نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

محمد قلی قطب شاہ کی حالات زندگی

محمد قلی قطب شاہ کی حالات زندگی



محمد قلی قطب شاہ کی حالات زندگی


  ابو المظفر سلطان محمد قلی قطب شاہ، بانی مملکت گولکنڈہ ابراہیم علی شاہ کا تیسرا فرزند اور قطب شاہی سلطنت کا پانچواں فرما رواں تھا ، وہ 14 رمضان المبارک 973 ھ مطابق 14 اپریل 1565 کو بروز جمعہ گولکنڈہ میں پیدا ہوا، اس کی ولادت کے موقع پر گولکنڈہ میں کئی دنوں تک جشن کا اہتمام کیا گیا اور مسکینوں اور فقیروں کو انعام و اکرام اور خلعت سے نوازا گیا۔ مورخین کا بیان ہے کہ محمد قلی قطب شاہ کی ماں "بھاگیہ رتی" ایک ہندو خاتون تھی، محمد قلی کی تخت نشینی 15 سال کی عمر میں 988ھ/1580ء میں عمل میں آئی۔ اس نے کم و بیش اکتیس برس تک نہایت تزک و احتشام کے ساتھ حکمرانی کی اور 47 سینتالیس سال کی عمر میں 1020ھ/ 1611ء میں انتقال کیا۔


  محمد قلی کے معاصرین میں یہ عہد شمالی ہند میں مغل فرماں روا اکبر اعظم اور جنوبی ہند میں عادل شاہی حکمران ابراہیم عادل شاہ ثانی "جگت گرو"کا تھا۔ انگلستان میں یہ دور ملکہ الزبیتھ کا تھا اسے شیکسپئر ین دور بھی کہتے ہیں۔ اول الذکر دو سلاطین محمد قلی کی طرح ہندوستانی تہذیب و تمدن کے فروغ اور اپنی مملکت میں بسنے والے تمام طبقات کے مابین یک جہتی اتحاد اور رواداری کے جذبات کی ترویج کے سلسلے میں غیر معمولی شہرت رکھتے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ مورخین جس تہذیب و تمدن کو "ہند المانی کلچر" کے نام سے یاد کرتے ہیں اس کے نمایاں خدوخال اکبر اعظم ،محمد قلی قطب شاہ اور ابراہیم عادل شاہ جگت گرو کے دور میں نظر آتے ہیں ۔


 مختلف تذکروں اور تاریخوں میں محمد قلی کے پانچ بھائیوں شاہ عبد القادر حسین قلی، عبد الفتاح ، خدا بنده، محمد امین اور دو بہنوں کا ذکر ملتا ہے۔ ایک بہن دکن کے مشہور صوفی حضرت حسین شاہ ولی سے بیاہی گئی تھیں اور دوسری شاہ مظہرالدین کی اہلیہ تھیں ۔


محمد قلی قطب شاہ کو خوش قسمتی سے ایک مستحکم اور طاقتور حکومت اپنے باپ سے ورثے میں ملی تھی ۔ اس کا دور حکومت دو ایک معمولی لڑائیوں کو چھوڑ کر بڑی حد تک امن و امان میں گزرا۔ یہ ضرور ہے کہ اندرون ملک اس کے مخالفین نے وقتافوقتا سازشیں کیں اور کبھی کبھی ہنگامے بھی کھڑے کیے لیکن محمد قلی کو انھیں کچلنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔ محمد قلی کی سخاوت اور کشادہ دلی کا تذ کرہ کم و بیش تمام مورخین نے کیا ہے ۔ تخت نشین ہوتے ہی اس نے اپنے دربار کے امیروں، فوجی افسروں، شاعروں اور اہل کمال کو بلا تفریق مذبب و ملت بڑے بڑے انعامات اور اعزازات عطا کیے۔ اس کے دورحکومت میں ایران کے مشہور عالم میر مومن حیدر آباد آئے تھے جنھیں بادشاہ نے اپنا مشیر مقرر کیا تھا۔ سلطنت کے بیشتر کاروبار کی عام نگرانی میر مومن ہی کے سپر تھی۔ یہی سبب تھا کہ محمد قلی کو سیاسی فکروں سے آزاد رہ کر عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کا موقع مل گیا۔



محمد قلی کی تعلیم وتربیت اس کے بڑے بھائیوں شاہ عبدالقادر اور حسین قلی کے مقابلے میں ادھوری اور ناقص رہ گئی تھی ۔ اس نے متعدد اشعار میں اپنے آپ کو "اُمی" ان پڑھ لکھا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تعلیم سے بالکل محروم تھا۔ یہ سہی ہے کہ اس کی تعلیم وتربیت اس کے بھائیوں کے نہج پر نہیں ہوئی تھی اور وہ علوم عربیہ ،فقہ، تصوف، منطق وغیرہ پرمہارت نہیں رکھتا تھا تا ہم فن شاعری کے رموز و آداب سے کما حقہ واقفیت رکھتا تھا اور اس نے اساتذۂ فارسی خاقانی، انوری، عنصری اور خصوصاً حافظ شیرازی کا بنظر غائر مطالعہ کیا تھا۔ حافظ شیرازی کا وہ پہلا متر جم ہے ۔ اس نے خواجہ حافظ کی متعدد غزلوں کا دکنی اردو میں منظوم ترجمہ کیا ہے ۔ نمونتاً دو اشعار کا ترجمہ ملاحظہ ہو ۔


گل بے رخ یار خوش نہ باشد 

بے بادہ بہار خوش نہ باشد


با یار شکر لب و گل اندام

بے بوس و کنار خوش نہ باشد 


پُھل بن رخ یار خوش نہ دیسے

بن مد پھلی جھاڑ خوش نہ دیسے

مو یار شکر لب و چنپا رنگ 

بنِ چُمن یار خوش نہ دیسے 



شہر حیدرآباد کا قیام 

محمد قلی قطب شاہ کے عہد کا ایک یادگار کارنامہ شہر حیدر آباد کا قیام ہے۔ محمد قلی کی بلند خیالی ایک وسیع اور متمدن شہر کی طلب گار تھی ۔ اس زمانے میں قلعۂ گولکنڈہ کے اطراف آبادی بے ہنگم طور پر پھیلتی جارہی تھی۔ آبادی کی ضروریات کے لحاظ سے یہ شہر نا کافی تھا۔ چنانچہ محمد قلی نے شہر گولکنڈہ کے قریب ایک وسیع اور منصوبہ بند شہر کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا۔ چار مینار اس شہر کا مرکزی مقام قرار پایا۔ اس کے اطراف چاروں جانب سیدھی سڑکیں بنائی گئی اور قرب و جوار شاہی محل تعمیر کروائے گئے۔ محمد قلی نے شہر کے قیام کے ساتھ ہی اس بات کا پورا لحاظ رکھا کہ اس میں ایک متمدن زندگی کی تمام ضرورتیں موجود ہوں۔ چنانچہ اس شہر میں بے شمار مسجدیں، خانقاہیں، مدرسے، عاشورخانے، لنگر خانے، مہمان خانے، اور کاروان سرائیں بنائی گئیں۔ 

محد قلی نے حیدر آباد کو دنیا کا ایک با رونق شہر بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اس کو اپنے شہر سے اس قدر محبت تھی کہ وہ اس کی معموری کے لئے خدا سے دعا کرتا ہے کہ "اے خدا میرے شہر کوتو لوگوں سے اس طرح معمور کر دے جس طرح تو نے دریا کو مچھلیوں سے بھر دیا ہے"


تمدنی اور سماجی نقطۂ نظر سے محمد قلی کا عہد حکومت تاریخ دکن میں ایک یادگار دور کی حیثیت رکھتا ہے ۔ محمد قلی نے اس بات کی خاص طور پر کوشش کی کہ اس مملکت میں بسنے والے مختلف فرقوں کے درمیان یگانیت اور بھائی چارگی کے جذبات نشو و نما پائیں ۔


حیدرآباد کا قیام، چارمینار، محمد قلی کی تعلیم و تربیت، حیدرآباد منصوبہ بند شہر، سلطنت گولکنڈہ، محمد قلی قطب شاہ کی حالات زندگی، محمد قلی کی غزل گوئی، 


تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام