نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

محمد قلی کی غزل گوئی اظہار بیان کی سادگی

 

 محمد قلی کی غزل گوئی اظہار بیان کی سادگی


محمد قلی کی غزل گوئی اظہار بیان کی سادگی


     محمد قلی قطب شاہ اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر ہے۔  گولکنڈے کے چھٹے حکمراں اور محمد قلی کے بھتیجے اور داماد سلطان محمد قطب شاہ نے 1616 میں کلیات محمد قلی کو مرتب کرکے اس پر ایک منظوم مقدمہ بھی تحریر کیا تھا۔  محمد قلی کو اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر ہونے کے علاوہ یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے صنف  غزل پر سب سے پہلے با قاعد طبع آزمائی کی ۔ تعداد اور تنوع کے اعتبار سے جتنی غزلیں محمد قلی قطب شاہ کے یہاں ملتی ہیں اتنی دکنی اردو کے کسی اور شاعر کے دیوان میں نہیں ملتیں ۔


      محمد قلی نے ایک ایسے دور میں غزل کی صنف پر خصوصی توجہ دی جب کہ دبستان دکن میں مثنوی کا طوطی بول رہا تھا۔ محمد قلی سے قبل دکنی اردو میں غزل کی روایت نہایت کمزور تھی۔ صرف مشتاق، لطفی، فیروز، محمود اور ملاخیالی کی اکا دکا اور متفرق غزلیں ہی کل کائنات غزل تھی ۔ محمد قلی نے یوں تو تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی لیکن بنیادی طور پر وہ غزل کا شاعر ہے۔  مثنویوں اور رباعیوں کو چھوڑ کر اس کا سارا کلام غزل کی ہئیت میں ہے یہاں تک کہ اس کی وہ تخلیقات بھی جنھیں ڈاکٹر زور اور ڈاکٹر سیدہ جعفر نے عنوانات قائم کر کے نظم سے تعبیر کیا ہے۔ دراصل محمد قلی کی مسلسل اور مربوط غزلیں ہی ہیں اور خود محمد قلی نے ایسی تخلیقات کے لیے ”غزل“ کی اصطلاح استعمال کی ہے ۔ جیسے "غزل مرگ" ، "غزل سوری"، "مبعث کا غزل" وغیرہ


نبی صدقے کھیا ہے قطب مبعث کا غزل رنگیں

کہ اس کی تازگی ہور روشنی تھے ہے جہاں روشن


محمد قلی ایک پر گو اور قادر الکلام شاعر تھا اس کی ضخیم کلیات پچاس ہزار ابیات پر مشتمل ہے۔ اس کی موزونی طبع کا یہ عالم تھا کہ وہ ہر روز اسی طرح شعر کہنے پر قادر تھا جس طرح دریا میں روز موجیں اٹھتی ہیں اس کے باوجود دریا کی روانی میں فرق نہیں آتا چنانچہ محمد قلی قطب کہتا ہے۔


صدقے نبی قطب شاہ یوں شعر بولے ہر دن

دریا کوں روز جوں ہے موجاب کا طلوع 


اظہار بیان کی سادگی


     محمد قلی کی غزل گوئی کی سب سے نمایاں خصوصیت اظہار بیان کی سادگی ہے۔ وہ اپنے جذبات و احساسات اور مشاہدات زندگی کو سیدھے سادے انداز اور سہل زبان میں پیش کرتا ہے ۔


نین تیرے دو پھول نرگس تھے زیبا 

نزاکت ہے تجھ مکھ میں رنگیں چمن کی


صباحی او مکھ دیکھ پینا شراب 

فرح بخش ساعت میں لینا شراب 


ترے نیہہ بن جیونا منج نہ بھاوے

مسیحا نمن آپ دم سوں جلا منج



محمد قلی کی زندگی سراسر عیش کی زندگی تھی۔ شراب نوشی اور عشق بازی اس کے محبوب مشاغل تھے۔


شراب ہور عشق بازی باج منج تھے نارھیا جائے

کہ یو دو کام کرنا کر لئی سوگند کھایا ہوں 


     محمد قلی ایک کثیرالمحبوب شاعر ہے۔ اس کے محلوں میں کئی ملکوں کی متعدد حسینائیں موجود تھیں۔ بادشاہ وقت ہونے کی وجہ سے اس کو کبھی کسی محبوبہ کا انتظار نہیں کرنا پڑا بلکہ اس کی محبوبائیں خود اس کے درشن کے لئے ہمیشہ آنکھیں بچھائیں رہتی تھیں۔ اس لیے اس کی آرزوؤں اور تمناؤں کے پورا نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ محمد قلی کے کلام میں فکر  کی گہرائی یا رنج و الم کے جذ بات ملیں گے اور نہ بد نصیبی یا ناکامی کا شکوہ ملے گا۔ اس نے اپنی زندگی کی بہاریں عیش و نشاط اور راگ رنگ میں گزاریں اس لیے اس کی شاعری میں رنگ رلیاں اور مستیاں ہیں، رنگینی و رعنائی ہے، سیرابی و سرمستی ہے، تازگی و شگفتگی ہے۔ غرض آسودگی کے تمام روپ اس کی غزلوں میں جلوہ گر ہیں ۔ اس نے اپنے آپ کو مسرور رکھا اور خوشی کے اظہار کے لیے جھوم جھوم کر گیت گائے ہیں۔


سجن کے ہونٹ امرت کا لذت یک دیس چاکے تھے 

سو او لذت کوں اجنوں لک کیا ہے مج رسن تعویذ


پیاسوں رات جاگی ہے سو دستی ہے سو دھن سر خوش 

مدن سر خوش، سین سر خوش، انجن سر خوش، نین سر خوش

تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام