نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

دہلی میں اردو غزل کا عروج اور غالب


دہلی میں اردو غزل کا عروج اور غالب

dehli me urdu ghazal ka urooj or ghalib


دہلی میں اردو غزل کا عروج اور غالب



دہلی میں اردو غزل کا عروج اور غالب


دلی جب دوبارہ آباد ہوئی ، زندگی کی چہل پہل لوٹ آئی ۔ بہادر شاہ ظفر برائے نام     بادشاہ تھے اصل عمل داری انگریزوں کی تھی ۔ اس دور غالب ، مومن اور ذوق جیسے با کمال شاعر غزل کے افق پر نمودار ہوئے۔ ان میں سے ہر شاعر کا اپنا ایک جدا گانہ طرز تھا ۔ غالب نے ابتدا میں بیدل کے طرز کو اپنایا ، اس کے علاوہ وہ سبک ہندی کے دیگر شاعروں، صائب، غنی کاشمیری وغیرہ سے متاثر تھے ۔ ان شعراء کے  اثرات ، طرز و اظہار اور سلوک تک محدود تھے ۔ ابتدا میں غالب کی زبان فارسی زدہ تھی بعض غزلیں انہوں نے ایسی کہیں جن میں صرف فعل اردو ہے،فعل کو فارسی میں بدل دیا جائے تو پورا شعر فارسی ہوجائے جیسے

شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا
تماشائے بہ یک کف بردنِ صد دل پسند آیا

      ردیف "آیا" کی جگہ "آمد" رکھ دیں تو یہ فارسی کا مطلع ہوجاتا ہے۔ غالب نے بعض احباب کے مشورے سے اپنا اسلوب بدلا اور سادہ زبان میں شعر کہنے لگے ۔ غالب اردو کے عظیم شاعر تھے ۔ انھوں نے غزل کو محض عشق مجاز کے تجربات اور جذبات تک محدود نہیں رکھا، اس میں فکر کے عناصر کا اضافہ کیا۔ انھوں نے حیات و کائنات کے بارے میں اپنی فکرِ محسوس کو بڑی گہرائی کے ساتھ موثر انداز میں پیش کیا۔ معنی آفرینی، غالب کی غزل کی اہم خصوصیت ہے۔ غالب آپ ے عہد کے جدید شاعر تھے ۔ انھوں نے آنے والے دور کے قدموں کی چاپ سن لی تھی ۔ یہی سبب ہے کہ ان کی شاعری میں آج کے عہد کی زندگی اور اس کے مسائل کا پرتو بھی جھلکتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ بڑے فن کار تھے ۔ زبان کے اظہاری اور ترسیلی امکانات کا انھوں نے بڑی خلاقی کے ساتھ استحصال کیا۔ چند شعر 

ملاحظہ ہو:

دہلی میں اردو غزل کا عروج اور مومن و ذوق

سراپا  رہنِ  عشق و ناگزیر  الفت ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا

تماشائے گلشن ، تمنائے چیدن
بہار آفرینا ! گنہگار ہیں ہم

ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا

کوئی آگاہ نہیں باطن یک  دیگر  سے
ہے ہر اک شخص جہاں میں ورق ناخواندہ

حنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے بھی
دوام کلفت خاطر ہے عیش دنیا کا

رہ میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

سب کہاں ، کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی

ہے کہاں  تمنا کا دوسرا قدم  یا رب
میں نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا

گردش ساغر صد جلوۂ رنگیں تجھ سے
آئینہ داری یک دیدۂ حیراں مجھ سے

تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے


تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام