نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جون, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

فراق گورکھپوری کی عشقیہ شاعری

  فراق گورکھپوری کی عشقیہ شاعری     عشق اپنی راہ پالے تو دنیا فتح ہو جاتی ہے ۔ فراق کا عشق ، انسان کا عشق تھا ۔ ایسا عشق جو دل و دماغ میں ستاروں کی چمک اور سوز و گداز پیدا کردے۔ جس وقت فراق نے شاعری کا آغاز کیا ، داغ و امیر کا چراغ گل ہو رہا تھا۔ پوری دنیا میں شاعری کی ایک نئی بساط بچھ رہی تھی ۔ قومی زندگی ایک نئے رنگ میں ڈھل رہی تھی ۔ اشتراکیت کا بول بالا تھا۔ فراق ، اشتراکیت سے متاثر ہوئے ، ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئے۔خود اعتراف کرتے ہیں " 1936 ء کے بعد سے اشتراکی فلسفے نے میرے عشقیہ شعور اور میری عشقیہ شاعری کو نئی وسعتیں اور نئی معنویت عطا کی ۔" اب ذرا ان اشعار کو دیکھیے جن میں عشق کا بدلا ہوا ، سنبھلا ہوا اور زندگی سے وابستہ عکس دکھائی دیتا ہے : تو ایک تھا، میرے اشعار میں، ہزار ہوا  اس اک چراغ سے، کتنے چراغ جل اٹھے فراق ایک ہوئے جاتے ہیں، زمان و مکاں تلاشِ دوست میں ، میں بھی کہاں نکل گیا زندگی کو بھی منہ دکھانا ہے رو چکے تیرے بے قرار بہت حاصل حسن و عشق بس ہے یہی آدمی آدمی کو پہچانے اردو عشقیہ شاعری      اگر کوئی یہ سمجھے کہ فراق کا عشق محض فراق کی اپنی افتاد طبع، اپنے

فراق گورکھپوری کی غزل گوئی

  فراق گورکھپوری کی غزل گوئی Firaq gorakhpuri ghazal  جیسا کہ عرض کیا گیا کہ فراق کو شعر و شاعری سے لگاؤ بچپن ہی سے تھا۔ ابتدا انھوں نے وسیم خیرآبادی (امیر مینائی کے شاگرد اور استاد شاعر تھے ) سے اصلاح لی ۔ اس کے بعد ریاض خیر آبادی سے بھی مشورۂ سخن کیا۔ ان کی ابتدائی غزلوں میں حسن و عشق کا روایتی رنگ تھا جیسے: تری محفل میں میرا اور انداز بیاں ہوگا  جڑھیں گے پھول منہ سے اور ہجوم بلبلاں ہوگا      جب تک ان کا مطالعہ داغ ، امیر ، اسیر کی شاعری تک محدود رہا وہ روایت سے الگ نہ ہو سکے ۔ جب انھوں نے دیگر شعرا خصوصا میر اور غالب کے علاو ہندی، انگریزی کے شعرا کے کلام اور دیگر علوم کا بالاستیعاب مطالعہ کیا ان کی فکر میں گہرائی اور اسلوب میں انفرادیت پیدا ہوتی گئی ۔ ان کا حسن پرستانہ مزاج، تجس و تحیر میں رچ بس کر حسن و عشق کی عجیب و غریب دنیا میں انگڑائی لینے لگا۔ ہندوستانی تہذیب اور انگریزی ادب کے گہرے مطالعے نے ان کو فکر و خیال کی ایک ایسی تخلیقی دنیا میں پہنچا دیا جہاں ذاتی بدصورتی ، زندگی کی بدصورتی اور ذاتی عشق ، دنیا کے عشق میں تبدیل ہو گیا ۔ فراق کا المیہ ان کے اپنے عہد کے دکھ سکھ میں شریک

فراق گورکھپوری کے حالات زندگی

  گذشتہ اکائی میں ہم نے اردو کے ممتاز غزل گو شاعر شوکت علی خاں فانی کے حالات زندگی کا مطالعہ کیا ۔ حیات اور کائنات کے بارے میں ان کے مخصوص تصورات سے آ گہی حاصل کی اور ان کے فن اور اسلوب کی خصوصیات معلوم کیں ۔ اس اکائی میں ہم اردو کے ایک منفرد غزل گو شاعر فراق گورکھپوری کی حیات اور غزل گوئی کا جائزہ لیں گے ۔ فراق کی چار غزلوں کا مطالعہ کریں گے نمونے کے طور پر دو اشعار کی تشریح پیش کی جاۓ گی ۔ اس اکائی کا خلاصہ دیا جائے گا۔ Raghupati sahay firaq Firaq gorakhpuri biography in urdu فراق گورکھپوری کے حالات زندگی      اردو کے ممتاز غزل گو اور بیسویں صدی کے مقبول و منفرد شاعر رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری 28 اگست 1996 میں گورکھپور کے بانس گاؤس میں پیدا ہوۓ ۔ان کے والد گور کھ پرساد سہائے نامور وکیل تو تھے ہی ایک عمدہ اور کلاسیکی رنگ کے شاعر بھی تھے عبرت تخلص کرتے تھے۔ انھوں نے غزلیں اور نظمیں کہیں ۔  ان کا یہ شعر بہت مشہور ہوا: زمانے کے ہاتھوں سے چار نہیں ہے زمانہ ہمارا تمھارا نہیں ہے  لیکن ان کی اصل شہرت " حسن فطرت " نام کی مثنوی سے ہوئی۔ یہ ایک منظوم تمثیلی قصہ ہے جو اپنے زمانے میں

فانی بدایونی کی غزلیں تشریح و خلاصہ

  فانی بدایونی کی غزلیں تشریح و خلاصہ آپ نے فانی بدایونی کے حالات زندگی سے واقفیت حاصل کی اور ان کی غزل گوئی کی خصوصیات کا مطالعہ کیا۔ ذیل میں فانی کی چار غزلیں دی جارہی ہیں اور ان غزلوں سے دو اشعار کی تشریح نمونے کے طور پر دی جارہی ہے۔ غزل 1 اک معما ہے ! سمجھنے کا، نہ سمجھانے کا زندگی ! کا ہے کو ہے ، خواب ہے ، دیوانے کا مختصر قصۂ غم، یہ ہے کہ دل رکھتا ہوں راز کونین خلاصہ ہے اس افسانے کا اب اسے دار پہ لے جاکر سلادے ساقی یوں بہکنا نہیں اچھّا ترے مستانے کا ہر نفس ، عمرِ گذشتہ کی ہے، میت فانی زندگی نام ہے مر مر کے ، جیے جانے کا غزل 2 کیا چھپاتے کسی سے حال اپنا  جی ہی جب ہوگیا نڈھال اپنا ہم ہیں اس کے خیال کی تصویر جس کی تصویر ہے خیال اپنا وہ بھی اب، غم کو ، غم ! سمجھتے ہیں دور پہنچا مگر ملال اپنا دیکھ دل کی زمیں لرزتی ہے یادِ جاناں قدم سنبھال اپنا موت بھی تو نہ مل سکی فانی  کس سے پورا ہوا سوال اپنا غزل 3 !نہ ابتدا ! کی خبر ہے، نہ انتہا معلوم رہا یہ وہم کہ ہم ہیں! سو وہ بھی کیا معلوم ہو نہ راز رضا فاش وہ تو یہ کہیے مرے نصیب میں تھی ورنہ سعی نا معلوم کچھ ان کے رحم پہ تھی یوں بھی زندگی موقوف

فانی بدایونی کے کلام کا فن اور اسلوب

  فانی بدایونی کے کلام کا فن اور اسلوب      فانی ایک مفکر شاعر ہونے کے ساتھ بڑے فن کار بھی تھے ۔ فانی بدایونی نے غزل کی زبان کو اظہار کی نئ توانائی اور رعنائی بخشی ۔ انھوں نے غزل کے روایتی استعاروں کو نئے تلازموں سے آشنا کیا اوران کے ذریعے زندگی کی بے ثباتی، فنا پذیری ، جبر کے احساس ، وجود کے کرب ، اختیار ، آزادی ، بقا کی خواہش اور غم عشق کو موثر انداز میں پیش کیا ۔ برق و آشیاں کے پامال استعاروں کو لیجے اور دیکھیے کہ فانی نے انھیں کس طرح حیات نو بخشی ہے۔ برق کہیں تجلی حسن ہے ، کہیں تقدیر کا ظالم ہاتھ اور کہیی مرگ نا گہاں ہے : اللہ یہ بجلیاں نہ کام آئیں گی  آندھی ہی سے کیوں ہو آشیانہ بر باد فانی نے اس شعر میں کش مکشِ حیات کی تصویر کھینچ دی ہے ۔ بجلی اک آن میں آشیانے کو خاکستر بنادیتی ہے اور مرگ نا گہاں کی کیفیت رکھتی ہے۔ اس کے مقابلے میں آندھی کے جھکڑ آشیانے کو بہ تدریج بر باد کرتے ہیں ۔ آناً فاناً جل جانے کے مقابلے میں برباد ہونے کی یہ صورت نہایت اذیت ناک ہے ۔ آشیاں زندگی اور تمنا کا استعارہ ہے ۔ دوسرے مصرع میں جبر تمنا اور جبر تدبیر کے ساتھ زندگی گزارنے کے کرب کو سمو دیا ہے ۔ برق و آ

فانی بدایونی کی غزل گوئی

  فانی بدایونی کی غزل گوئی Fani badayuni shayri in urdu فانی بدایونی نے 1890ء سے شعر کہنا شروع کیا ۔ ان کی زندگی میں ان کے کلام کے چار مجموئے دیوان فانی 1921 ء باقیات فانی 1922ء عرفانیات فانی 1938 ء اور وجدانیات فانی 1940 ء شائع ہوئے۔ فانی کی وفات کے پانچ سال بعد حیرت بدیوانی نے کلیات فانی مرتب کیا اور اس میں وہ کلام بھی شامل کیا جو مختلف رسالوں میں شائع ہوا تھا لیکن کسی مجموعے میں نہیں تھا ۔ راقم الحروف کو فانی کی مزید چند غزلیں رسائل میں ملیں اس کے علاوہ فانی کے ابتدائی کلام کی ایک بیاض دستیاب ہوئی اس میں زیادہ تر وہ کلام تھا جسے فانی نے ’’دیوان فانی‘‘ کی اشاعت کے وقت متروک کر دیا تھا۔ راقم الحروف نے دستیاب شدہ غزلوں اور بیاض کے کلام کا انتخاب اپنی مرتب کردہ کتاب ’’فانی کی نادر تحریر میں‘‘ میں شامل کیا ہے ۔        امیر مینائی اور داغ دہلوی روایتی غزل کے آخری نمائندے تھے ۔ ان کے متبعین اور شاگردوں نے ان کے اندازِ غزل گوئی کو زندہ رکھنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔      امیر اور داغ کے بعد حسرت موہانی، شاد عظیم آبادی، فانی بدیوانی، یگانہ چنگیزی، اصغر گونڈوی اور جگر مرادآبادی نے غز

شوکت علی فانی بدایونی کے حالات زندگی

     گذشتہ اکائی میں ہم نے مرزا خاں داغ کی حیات اور غزل گوئی کا جائز لیا۔ داغ کی چار غزلیں بھی پیش کیں اوران کی غزل گوئی پر تبصرہ کیا۔ ان کی غزل کے دو اشعار کی تشریح نمونے کے طور پر دی تا کہ آپ کو داغ کی غزلوں کو سمجھنے میں مدد ملے ۔ اس اکائی میں ہم فانی بدایونی کے حالات زندگی پیش کریں گے اور ان کی غزل گوئی کی خصوصیات کا جائزہ لیں گے ۔ فانی بدایونی کی چار غزلیں آپ کے مطالعے کے لیے دی گئی ہیں ۔ فانی کے دو اشعار کی تشریح کی جائے گی ۔ اس اکائی کا خلاصہ پیش کریں گے۔ fani badayuni biography in urdu فانی بدایونی کے حالات زندگی      فانی بدایونی کا نام شوکت علی خان تھا۔ ان کا خاندانی تعلق یوسف زئی افغانوں سے تھا۔ فانی بدایونی کے پڑ دادا نواب اکبر علی خان اور دادا غلام نبج خان تحصیل دار تھے ۔ ان کی بڑی زمین داری تھی ۔ ان کی جائیداد کا بڑا حصہ 1857 ء کے غدر کی شورش کے نذر ہو گیا ۔ امارت کا زوال ہوچکا تھا۔ ان کے والد نے مجبوراً پولیس کی ملازمت اختیار کرلی ۔ فانی بدایونی کی والدہ مصاحب بیگم ، تو اب بشارت خاں کی نواسی تھیں جو فانی بدایونی کے پڑ دادا نواب اکبر علی خان کے رشتے کے بھائی تھے۔      شوک

مرزا داغ کی غزلیں مع تشریح و خلاصہ

  داغ کی غزلیں مع تشریح و خلاصہ Daag dehlvi ghazal tashreeh ابھی آپ نے داغ کی زندگی کے حالات کا تفصیل سے مطالعہ کیا ۔ ان کی غزل گوئی کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور داغ کی غزل کی خصوصیات سے آ گہی حاصل کی ۔ اب ہم داغ کی چارغزلیں آپ کے مطالعے کے لیے پیش کر ر ہے ۔ بہ طور نمونہ داغ کے دو اشعار کی تشریح بھی کی جاۓ گی ۔ غزل ۔ ا غضب کیا ترے وعدے پر اعتبار کیا  تمام رات ‘ قیامت کا انتظار کیا تھے تو وعدۂ دیدار ہم سے کرنا تھا  یہ کیا کیا! کہ جہاں کو امیدوار کیا !فسانۂ شبِ (رات) غم، ان کو اک کہانی تھی  کچھ اعتبار کیا کچھ نہ اعتبار کیا فلک سے طور، قیامت کے بن نہ پڑتے تھے اخیر اب تھے آشوبِ روزگار کیا بنے گا مہر ، قیامت بھی، ایک خال سیاہ  جو چہرہ داغ سیاہ رو، نے آشکار کیا داغ دہلوی کی غزل گوئی غزل ۔ ۲ خاطر سے، یا لحاظ سے، میں مان تو گیا  جھوٹی قسم سے آپ کا، ایمان تو گیا دل لے کے مفت ، کہتے ہیں! کچھ کام کا نہیں  الئی شکایتیں ہوئیں، احسان تو گیا دیکھا ہے بت کدے میں جو اے نے کچھ نہ پوچھ  ایمان کی تو یہ ہے، کہ ایمان تو گیا افشائے رازِ عشق میں گو ذلتیں ہوئیں لیکن اسے جتا تو دیا؛ جان تو گیا ہوش و حواس و

مرزا داغ دہلوی کی غزل گوئی

  مرزا داغ دہلوی کی غزل گوئی Daag dehlvi ghazal in urdu داغ کی شخصیت کی ساخت پرداخت اور تعمیر و تشکیل ہی میں نہیں، ان کی شاعری کی تہذیب و تزئین میں بھی لال قلعے کی فضا کا بڑاحصہ رہا ہے ۔ وہ لال قلعہ جس میں مغل سلطنت کی شمع گل ہو رہی تھی لیکن اردو شاعری کی محفل میں چراغاں ہی چراغاں تھے ۔ داغ 14 برس کے ہوں گے، قلعے میں داخل ہوئے۔ ان کی والدہ چھوٹی بیگم نے ولی عہد بہادر نواب مرزا فخرو سے دوسرا نکاح کرلیا تھا اور پھر پہلی جنگ آزادی تک داغ قلعے میں رہے ۔ قلعہ میں ان کو دنیا کی ساری نعمتیں اور آسائشیں حاصل تھیں۔ مغل سلطنت پارہ پارہ ہوچکی تھی ۔ کل کے احوال کسی سے پوشید نہیں تھے لیکن ہر ایک زندگی سے عیش و نشاط کا آخری قطرہ بھی نچوڑ رہا تھا۔ داغ کے مزاج، ان کی شاعری، ان کے افکار و نظریات اور زندگی کے بارے میں ان کے رویّے کی تہذ یب و ترتیب میں ان سارے عناصر کی کار فرمائی تھی ۔ دہلی چھوڑنے کے بعد داغ نے رامپور کا رخ کیا ۔ رامپور میں ان کی خاصی پذیرائی ہوئی ۔ انھیں اس دوران تھوڑی بہت ( بلکہ برائے نام ) مالی پریشانی بھی رہی ہو لیکن ان کی زندگی مجموعی طور پر خاصی اطمینان بخش گز ری اور حیدرآباد میں ت