۔ شیخ عبد الرحمن فن سپاہ گری میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے اور نصرتی اقلیم سخن کا بادشاہ تھا۔ مثنوی گلشن عشق کے مرتب سید محمد لکھتے ہیں کہ شیخ منصوری کی ایک خاندانی سندِ معاش میں ان کا نام شیخ منصور بن شیخ مخدوم بن شیخ ملک لکھا ہوا ملتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نصرتی کے والد کا نام شیخ مخدوم تھا اور دادا کا نام شیخ ملک تھا۔ یہ لوگ بیجاپور کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ گلشن عشق میں نصرتی نے آپ ے والد کا نام تو نہیں لکھا لیکن ان کے پیشے سے متعلق لکھا ہے ۔


کہ تھا مج پدر سو شجاعت مآب

قدیم یک سلحدار جمع رکاب 

نصرتی کا عہد اور عادل شاہی دور

      یعنی نصرتی کے والد ( شخ مخدوم ) علی عادل شاہ ثانی شاہی حفاظتی جمعیت کے افسر تھے ۔ بادشاہ پر اپنی جان نثار کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے ۔ اپنی زندگی میں انھوں نے کئی کارنامے انجام دیے ، نصرتی کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ کی ۔ اسے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے ۔


نظر دھر کے مج تربیت میں سدا

رکھا نئیں کدھیں مج اپس تے جدا 


      وہ جہاں جاتے خواہ وہ بزرگوں کی مجلس ہی کیوں نہ ہو نصرتی کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ اچھے اور قابل اساتذہ نصرتی کی تعلیم کے لیے مقرر کیے۔ اساتذہ بھی نصرتی کے ساتھ اخلاص برتتے ، خصوصی توجہ کیساتھ تعلیم دیتے تھے۔نصرتی خود بھی بڑا ذہین طالب علم تھا۔ مطالعے کا بڑا شوق تھا ، لکھنا پڑھنا کبھی بار نہ گزرا ، کتابیں اس کے اچھے ساتھی تھے ۔ جب وہ سن شعور کو پہنچا تو اس کی لیاقت کا شہرہ ہو چکا تھا۔ اس کی علمیت اور لیاقت کی وجہ سے لوگ اسے " ملا نصرتی " کہنے لگے تھے۔ خاندانی پیشہ سپہ گری تھا لیکن نصرتی نے فن شاعری میں کمال حاصل کیا ۔ نصرتی کے یہ جوہر شہزادہ علی عادل شاہ ثانی کی نظروں سے زیاد دنوں چھپے نہ رہ سکے ۔ اس نے نصرتی کوا پنا مصاحب بن لیا۔ گلشن عشق میں نصرتی علی عادل شاہ ثانی کے مہر و الطاف کا ذکر اس طرح کرتا ہے:


مری طبع کے کھن کوں قابل پچھان 

نہ کوئی کھن ہے کر اس مقابل پچھاں


دھرن ہار اکثر اثر مہر کی 

رکھیا مج طرف نت نظر مہر کی


جو بخشیا جم اس مہر نے آب و 

ہر یک لعل و رنگیں ہوا آفتاب


رتن یو جو دیپک زمن کے ہوئے

سزاوار شہہ انجمن کے ہوئے


تلک تخت شہہ کوں مبارک ہوا

اپنگ سایۂ حق مبارک ہوا


جو تھا عین شہ کامرانی منے

جہاں بانی و کامرانی منے


بلا بھیج بندے کوں اس حال میں

نظر کر مرے بے بہا مال میں 


نصرتی بادشاہ کی اس قدر افزائی کا ہمیشہ احسان مند رہا۔ کئی جگہ اس کا بھر پور اظہار بھی کرتا ہے۔ 


مجھے تربیت کرتوں ظاہر کیا

شعور اس ہنر کا دے شاعر کیا


وگرنہ نہ تھا مج یو کسبِ کمال

کتا ہوں اتا یو سخن حسب حال


گلشن عشق میں علی عادل شاہ کی مدح کرتے ہوئے اعتراف کرتا ہے کہ


مجھے تربیت توں کیا ہے ککر

دکھایا ہوں کر آج ایسا ہنر

نصرتی کی مثنویاں، رباعیاں 

     نصرتی کی مز ید قدر افزائی کرتے ہوئے علی عادل شاہ ثانی نے تخت نشینی کے بعد اسے ملک الشعرا کا خطاب دیا۔ 

     نصرتی کی تاریخ پیدائش کا پتہ نہیں چلتا۔اس کے کارناموں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس نے تین بادشاہوں کا زمانہ دیکھا۔ محمد عادل شاہ کے عہد ( 1627 تا 1656ء) میں نشو و نما ہوئی ۔ پہلی " مثنوی گلشن عشق " (1657ء) محمد عادل شاہ کے انتقال کے ایک سال بعد لکھی گئی علی عادل شاہ ثانی ( 1656 ء 1672ء) کا مصاحب خاص رہا۔ دوسری مثنوی " علی نامہ " اسی بادشاہ کے عہد میں لکھی گئی اور تیسری مثنوی " تاریخ اسکندری " 1684 میں پایۂ تکمیل کو پہنچی ۔ اس کے دو سال بعد یعنی 1686 میں نصرتی کا انتقال ہوا۔ یہی وہ سال ہے جب اورنگ زیب نے بیجاث پر حملہ کر کے اس عظیم الشان سلطنت کا خاتمہ کیا۔


      کتب خانہ سالار جنگ حیدرآباد میں گلشن عشق کا ایک قدیم نسخہ ہے ۔ اس نسخے پر نصرتی کی قطعہ تاریخ وفات درج ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ نصرتی کی موت طبعی موت نہیں تھی بلکہ اسے حاسدوں نے قتل کیا تھا۔ وہ قطعۂ تاریخ یہ ہے ۔

قطعۂ تاریخ

ضرب شمشیر سوں یہ دنیا چھوڑ

جا کے جنت کے گھر میں خوش ہور ہے


سال تاریخ آ ملا یک نے

یوں کہے " نصرتی شہیدا ہے "


      " نصرتی شہیدا ہے " سے 1085 ھ م 1686 ء بر آمد ہوتے ہیں ۔ محمد ابراہیم بیجاپوری لکھتے ہیں کہ نصرتی کی قبر نگینہ باغ بیجاپور میں ہے دکنی کی مشہور مؤرخ عبدالمجید صدیقی لکھتے ہیں کہ نصرتی کی کوئی اولاد نرینہ نہیں تھی ۔ ایک بیٹی تھی جن کی اولاد بیجاپور میں آج بھی موجود ہے۔

تبصرے

Popular Posts

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

میر تقی میر کی شاعری کا اسلوب

میر تقی میر کی شاعری کا اسلوب میرتقی میر غزل کے مسلم الثبوت استاد ہیں   شعراء نے میر کے دیوان کی تعریف یہ کہہ کر کی ہے کہ ان کا دیوان " گلشن کشمیر " سے کم نہیں ہے۔ اسی طرح تذکرہ نویسوں نے بھی ان کی قادر الکلامی کا اعتراف کیا : قائم چاند پوری : فروغ محفل سخن پردازاں، جامع آیات سخن دانی گردیزی : سخن سنج بے نظیر  میر حسن : شاعر دل پذیر  مصحفی : در فن شعر ریختہ مرد صاحب کمال شیفتہ : سخن ورِ عالی مقام