نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

جدید اور جدید تر اردو غزل

جدید اور جدید تر اردو غزل

جدید اور جدید تر اردو غزل
جدید اور جدید تر اردو غزل


آزادی کے بعد سیاسی مسائل کی نوعیت وہ نہیں رہی تھی جن سے ترقی پسند تحریک کو زیاد سرو کار تھا۔ انگریز سامراج کی غلامی کا دور ختم ہو گیا تھا۔ بدلے ہوئے حالات میں اچھی تخلیقی صلاحیت رکھنے والے شاعروں نے غزل کو نیا موڑ دینے کی کوشش کی۔ بعض شعرا نے تخلیقی تحریک کے حصول کے لیے میر سے رجوع کیا جیسے ابن انشا، خلیل الرحمن اعظمی ، ناصر کاظمی وغیرہ ۔ ان کے علاوہ غزل کو نیا رنگ و آہنگ دینے میں عبد الحمید عدم، سیف الدین سیف،باقی صدیقی، نشور واحدی ، جمیل مظہری، حبیب جالب حفیظ ہوشیار پوری، صوفی غلام مصطفی، تبسم، عزیز حامد مدنی اور کئی دوسرے شاعر شامل ہیں ۔ ان شاعروں نے غزل کی جمالیات کو نئی حقیقت پسندی سے روشناس کیا، عصری زندگی کے مسائل اور تقاضوں پر بھی نگاہ رکھی اداری اور لطیف رمزیہ انداز میں اپنے احساسات کا اظہار کیا۔ آزادی کے فوری بعد غزل کے رجحانات کا اندازہ ان اشعار سے لگایا جا سکتا ہے


دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی

حفیظ جالندھری


جو مزاج دل نہ بدل سکا تو مذاق دہر کا کیا گلہ

وی تلخیاں ہیں ثواب میں وہی لذتیں ہیں گناہ میں 

اختر شیرانی


یا رب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا

جو ہاتھ جگر پہ ہے وہ دست دعا ہوتا

چراغ حسن حسرت


دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو

آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ، ویسے ہم گھبرائے تو 

عندلیب شادانی


یاد ماضی عذاب ہے یارب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

اختر انصاری


کب لوٹا ہے بہتا پانی، بچھڑا ساجن ، روٹھا دوست

ہم نے اس کو اپنا جانا جب تک ہاتھ میں داماں تھا 

ابن انشا 


اگر تو اتفاقا مل بھی جائے

تری فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے 

حفیظ ہوشیار پوری


بار بستی تو اٹھا، اٹھ نہ سکا دست سوال

 مرتے مرتے نہ کبھی کوئی دعا ہم سے ہوئی

خلیل الرحمٰن اعظمی


ایک ہمیں آوارہ کہنا اتنا بڑا الزام نہیں

دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں

حبیب جالب


دھواں دھواں سی ہے کھیتوں کی چاندنی باقی

کہ آگ شہر کی اب آگئی ہے گاؤں میں

باقی صدیقی


عجب سکون کا عالم ہے یاس کا عالم 

یہ دل کشی تو غم انتظار میں بھی نہیں

سیف الدین سیف


وہ حسیں بیٹھا تھا جب میرے قریب

لذت ہمسائیگی تھی میں نہ تھا

عبد الحمید عدم


چراغ بزم ابھی جان انجمن نہ بجھا

جو یہ بجھا تو ترے خدو خال سے بھی گئے

عزیز حامد مدنی


پیراہن رنگیں سے شعلہ سا نکلتا ہے

معصوم ہے کیا جانے دامن کہیں جلتا ہے

نشور واحدی


بہ قدر پیمانہ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا

اگر نہ ہو یہ فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا 

جمیل مظہری


ابھی ہوس کو میسر نہیں دلوں کا گداز

ابھی یہ لوگ مقامِ نظر سے گزرے ہیں 

صوفی غلام مصطفیٰ تبسم


ناصر کاظمی جدید اردو غزل کا اہم نام ہے۔ 

ناصر کاظمی ابتدا میں میر اور فراق سے متاثر تھے۔ فراق کی طرح انھوں نے جذبات عشق سے زیادہ کیفیات عشق کی تصویر کشی پر توجہ کی، انسانی وجود کی صورت حال اور اپنے عہد کی سیاسی و سماجی حالات کو داخلی رنگ میں پیش کیا۔ ناصر کاظمی نے ہم عصر شعرا اور آنے والی نسل کے بہت سے شاعروں کو متاثر کیا۔ انھوں نے غزل مسلسل کی روایت کا احیا کیا۔ پیکر تراشی ان کے اسلوب کا خاص وصف ہے۔


یہ بھی آرائش ہستی کا تقاضا تھا کہ ہم

حلقۂ فکر سے میدان عمل میں آئے


کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں

آئے ہے اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں


عمارتیں تو جل کر راکھ ہوگئیں

عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے


دھیان کی سیڑھیوں پر پچھلے پہر

کوئی چپکے سے پاؤں دھرتا ہے 


ہر خرابہ یہ صدا دیتا ہے 

میں بھی آباد مکاں تھا پہلے


دل تو میرا اداس ہے ناصر

شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے


پرانی صحبتیں یاد آرہی ہیں

چراغوں کا دھواں دیکھا نہ جائے




تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام