نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جون, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ذوق کا قصیدہ

  ذوق کا قصیدہ Zouq ka qasida  ساون میں دیا پھر مہہ شوال ، دکھائی  برسات میں عید آئی ، قدح کش خوار کی بن آئی کرتا ہے ہلال ابروئے ، پُر خم سے اشارہ  ساقی کو کہ گھر بادے سے ، کشتی طلائی ہے عکس فگن جام بلوریں سے ، مئے سرخ  کس رنگ سے ہوں ، ہاتھ نہ مے کش کے حنائی  کوندے ہے جو بجلی تو یہ سوجھے ہے نشے  ساقی نے ہے ، آتش سے ، مئے تیز اڑائی  یہ جوش ہے باراں کا کہ افلاک کے نیچے  ہووے نہ ممیز کره ناری و مائی  پہنچا ، کمک لشکر باراں سے ہے۔ل ، یہ روز  ہر نالے کی ہے دشت میں دریا ، پہ چڑھائی ہو قلزم عماں پہ لب جو متبسم تالاب سمندر کو کرے چشم نمائی  ہے کثرت باراں سے ہوئی عام یہ سردی  کافور کی تاثیر گئی جو زمیں پائی  سردیِ حنا پہنچے ہے ، عاشق کے جگر تک  معشوق کا گر ہاتھ میں ، ہے دست حنائی  عالم یہ ہوا ہوا کا ہے کہ تاثیر ہوا سے  گردوں پہ ہے ، خورشید کا بھی ، دیدہ ہوائی کیا صرف ہوا ہے ، طرب و عیش سے ، عالم  ہے مدرسے میں بھی ، سبق صرف ہوائی خالی نہیں مئے سے روشِ دانۂ انگور  زاہد کا بھی ہر دانۂ تسبیح ریائی کرتی ہے صبا آکے کبھی مشک فشانی کرتی ہے نسیم آکے کبھی ، لخلخہ سائی  تھا سوزئی خار کا صحرا میں جہاں فرش

ناصر کاظمی کی شاعری کا اسلوب

  ناصر کاظمی کی شاعری کا اسلوب Nasir kazmi shayari برجستگی ، شگفتگی اور ارتباط ان کا شعری وصف ہے ۔ وہ روزمرہ زندگی کے واقعات کو نظم نہیں کرتے ۔ وہ اپنے باطن میں ڈوب کر صدیوں کے انسانی تجربوں کی بازیافت کر تے ہیں اور ان تجربوں کے مطابق اپنے اسلوب کی تشکیل کرتے ہیں ۔ انتظار حسین سے آخری ملاقات میں انھوں نے اپنے شعری عمل کے بارے میں کہا ہے:       " بات اصل یہ ہے کہ جسے آپ عطر کی شیشی کھولتے ہیں تو خوشبو آپ کو آتی ہے لیکن پھول اور باغ تو کہیں نظر نہیں آتے پسں ایسے ہی شاعری میں میری یہ تمام واقعات بہ راہ راست آ پ کو نظر تو نہیں آئیں گے ۔‘‘        ان کا شعری اسلوب روایت کے گہرے شعور سے مزین ہے ۔ وہ روایت کے دل دادہ ہیں ۔ ان کی نظر کلاسیکی غزل پر ہے ۔ انھوں نے میر کا خاص مطالعہ کیا ہے اور میر کے احیا کے لیے خاصا کام کیا ہے ۔ غز ل کو داخلی صورت عطا کرنے اورا سے ملائمت ، دھیماپن ، سوز و گداز سے متصف کرنے میں انھوں نے میر سے استفادہ کیا ہے لیکن انھوں نے خود بھی اپنے شعورِ فن سے کام لے کر ان کو خوش گوار تبدیلیوں سے ہم کنار کیا ۔ وہ غزل کی صنف اور ہئیت پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔ وہ غزل کے شعر می

ناصر کاظمی کی غزل گوئی

  ناصر کاظمی کی غزل گوئی Nasir kazmi ghazal goyi         ناصر کاظمی کے زندگی کے ان صبر آزما واقعات نے ان کی تخلیقی شخصیت کو گہرے طور پر متاثر کیا اور انھوں نے ایسے اشعار لکھے ، جو اس دور کی سماجی دہشت خیزیوں اور انتشار کا پتہ دیتے ہیں : انھیں صدیوں نہ بھولے گا زمانہ  یہاں جو حادثے کل ہوگئے ہیں  رفتگاں کا نشاں نہیں ملتا  اُگ رہی ہے زمیں پہ گھاس بہت  بازار بند ، راستے سنسان ، بے چراغ وہ رات ہے کہ گھر سے نکلتا کوئی نہیں       اپنے عہد کے حالات و واقعات کا ان پر گہرا دباؤ تو رہا لیکن انھوں نے اپنی شعری قوت کو ان سے مغلوب نہ ہونے دیا۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ان کی تخلیقی حیثیت مشکوک ہو جاتی ۔ انھوں نے ان واقعات کو اپنے تخلیقی ذہن کو فعال بنانے کے لیے استعمال کیا ، یہی کام میر تقی میر اور غالب نے انجام دیا غالب نے غدر کے تاریخی آشوب سے اثر تو لیا مگر اپنی شاعری کو دوسرے معاصرین کی طرح شہر آشوب نہیں بنایا ۔       ناصر کاظمی کی تخلیقی قوت کے بارے میں دو رائیں نہیں ہوسکتیں، ان کا سارا کلام پانچ مجموعوں "برگ نے" ، "دیوان" ، "نشاط خواب" ، "پہلی بارش" ناصر نے خا

ناصر کاظمی کے حالات زندگی

      فراق گورکھپوری کے بعد ناصر کاظمی نے اردو غزل کو نیا موڑ دیا ۔ اس اکائی میں ناصر کاظمی کے حالات زندگی بیان کیے جائیں گے ۔ ناصر کاظمی کی غزل گوئی کی امتیازی خصوصیات پر روشنی ڈالیں گے ۔ آپ کے مطالعے کے لیے پارنتخب غزلیں پیش کی جارہی ہیں ۔دو اشعار کی تشریح کی جائے گی ۔اس اکائی کا خلاصہ پیش کیا جاۓ گا۔  ناصر کاظمی کے حالات زندگی Nasir kazmi halat e zindagi       میر کاظم کا نام سید ناصر رضا تھا۔ ان کا سلسلہ نسب امام موسیٰ کاظم کے توسط سے حضرت علی ابن طالب تک پہنچا ہے۔ وہ دسمبر 2005 کو اپنے نانا کے مکان کنیر منزل ، محلہ قاضی واڑہ ۔ انبالہ میں پیدا ہوئے ۔ ان کے دادا سید شریف الحسن پولس انسپکٹر تھے ۔ نصیر پور ، مگر پورہ اور راج گڑھ میں ان کی زمینداری تھی ۔ ناصر کاظمی کے والد سید محمد سلطان نے اسلامیہ کالج ، لاہور میں بی ۔اے تک تعلیم پائی تھی ۔ تحصیل دار اور سب انسپکٹر پولس ہوئے پھر محکمہ سپلائی فوج میں ملازم ہوئے ۔ جنرل ٹائسن کے دفتر میں صوبہ دار میجر رہے ۔ نمازی ، پرہیز گار اور عابد شب زندہ دار تھے ۔ 29 مئی 1949ء کو جگر اور معدے کی بیماری سے انتقال کر گئے ۔ ناصر کاظمی کی والد کنیر محمدی

مجروح سلطانپوری کی غزلیں مع تشریح و خلاصہ

مجروح سلطانپوری کی غزلیں مع تشریح و خلاصہ Majrooh sultanpuri ghazal tashreeh  غزل ۔ 1 جب ہوا عرفاں تو ، غم آرام جاں بنتا گیا سوز جاناں دل میں ، سوز دیگراں بنتا گیا میں اکیلا ہی چلا تھا، جانب منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے، اور کارواں بنتا گیا میں تو جب جانوں کہ، بھر دے ساغرِ ہر خاص و عام یوں تو جو آیا ، وہی پیر مغاں بنتا گیا جس طرف بھی چل پڑے ہم ، آبلہ پایان شوق خار سے گل، اور گل سے گلستاں بنتا گیا دہر میں مجروح، کوئی جاوداں مضموں کہاں میں جسے چھوتا گیا، وہ جاوداں بنتا گیا مجروح سلطانپوری شاعری غزل - 2 مجھے سہل (آسان) ہوگئیں منزلیں ، وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے، ترا ہاتھ ہاتھ میں آ گیا، کہ چراغ راہ میں جل گئے  وہ لجاۓ میرے سوال پر ، کہ اٹھا سکے نہ جھکا کے سر ، اڑی زلف چہرے پہ اس طرح ، کہ شبوں کے راز مچل گئے وہی آستاں (مزار) ہے ، وہی جبیں (پیشانی) ، وہی اشک ہے ، وہی آستیں دل زار تو بھی بدل کہیں ، کہ جہاں کے طور بدل گئے تچے چشم مست پہ بھی ہے ، کہ شباب گرمیِ بزم ہے  تجھے چشم مست خبر بھی ہے ، کہ سب آب گینے پگھل گئے مرے کام آگئیں آخرش یہی کاوشیں یہی گردشیں بڑھیں اس قد ر مری منزلیں کے قدم کے خار نکل

مجروح سلطانپوری کی غزل گوئی

  مجروح سلطانپوری کی غزل گوئی مجروح کے شعری سفر کے مدت طویل ضروری ہے ۔ لیکن رفتار سست اور مقدار کم تقریبا ساٹھ سالہ شعری سفر میں ساٹھ غزلیں بھی نہیں ہے اس کا اعتراف مجروح بھی کر تے ہیں اور اپنے آپ کو مجرم قرار دیتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انھوں نے جو کہا اور جتنا کہا وہ اس قدر عمدہ، بھر پور اور متاثر کرنے والا ہے کہ کوئی بھی نقاد یا مورخ اسے نظر انداز نہیں کرسکتا۔ ترقی پسند غزلیہ شاعری میں ان کا نام مجاز اور فیض کے ہم پلہ غزل گو شعرا میں لیا جا تا ہے ۔ بعض ناقدین تو مجروح کو ترقی پسند غزل کا سب سے اہم و معتبر نام بتاتے ہیں غور کرنے کی بات یہی ہے کہ اتنے قلیل سرمائے میں وہ کیا امتیاز و اوصاف ہیں جنھوں نے مجروح کو مجروح بنا دیا ؟

مجروح سلطانپوری کے حالات زندگی

  مجروح سلطانپوری کے حالات زندگی Majrooh sultanpuri biography مجروح سلطان پوری اردو کے ترقی پسند غزل گو شاعر تھے۔ مجروح سے پہلے ترقی پسند تحریک نے غزل کو ایک روایتی اور قدامت پسند صنف قرار دیا تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس صنف میں ترقی پسند نظریات کو پیش کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔ مجروح بمبئی پہنچنے کے بعد انجمن ترقی پسند مصنفین سے وابستہ ہوۓ اور انھوں نے اپنی غزلیہ شاعری سے یہ ثابت کیا کہ غزل رجعت پسند صنف سخن نہیں ہے ۔ اس صنف میں بھی سیاسی خیالات اور انقلابی جذبات کو پیش کرنے کی گنجائش ہے ۔ مجروح نے اردو غزل کو ایک نیا رنگ و آہنگ بخشا۔ اردو غزل کی قدیم لفظیات اور استعاروں کو نئے معنی دیے ۔ اس اکائی میں ہم مجروح سلطان پوری کے حالات زندگی کا مطالعہ کریں گے اوران کی غزل گوئی کی منفرد خصوصیات کا جائزہ لیں گے ۔ ترقی پسند شاعر اردو کے ممتاز ترقی پسند شاعر مجروح سلطان پوری کا اصل نام اسرار حسن خاں تھا۔ وہ 1921 ء میں سلطان پور میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد پولیس کے محکمے میں ملازم تھے۔ اچھا خاندان تھا اور اچھی ملازمت چنانچہ مجروح کا بچپن آرام و آسائش میں گزرا۔ والد سرکاری ملازم ضرور تھے لیکن ان

فراق گورکھپوری کی غزلیں مع تشریح و خلاصہ

  فراق گورکھپوری کی غزلیں مع تشریح و خلاصہ غزل 1 آج بھی، قافلۂ عشق رواں ہے، کہ جو تھا وہی میل اور وہی سنگِ نشاں ہے، کہ جو تھا منزلیں گرد کی مانند اڑی جاتی ہیں وہی اندازہ جہانِ گزراں ہے کہ جو تھا مے قرب ہی کم ہے، نہ دوری ہی زیادہ، لیکن  آج وہ ربط کا احساس کہاں ہے، کہ جو تھا پھر سرِ میکدۂ عشق ہے اک بارشِ نور چھلکے جاموں سے، چراغاں کا سماں ہے، کہ جو تھا آج بھی آگ دبی ہے، دل انساں میں فراق آج بھی سینوں سے اٹھتا وہ دھواں ہے، کہ جو تھا

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

فراق گورکھپوری کی عشقیہ شاعری

  فراق گورکھپوری کی عشقیہ شاعری     عشق اپنی راہ پالے تو دنیا فتح ہو جاتی ہے ۔ فراق کا عشق ، انسان کا عشق تھا ۔ ایسا عشق جو دل و دماغ میں ستاروں کی چمک اور سوز و گداز پیدا کردے۔ جس وقت فراق نے شاعری کا آغاز کیا ، داغ و امیر کا چراغ گل ہو رہا تھا۔ پوری دنیا میں شاعری کی ایک نئی بساط بچھ رہی تھی ۔ قومی زندگی ایک نئے رنگ میں ڈھل رہی تھی ۔ اشتراکیت کا بول بالا تھا۔ فراق ، اشتراکیت سے متاثر ہوئے ، ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئے۔خود اعتراف کرتے ہیں " 1936 ء کے بعد سے اشتراکی فلسفے نے میرے عشقیہ شعور اور میری عشقیہ شاعری کو نئی وسعتیں اور نئی معنویت عطا کی ۔" اب ذرا ان اشعار کو دیکھیے جن میں عشق کا بدلا ہوا ، سنبھلا ہوا اور زندگی سے وابستہ عکس دکھائی دیتا ہے : تو ایک تھا، میرے اشعار میں، ہزار ہوا  اس اک چراغ سے، کتنے چراغ جل اٹھے فراق ایک ہوئے جاتے ہیں، زمان و مکاں تلاشِ دوست میں ، میں بھی کہاں نکل گیا زندگی کو بھی منہ دکھانا ہے رو چکے تیرے بے قرار بہت حاصل حسن و عشق بس ہے یہی آدمی آدمی کو پہچانے اردو عشقیہ شاعری      اگر کوئی یہ سمجھے کہ فراق کا عشق محض فراق کی اپنی افتاد طبع، اپنے

فراق گورکھپوری کی غزل گوئی

  فراق گورکھپوری کی غزل گوئی Firaq gorakhpuri ghazal  جیسا کہ عرض کیا گیا کہ فراق کو شعر و شاعری سے لگاؤ بچپن ہی سے تھا۔ ابتدا انھوں نے وسیم خیرآبادی (امیر مینائی کے شاگرد اور استاد شاعر تھے ) سے اصلاح لی ۔ اس کے بعد ریاض خیر آبادی سے بھی مشورۂ سخن کیا۔ ان کی ابتدائی غزلوں میں حسن و عشق کا روایتی رنگ تھا جیسے: تری محفل میں میرا اور انداز بیاں ہوگا  جڑھیں گے پھول منہ سے اور ہجوم بلبلاں ہوگا      جب تک ان کا مطالعہ داغ ، امیر ، اسیر کی شاعری تک محدود رہا وہ روایت سے الگ نہ ہو سکے ۔ جب انھوں نے دیگر شعرا خصوصا میر اور غالب کے علاو ہندی، انگریزی کے شعرا کے کلام اور دیگر علوم کا بالاستیعاب مطالعہ کیا ان کی فکر میں گہرائی اور اسلوب میں انفرادیت پیدا ہوتی گئی ۔ ان کا حسن پرستانہ مزاج، تجس و تحیر میں رچ بس کر حسن و عشق کی عجیب و غریب دنیا میں انگڑائی لینے لگا۔ ہندوستانی تہذیب اور انگریزی ادب کے گہرے مطالعے نے ان کو فکر و خیال کی ایک ایسی تخلیقی دنیا میں پہنچا دیا جہاں ذاتی بدصورتی ، زندگی کی بدصورتی اور ذاتی عشق ، دنیا کے عشق میں تبدیل ہو گیا ۔ فراق کا المیہ ان کے اپنے عہد کے دکھ سکھ میں شریک

فراق گورکھپوری کے حالات زندگی

  گذشتہ اکائی میں ہم نے اردو کے ممتاز غزل گو شاعر شوکت علی خاں فانی کے حالات زندگی کا مطالعہ کیا ۔ حیات اور کائنات کے بارے میں ان کے مخصوص تصورات سے آ گہی حاصل کی اور ان کے فن اور اسلوب کی خصوصیات معلوم کیں ۔ اس اکائی میں ہم اردو کے ایک منفرد غزل گو شاعر فراق گورکھپوری کی حیات اور غزل گوئی کا جائزہ لیں گے ۔ فراق کی چار غزلوں کا مطالعہ کریں گے نمونے کے طور پر دو اشعار کی تشریح پیش کی جاۓ گی ۔ اس اکائی کا خلاصہ دیا جائے گا۔ Raghupati sahay firaq Firaq gorakhpuri biography in urdu فراق گورکھپوری کے حالات زندگی      اردو کے ممتاز غزل گو اور بیسویں صدی کے مقبول و منفرد شاعر رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری 28 اگست 1996 میں گورکھپور کے بانس گاؤس میں پیدا ہوۓ ۔ان کے والد گور کھ پرساد سہائے نامور وکیل تو تھے ہی ایک عمدہ اور کلاسیکی رنگ کے شاعر بھی تھے عبرت تخلص کرتے تھے۔ انھوں نے غزلیں اور نظمیں کہیں ۔  ان کا یہ شعر بہت مشہور ہوا: زمانے کے ہاتھوں سے چار نہیں ہے زمانہ ہمارا تمھارا نہیں ہے  لیکن ان کی اصل شہرت " حسن فطرت " نام کی مثنوی سے ہوئی۔ یہ ایک منظوم تمثیلی قصہ ہے جو اپنے زمانے میں