نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

مرزا غالب کی حالات زندگی


مرزا اسداللہ خان غالب کی حالات زندگی

مرزا غالب کے حالات زندگی

Mirza Ghalib biography in urdu
گذشتہ اکائی میں ہم نے خواجہ حیدر علی آتش کی زندگی کے حالات پر روشنی ڈالی۔ ان کی غزل گوئی کا سیر حاصل جائزہ لیا اور آتش کی چار غزلیں بھی پیش کیں ۔ غزل کے دو اشعار کی تشریح بھی کی گئی کہ آپ کو آتش کی غزلوں کو سمجھنے میں مدد ملے ۔ مجموعی طور پر آپ نے آتش کی غزل کی خصوصیات سے آگہی حاصل کی ۔ یہ اکائی اردو کے ایک عظیم شاعر غالب کے بارے میں ہے ۔ اس اکائی میں ہم غالب کی حیات کے بارے میں بتائیں گے ۔ ان کی غزل گوئی کا جائزہ بھی لیا جائے گا ۔ آپ غالب کی چار غزلوں کا مطالعہ کریں گے ۔ بہ طور نمونہ دو اشعار کی تشریح بھی کی جاۓ گی ۔ ہم اس اکائی کا خلاصہ پیش کر یں گے ۔

مغل سلطنت کا آ فتاب غروب ہوا چاہتا تھا لیکن غروب ہوتے ہوۓ بھی لعل بدخشاں کے جو ڈھیر اس آفتاب نے چھوڑے ان میں سے ایک کو دنیا اسد اللہ خاں غالب کے نام سے جانتی ہے ۔ یہ زمانہ اگر چہ مغلیہ سلطنت کے سقوط کا تھا لیکن اردو شاعری کا آ فتاب نصف النہار پر تھا۔ بہادر شاہ ظفر اگر چہ براۓ نام بادشاہ تھے لیکن علم و فن کے قدر داں تھے ادبی نو رتنوں کو اپنے ہاں جمع کر رکھا تھا ۔ پھر جہاں تک شعر وادب کا تعلق ہے، دہلی تو ایسی دلی تھی کہ چشم فلک نے پر کبھی ایسی دلی نہیں دیکھی ہوگی۔ غالب، ظفر، شاہ نصیر، مولوی فضل حق خیرآبادی، ذوق، مومن، امام بخش صہبائی، میر، مہدی مجروح، بر گوپال تفتہ، شیفتہ، حالی، ہرایک در نایاب اپنی مثال آ پ اور بے بدل تھا۔ 
     غالب نے ہر چند کہ 13-1812 سے دہلی میں سکونت اختیار کرلی تھی لیکن ان کا دلی آنا جانا تو اسی وقت سے تھا جب وہ سن شعور کو پہنچ چکے تھے۔ غالب کے آبا و اجداد کا وطن نہ تو دلی تھا اور نہ آگرہ۔ کہتے ہیں ان کے دادا مرزا قوقان بیگ جو تورانی نسل سے تعلق رکھتے تھے، سمرقند کے رہنے والے تھے ۔ احمد شاہ ابدالی کے تیسرے حملے (دسمبر 1751ء تا مارچ 1752ء ) سے ہندوستان ابھی سنبھل ہی رہا تھا کہ مرزا قوقان بیگ تلاش معاش میں یہاں آئے۔ پہلے تو وہ لاہور میں نواب معین الملک کے ہاں ملازم رہے پھر عالم گیر کے عہد میں دہلی پہنچے اور دیڑھ دوسال بعد شاہ عالم کی شہزادگی کے عہد میں شاہی ملازم ہوئے۔ پھر نجف خان کی ملازمت اختیار کی بعد ازاں وہاں سے مستعفی ہوکر مہاراجہ جے پور کے یہاں ملازم رہے ۔ اس طرح آگرہ ان کی جائے سکونت بنا۔ مرزا قوقان بیگ کی شادی 1763 ء میں ہوئی اور غالب کے والد مرزا عبداللہ بیگ خاں 1765ء میں دہلی میں پیدا ہوئے جن کی شادی آگرے میں 1793 ء میں خواجہ غلام حسین خاں کمیدان کی دختر عزت النساء بیگم سے ہوئی۔ ان کے بطن سے 27 دسمبر 1797ء بمطابق 8 رجب المرجب 1212 ھ کو غالب پیدا ہوئے۔ مرزا عبداللہ بیگ خاں نے کبھی حیدرآباد میں ملازمت کی تھی، بعد ازاں وہ ریاست الور کی فوج میں ملازم ہوئے ۔ 1801 ء میں ایک گڑھی کے زمیندار سے مقابلہ کرتے ہوۓ انھیں گولی لگ گئی اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی تدفین الور ہی میں عمل میں آئی

        والد کے انتقال کے بعد غالب کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ خاں نے کی۔ مرزا نصر اللہ بیگ خاں مرہٹوں کی طرف سے آگرے کے قلعہ دار تھے۔ 1806ء میں کسی معرکے میں تھے کہ ہاتھی سے گر کر زخمی ہوئے اور یہی حادثہ ان کے انتقال کا سبب بنا۔ اس وقت غالب کی عمر صرف (9) برس کی تھی۔ ایسے میں ان کی پرورش ان کے ننھیال میں ہونے لگی۔ مرفہ الحالی تو تھی ہی، مزید یہ کہ لاڈ پیار نے انھیں باضابطہ تعلیم و تربیت سے دور رکھا۔ غالب کا یہ دور خاصی رنگ رلیوں اور لہو و لعب میں گزرا۔ ویسے انھوں نے ایک مختصر سی مدت کے لیے ہی آگرے کے مولوی معظم کے مکتب میں تعلیم حاصل کی تھی لیکن زبان و بیان اور شعر و ادب پر اپنی خداداد صلاحیتوں کے باعث قدرت حاصل کی ۔ غالب ابھی تیرہ برس ہی کے تھے کہ الہی بخش خاں معروف کی چھوٹی بیٹی امراؤ بیگم سے 19 اگست 1810 ء بمطابق 17 رجب المرجب 1225 کو دہلی میں ان کا نکاح ہوگیا۔ دو ایک سال تو کچھ یوں ہی آنا جانا رہا  13-1812 سے غالب نے دہلی میں سکونت اختیار کرلی۔
        غالب آگرے میں ہوتے تو یقینا وہ علمی و ادبی صحبتیں انھیں میسر نہ آتی جو دہلی جیسے عالم میں انتخاب شہر میں انھیں حاصل ہوئیں۔ غالب نے ان سے بھر پور استفادہ کیا ان کے خسر نواب الہی بخش خاں معروف اپنے زمانے کے نامور شاعر تھے اور ان کا اہل اللہ میں شمار ہوتا تھا معروف کے بڑے بھائی والیِ لوہارو نواب فخر الدولہ دلاور الملک احمد بخش خاں رستم جنگ اور ان کے بڑے صاحبزادے ضیاء الدین احمد خان نیر، رخشاں، دہلی کے آفتابوں اور ماہتابوں میں تھے ۔ ادھر فضل حق خیرآبادی تھے جن کی صحبت نے غالب کی شخصیت کو نکھار دیا۔ اسی زمانے میں مالی پریشانیاں بھی افزوں ہونے لگیں ۔ غالب کو نصراللہ بیگ خاں کے وارثوں میں ہونے کی وجہ سے ان کی جاگیر سے حصہ ملتا تھا اور یہی غالب کی آمد نی تھی۔ نصراللہ بیگ خاں کے انتقال کے بعد یہ جاگیریں نواب احمد بخش خاں کے علاقے میں شامل ہوگئیں اور جب انھوں نے اپنی جاگیروں کو اولاد میں تقسیم کیا تو غالب کے حصے کی تقسیم شمس الدین احمد خان، رئیس فیروز پور کے ذمے کی گئی۔ غالب کی شمس الدین احمد خان سے پہلی ہی سے ان بن تھی اور اب جاگیر کے حصے کی تقسیم میں ان کا رویہ نا مناسب رہا تو غالب نے مقدمہ دائر کرنے کی ٹھانی اور اس مقصد کے لیے کلکتہ کا سفر کیا جو ان دنوں ہندستان کا صدر مقام تھا۔ غالب کے سفر کلکتہ کی داستان طویل ہے ۔ غالب فروری 1828 میں کلکتہ پہنچے ۔ اپنے اس سفر میں انھوں نے فیروز پور اورفرخ آباد کے علاوہ لکھنؤ اور بنارس میں بھی قیام کیا جس کے اثرات ان کی شخصیت اور شاعری پر ملتے ہیں۔
     غالب کو کلکتے میں اپنی پینشن کے سلسلے میں کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی لیکن ادبی اور ثقافتی طور پر ایک کشادہ منظر ان کے سامنے رہا۔ کلکتے میں جب غالب کا رہنا ہوا تو انہوں نے وہاں ے ایک الگ ہی دنیا دیکھی۔ انگریزی تہذیب و تمدن، سائنسی و ٹیکنالوجی کی  ایجادات اور صنعتی ترقی کے نتائج ان کے سامنے تھے۔ اس کا بیان حال انھوں نے تفصیل کے ساتھ  اپنی کتاب "آئین اکبری" کے لیے تحریر کردہ اپنی تقریظ میں کیا ہے ۔ اس مشہورغزل میں بھی کلکتے کا دل کش تذ کرہ کیا ہے جس کا مطلع ہے:
Mirza Ghalib sad poetry
کلکتہ کا جو ذکر(واردات) کیا تو نے ہم نشیں(دوست)
اک تیر مرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

     غالب کو کلکتے میں ذہنی پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ مرزا قتیل سے معرکہ آرائی سفرِ کلکتہ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ اس ضمن میں غالب کو جس کرب سے گزرنا پڑا اس کا تھوڑا بہت اندازہ ان کی فارسی مثنوی ’’بادمخالف‘‘ کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ سفر کلکتہ کے دوران انھوں نے بنارس میں بھی قیام کیا۔ مثنوی "چراغ دیر" ان کی بنارس کی یادوں کی دستاویز ہے۔  غرض غالب نے کلکتے میں پایا کم اور کھویا زیادہ اور یوں لٹے لٹائے 29 نومبر 1829 ء کو دہلی واپس ہوئے۔ البتہ ان کا سفر کلکتہ ان کی شخصیت اور شاعری کو نیا رخ دینے میں کامیاب رہا۔
      مالی اور معاشی معاملات کا جہاں تک تعلق ہے، ایسا لگتا ہے کہ غالب کا مقدر گہنا چکا تھا۔ دہلی میں ان کے لیے فضاساز گار نہیں تھی۔ پہلی بات تو یہ کہ یہاں قرض دار موجود تھے جن سے وہ چھپتے چھپاتے رہے۔شمس الدین احمد خاں کو پھانسی کا باعث اور سہی لیکن غالب سے ان کی عداوت کی روشنی میں اہل دہلی غالب پر بھی شبہ کرتے تھے۔ 
     1840 ء کی بات ہے کہ غالب کو دہلی کالج میں فارسی کی پروفیسری کا پیش کش کیا گیا لیکن انھوں نے اس منصب کو اس لیے قبول نہیں کیا کہ جب وہ انٹرویو کے لیے پہنچے تو پرنسپل نے جس سے غالب کے ذاتی مراسم تھے سواری تک آکر ان کا استقبال نہیں کیا۔ پرنسپل کا کہنا تھا کہ غالب اس وقت ملازمت کے لیے امیدوار کی حیثیت سے آئے تھے، ذاتی طور پران کے استقبال کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
      غالب کو ابتدائی عمر سے شطرنج اور چوسر کھیلنے کی عادت تھی اور بسا اوقات وہ بازی بدکر کھیلا کرتے تھے۔ یہی نہیں وہ اپنے گھر میں لوگوں کو جوا بھی کھلایا کرتے تھے جو خلاف قانون اور لائق تعزیر تھا۔ اس بارے میں کسی نے مخبری کر دی۔ غالب گھر پر جوا کھلانے کے الزام میں اگست 1841ء میں گرفتار کیے گئے۔ عدالت نے انھیں (100) روپے جرمانے اور عدم ادائی جرمانہ کی صورت میں چار ماہ قید کی سزا سنائی ۔ جرمانہ ادا کیا گیا اور بات آئی گئی ہوگئی لیکن ابھی چند سال ہی گزرے تھے کہ گھر پر جوا خانہ قائم کرنے کے الزام میں غالب 25 مئی 1847ء کو دو بارہ گرفتار کر لیے گئے۔ اس بار انھیں چھ ماہ کی قید اور (200) روپے جرمانہ کی سزا ہوئی (50) روپے ادا کر نے پر مشقت معاف کر دی گئی اور احباب کے اثرات اور مجسٹریٹ کی سفارش پر صرف تین ماہ قید میں رہنے کے بعد غالب رہا کر دیے گئے۔ غالب کے لیے یہ بڑا پشیمانی کا دور تھا تاہم ان کی ادبی منزلت کم نہ ہوئی۔
 
     کچھ تو انگریزی حکومت کے وظیفہ خوار ہونے کی وجہ سے کچھ درباری رنگ ڈھنگ کے باعث غالب کے دربار سے مراسم پیدا نہیں ہوئے تھے اور جب انگریز قلعے کے معاملات میں دخیل ہوتے گئے تو غالب کے لیے بھی دربار میں باریابی کی صورت نکل آئی اور وہ 4 جولائی 1850 کو بہادر شاہ ظفر کے دربار میں پیش ہوئے۔ انھیں چھے پارچے اور تین رقم جواہر کا خلعت اور نجم الدولہ و دبیر الملک نظام جنگ کے خطاب سے سرفراز کیا گیا۔ ان کی ماموری خاندانِ تیموریہ کی تاریخ لکھنے پر عمل میں آئی اور تنخواہ 600 روپے سالانہ قرار پائی۔

     غالب کی زندگی اب بدلے ہوئے دھارے پر آگے بڑھ رہی تھی۔ جہاں تک دنیاوی آرام و آسائش، جاہ و منصب اور مال و دولت کا تعلق تھا غالب کو اپنے معیار کے مطابق حاصل نہیں ہوا تھا۔ تاہم حالات بہتر ہو چکے تھے۔ اسی دوران 15 نومبر 1854 ء کو استادِ شاہ ذوق کا انتقال ہوگیا۔ اب بہادر شاہ ظفر نے اپنا کلام غالب کو دکھانا شروع کیا اور یوں غالب استادِ شاہ بن گئے۔ ان کی مرتبت میں اضافہ ہوا لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ حالات نے اچانک نازک موڑ لیا اور 10 مئی 1857 ء کو شہر میرٹھ سے پہلی جنگ آزادی کا آغاز ہوا.... گویا ایک قیامت ٹوٹ پڑی۔ کوئی کسی کا پرسان حال نا رہا، زندگی کے لینے دینے پڑ گئے غالب نے وہ دیکھا جو انھوں نے سوچانہیں تھا۔ 20 ستمبر 1857 ء کو انگریزوں نے دہلی پر مکمل قبضہ کر لیا۔ قلعے کی تنخواہ تو بند ہونا ہی تھی، انگریزوں سے ملنے والی پینشن بھی بند ہوگئی۔ غالب کی بیوی امراؤ بیگم نے اپنے زیورات اور قیمتی ملبوسات جومیاں کالے کی کوٹھی میں حفاظت کے لیے بھیجے تھے وہ سب لٹ گئے۔ روزمرہ کی ضروریات کے لیے انھیں برتن اور کپڑے فروخت کرنے پڑے۔ غالب گوشہ نشین ہو گئے لیکن شعر وادب سے اپنے رشتے کو انھوں نے استوار رکھا۔ تنہائی کو دور کرنے کے لیے قلم سنبھالا اور " دستنبو " کی اشاعت اوائل نومبر 1858ء میں عمل میں آئی۔ اسی کے ساتھ انھوں نے فارسی کی مشہور لغت " برہان قاطع " کی غلطیاں قلم بند کیں اور اپنی کتاب کا نام " قاطع برہان " رکھا جو اوائل 1862 ء میں شائع ہوئی۔
     غالب کے نواب رام پور سے مراسم 1857 کے ہنگاموں سے بہت پہلے سے تھے۔ نواب رام پور یوسف علی خاں جو اپنے بچپن میں قیامِ دہلی کے زمانے میں غالب سے فارسی پڑھ چکے تھے، اب ان سے اپنے کلام پر اصلاح لینے لگے۔ وہ کبھی کبھار کچھ رقم بھیج دیا کرتے تھے۔ غالب نے جب اپنی کس مپرسی سے نواب رامپور کو واقف کروایا اور مستقل وظیفے کی درخوسات کی تو انھوں نے 10 جولائی 1859ء سے غالب کے نام 100 روپے ماہانہ وظیفہ جاری کردیا جو غالب کو تاحین حیات ملتارہا۔ رامپور سے مراسم غالب کے لیے کئی اعتبار سے سودمند رہے۔ انگریزوں نے غالب کی پنشن بند کردی تھی۔ غالب نے ممکنہ کوشش کی لیکن کامیابی نہ ہونا تھی نہ ہوئی۔ تب انھوں نے نواب را مپور کی وساطت سے انگریزوں تک اپنی صفائی پہنچائی۔ چنانچہ غالب نے جن کو نواب رام پور نے کئی مرتبہ اپنے ہاں آنے کی دعوت دی تھی، 17 جنوری 1860 ء کورام پور پہنچے اور تین ماہ قیام کے بعد 24 مارچ کو دہلی واپس ہوئے۔ ان کا یہ سفر ہر اعتبار سے کامیاب رہا۔ نہ صرف پنشن جاری ہوگئی بلکہ تین سال کا بقایا ساڑھے سات سو روپے سالانہ کے حساب سے 2250 روپے مل گیا اور مارچ 1863 میں دربار و خلعت کا اعزاز بھی بحال ہو گیا۔ یوں رام پور سے غالب کا رشتہ اور مضبوط ہوگیا۔ غالب نے نواب یوسف علی خان کے احسانات کو فراموش نہیں کیا۔ اس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ جب 21 اپریل 1865 ء کو نواب صاحب کے انتقال کے بعد نواب کلب علی خاں جانشین ہوئے تو تہنیت کے لیے غالب نے رام پور کا سفر کیا۔ یہ غالب کا دوسرا سفر رام پور تھا۔ اس بار وہ 12 اکتوبر 1865 ء کو رام پور پہنچے اور 8 جنوری 1866 ءکو دہلی واپس ہوئے۔ واپسی میں دریاۓ رام گڑھ میں باڑھ آجانے اور پل کے بہہ جانے کی وجہ سے ان کو بڑی پریشانی ہوئی۔ موسم کی سردی و برداشت نہیں کر سکے اور بیمار پڑگئے۔ نقاہت میں بہ تدریج اضافہ ہوتا گیا جس کے نتیجے میں اور امراض کا شکار ہوئے۔ کہا جا تا ہے کہ انتقال کے چند روز قبل غشی کے دورے پڑنے لگے تھے۔ 14 فروری 1869ء کو دو پہر سے بے ہوشی رہی، تشخیص ہوئی کہ دماغ پر فالج کا حملہ ہوا ہے، لگ بھنگ چوبیس گھنٹے یہی کیفیت رہی اور آ خر 15 فروری 1869 کو دن ڈھلے غالب نے آخری سانس لی اور خاندان لوہارو کے قبرستان بستی حضرت نظام الدین اولیا میں تدفین عمل میں آئی۔ حالی کے الفاظ میں:

شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا
اک روشن دماغ تھا نہ رہا


تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام