نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

مرزا غالب کی غزل گوئی

 

مرزا غالب غزل گوئی

مرزا غالب کی غزل گوئی

Mirza Ghalib ghazals 

غالب کی شخصیت جامع الصفات تھی وہ ایک شاعر کی حیثیت سے معروف تو ہیں ہی، ایک نثر نگار کی حیثیت سے بھی ان کا پایہ بلند ہے۔ ان کے خطوط اردو میں جد ید نثر کا سنگ بنیاد ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ان کی چند ایک کتابیں ہیں۔ شاعری میں غالب نے قصیدے لکھے اور مثنویاں وغیرہ بھی لیکن جس صنف کی وجہ سے غالب، غالب ہیں وہ ان کی غزل ہے۔ دیوان غالب کا زیادہ تر حصہ غزلوں پرمشتمل ہے۔ " دیوان غالب " کا پہلا ایڈیشن اکتوبر 1841 میں مطبع " سید الاخبار " دہلی سے شائع ہوا جب کہ لگ بھگ آٹھ سال قبل 1833ء میں غالب اس کو مرتب کر چکے تھے۔ اس کے بعد غالب کی زندگی میں ان کے دیوان کے چار ایڈیشن شائع ہوئے۔

    غالب کو فارسی اور اردو، دونوں زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔ انھیں اردو  سے زیادہ اپنی فارسی دانی پر فخر تھا۔ انھوں نے کبھی اپنی فارسی شاعری پر ناز کرتے ہوۓ اردو شاعری کو " بے رنگ من است " کہا تو کبھی اردو شاعری کو رشک فارسی قرار دیا۔ ابتدا میں وہ فارسی شاعر بیدل کی پیروی کرتے تھے۔

طرز بیدل میں ریختہ کہنا 

اسد اللہ خاں قیامت ہے 

طرز بیدل میں ریختہ کہنے کے باعث ان کے کلام میں فارسی کی آمیزش زیادہ ہوئی، ابہام اور اشکال بھی پیدا ہوئے معمائی کیفیت بھی در آئی۔ مثلا یہ اشعار :

شمار سبحہ ، مرغوب بت مشکل پسند آیا

تماشائے بہ یک کف بردنِ صد دل پسند آیا


قمری کفِ خاکستر و بلبل قفسِ رنگ

اے نالہ نشانِ جگر سوختہ کیا ہے


اس نوع کی شاعری نے غالب کے کلام میں چیستانیت اور الجھاؤ کی کیفیت پیدا کردی اور لوگ کہنے لگے کہ یہ اپنا کہا آپ سمجھیں یا خدا سمجھے۔ ابتداً غالب نے اس بات کو یہ کہہ کر اڑا دیا کہ

نہ ستائش(تعریف) کی تمنا ، نہ صلے(بدل) کی پروا

نہ سہی گر میرے اشعار میں معنی نہ سہی


     لیکن بعد میں ان کے قریبی احباب جن میں مولانا فضل حق خیرآبادی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے، غالب کو اس مشکل پسندی سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔ چنانچہ ان کی بعد کی غزلوں میں مشکل پسندی کم ہوگئی اور بالعموم ان کے کلام میں سادگی، سلاست اور روانی کا احساس ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ اشعار ملاحظہ ہو:

Mirza Ghalib sad poetry

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

آخر اس درد کی دوا کیا ہے


ابن مریم ہوا کرے کوئی 

میرے دکھ کی دوا کرے کوئی


کوئی امید بر نہیں آتی

کوئی صورت نظر نہیں آتی


عرضِ نیاز عشق کے قابل نہیں رہا 

جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا 


بسکہ دشوار(مشکل) ہے ہر کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا



یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا


بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے

ہوتا ہے شب و روز تماشا(دن رات) مرے آگے

     غالب کی کامیابی کا باعث ان کی صرف عام فہم الفاظ، تراکیب اور سیدھے سادھے طرز کی شاعری نہیں بلکہ مجموعی طور پر ان کا ڈکشن ہے جو پڑھنے والوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ الفاظ کا انتخاب، مصرعوں کا در و بست، زندگی اور زمانے کے تعلق سے ان کا رویّہ انسانی جذبات و احساسات کا درک، ان کے اشعار کی معنویت اور تہہ داری، ان کا پیرایۂ اظہار اور ان کا انداز بیان، ان کے کلام کو وزن و وقار بھی عطا کرتا ہے اور مقبولیت اور محبوبیت بھی۔ غالب کو الفاظ کے انتخاب میں بڑا کمال حاصل تھا۔ ہر چند کہ انہوں نے کہا ہے :

آتے ہے غیب سے یہ مضامیں خیال میں 

غالب صریرِ خامہ نوائے سروش ہے

     لیکن ان مضامین کو اشعار کی صورت میں پیش کرنے کے لئے الفاظ کے انتخاب کا ہنر کچھ ان ہی کو آتا تھا۔ غالب الفاظ کے مزاج شناس تھے۔ ان کا دعویٰ بے جا نہیں کہ :

گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے

جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے

اس سلسلے میں سب سے پہلے تو دیوان غالب کے پہلے شعر ہی پر نظر پڑتی ہے 

نقش فریادی(دہائی) ہے کس کی شوخیِ تحریر کا

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا


     ہمارے شارحین نے اس شعر کی جو تشریحات کی ہیں اور جو نئے نئے معانی نکالے اور مفاہیم پیدا کیے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غالب نے اس شعر میں معنی مفہوم کی ایک دنیا آباد کردی ہے۔ ذیل کے اشعار میں بھی غالب کا یہ ہنر نمایاں ہے :

Ghalib best poetry

سراپا رہنِ عشق و ناگزیر الفت سہی

عبادت برق'بجلی' کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا


ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا

نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا


ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام

مہر گردوں ہے چراغ رہ گزار باد یاں


رہا آباد عالم اہلِ ہمت جے نہ ہونے سے

بھرے ہے جس قدر جام و سبو، مے خانہ خالی ہے


غالب کے کلام کی ایک اور خصوصیت ان کا انداز بیان ہے۔ اپنے انداز بیان پر ناز کرتے ہوئے کہتے ہیں:


ہیں اور بھی دنیا میں سخنور(بات کرنے والے) بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں(شعر کا انداز) اور 


     غالب کا انداز بیاں ہی ہے جس نے ایک عالم کو گرویدہ کر لیا ہے۔ ان کے اشعار کا ڈکشن منفرد ہے۔ اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ غالب کے یہاں فکر اور موضوع کچھ اس طرح ہم آہنگ ہو جاتے ہیں کہ ان کے اسلوب میں طرح داری بھی پیدا ہو جاتی ہے اور تہہ داری بھی۔ یہ اشعار ملاحظہ کیجیے جن میں ندرتِ خیال بھی ہے اور انداز بیان کی شگفتگی اور شستگی بھی :

Mirza Ghalib shayri 

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا 


کیا وہ نمرود کی خدائی تھی

بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا


جسے نصیب ہو روزِ سیاہ میرا سا 

وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیوں کر ہو 


غم ہستی کا اسد کس سے ہو جز مرگ(موت) علاج

شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر(صبح) ہونے تک


عشرتِ قتل گہہ اہل تمنا مت پوچھ

عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا

تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام