نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

جدید اردو غزل جدیدیت کی تحریک کا زوال

جدید اردو غزل جدیدیت کی تحریک کا زوال

جدید اردو غزل جدیدیت تحریک کا زوال


بیسویں صدی کی ساتویں دہائی کے گزرتے گزرتے جدیدیت کی تحریک ماند پڑ گی لیکن اس کے اثرات آٹھویں دہائی کے آغاز تک باقی رہے۔ گذشتہ بیسں پچیس برسوں میں ملک کی سیاسی، سماجی زندگی میں بڑی تبدیلیاں ہوئیں اور سیاسی معاشی طور پر عالمی مناظر نامہ بھی بدل گیا۔ فرد کی تنہائی اور اجنبیت کے احساسات جو مشینی زندگی کے زائدہ تھے، رفتہ رفتہ ختم ہونے لگے ۔ سوویت یونین کے زوال اور امریکی سامراج کی بالا دستی نے نو آزاد نو آبادیاتی ملکوں کی تیسری دنیا کو نئے مسائل سے دوچار کیا ۔ اندرون ملک فرقہ وارانہ طاقتیں زور پکڑنے لگیں۔ غربت، جہالت اور بے روزگاری میں یک گونہ اضافہ ہوا۔ لسانی اور مذہبی اقلیتوں میں جو مایوسی کا شکار تھیں، بیداری پیدا ہوئی اور وہ جہد للبقا کی کشمکش سے دوچار ہوئیں ۔ شاعری میں زندگی کے بارے میں قدیم تصورات کا عمل دخل کم ہو گیا ۔ شاعر اپنے انفرادی اور سماجی ردعمل کا آزادانہ اظہار کرنے لگے ۔ جدید تر غزل میں ہجرت اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کو خاص طور پر موضوع بنایا گیا ۔ دہشت گردی اور فسادات نے جو تباہی مچائی اور خوف کا ماحول پیدا کر دیا اس کی عکاسی بھی جدید غزل میں ملتی ہے۔ اس کے علاوہ ظلم  اور نا انصافی کے خلاف جدید تر شاعر شدت سے احتجاج کرتے ہیں ۔ دور حاضر کی غزل کو مابعد جدید غزل کہنا شاید درست نہ ہوگا کیوں کہ مابعد جدیدیت کے پورے خد و خال ہمارے ادب میں ابھرے نہیں ہیں اور خور مابعد جدیدیت کی اصطلاح پوری طرح واضح نہیں ہے۔ ذیل میں ہم عصر غزل سے چند شعر نمونتا پیش کیے جاتے ہیں:

یہی کٹے ہوئے بازو علم کیے جائیں
یہی پھٹا ہوا سینہ سپر بنایا جائے
عرفان صدیقی

ہے اجڑتے شہر کا فیصلہ سیہ حاشیے پہ لکھا ہوا
جو ہوا سے نکلا غبار تھا جو بچا گھروں میں ملال تھا
مصور سبزواری

منتشر ذہن لیے دھوپ میں آ بیٹھا ہوں
چھن گئی آج مرے خواب کی دولت مجھ سے 
غلام حسین ساجد

چاند اکیلا افسردہ ہے رات کی محفل میں
باقی دنیا لگی ہوئی ہے جشن منانے میں 
عبید صدیقی

کھا گئی ذوق سفر آسائش شہر دمشق 
سر میں ہجرت کا نشہ اب وہ نہیں جو پہلے تھا 
زکی بلگرامی

کانچ ہی گڑیا دیکھی ہر طرف منڈیروں پر 
آب و دانہ کیا دیں گے ایسے گھر پرندوں کو
مصطفی شہاب

ہمارے دن ہمارے واسطے اک بوجھ بن جاتے 
اگر راتوں پہ خوابوں کی نگہبانی نہیں ہوتی
مہتاب حیدر نقوی

گھر سے چلو تو چاروں طرف دیکھتے چلو
کیا جانے کون پیٹھ میں خنجر اتار دے
اسلم الہ آبادی

سپاہ مکر و ریا ساحلوں پہ خیمہ زن
غریق دجلۂ خوں ہیں شجاعتیں ساری
اسعد بدایونی

رہ گیا میں اجنبی صحرا میں سائے ڈھونڈتے
میرے آنگن کے شجر کتنے تناور ہوگئے
اعتماد صدیقی

کوئی اگر طلب کرے تم سے حساب تیرگی
صاحب اختیار ہو آگ لگا لیا کرو
قاسم پیر زادہ

ساحل پہ جلا ڈالیں گے سب کشتیاں لیکن
ثابت تمھیں ہم اپنے سفینے نہیں دیں گے
صلاح الدین نیر

پتے چھٹر کی رت میں کتا سبک بار ہے وہ پیڑ
جس کے بدن پہ دیر تک پتوں کا بوجھ تھا
صدیقہ شبنم

ہجر و وصال چراغ ہیں دونوں تنہائی کے طاقوں میں
اکثر دونوں گل رہتے ہیں اور جلا کرتا ہوں میں
فرحت احساس

کھلیں آنکھیں تو خائف تھا کہ دنیا دیکھتی ہے سب
اور آنکھیں بند کرلی تو دنیا دیکھتا ہوں میں 
شہپر رسول

نیند اڑا دیتی ہے پہلے آنکھوں سے
ہر آہٹ پھر رخصت ہونے لگتی ہے
نعمان شوق

حال اپنا جو چھپانا ہی کسی کو ہے تو
گھر کا کوڑا بھی نہ دروازے کے باہر پھینکنا
رحمٰن جامی

راتیں علیل صبح کا چہرہ بجھا ہوا
اس دور کا بدن ہے لہو تھوکتا ہوا 
علی الدین نوید

ویسے بھی اب دلوں میں تعلق نہیں رہا
کیوں درمیاں اٹھاتے ہو دیوار بے سبب
خالد سعید

جانے کدھر کو اڑ گئیں لمحوں کی تتلیاں
یادوں کی انگلیوں پہ فقط رنگ رہ گیا
ارشد جمال

کیا دیکھتے ہو راہ میں رک کر یہاں وہاں 
ہے خاک و خوں کا ایک سا منظر یہاں وہاں
محسن زیدی

آگ برسا کر فضا سے جیت لوگے تم زمیں
پر حکومت کے لئے آدمی بھی چاہیے 
خورشید اقبال

اک دوسرے کو شک کی نظر سے تکا کیے 
ہمسائے سے جو اب کہ مرا سامنا ہوا
احسن رضوی

سوویت یونین کے زوال  امریکی سامراج جدیدت تحریک پاکستانی اردو ادب بیسویں صدی کی شاعری اردو سلیبس بیسویں صدی کے شعرا اردو غزل جدیدیت کی تحریک کا زوال

تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام