Ad

قصیدۂ تضحیکِ روزگار

 

قصیدۂ تضحیکِ روزگار

قصیدۂ تضحیکِ روز گار 

Qasida tazhik e rozgaar

ہے چرخ جب سے ابلق ایام پر، سوار 

رکھتا نہیں ہے دست عناں کا بہ یک، قرار 


جن کے طویلے بیچ کوئی دن کی بات ہے 

ہرگز عراقی و عربی کا نہ تھا شمار 


اب دیکھتا ہوں میں کہ زمانے کے ہاتھ سے 

موچی سے کفش پا کو گٹھاتے ہیں وہ ادھار 


تنہا ، ولے نہ دہر سے عالم خراب ہے 

خست سے اکثروں نے اٹھایا ہے ننگ و عار 


ہیں گے چنانچہ ایک ہمارے بھی مہرباں 

پاوے سزا جو ان کا کوئی نام لے نہار 


نوکر ہیں سو روپے کے دہانت کی راہ سے 

گھوڑا رکھیں ہیں ایک ، سو اتنا خراب و خوار 


نے دانہ و نہ کاہ نہ تیمار نے سئیس 

رکھتا ہو جیسے اسپِ گلی طفل شیر خوار 


نا طاقتی کا اس کے کہاں تک کروں بیاں 

فاقوں کا اس کے اب میں کہاں تک کروں شمار 


مانند نقش ، فعل زمیں سے بجز فنا 

ہرگز نہ اٹھ سکے وہ اگر بیٹھے اک بار 


اس مرتبے کو بھوک سے پہنچا ہے اس کا حال

کرتا ہے راکب اس کا جو بازار میں گزار 


قصاب پوچھتا ہے مجھے کب کروگے یاد 

امیدوار ہم بھی ہیں کہتے ہیں یوں ، چمار 


جس دن سے اس قصائی کے کھونٹے بندھا ہے وہ

گزرے ہے اس نمط اسے ہر لیل و ہر نہار 


ہر رات اختروں کے تئیں دانہ بوجھ کر 

دیکھے ہے آسمان کی طرف ہو کے بے قرار 


تنکا اگر پڑا کہیں دیکھے ہے گھانس 

چوکے کو آنکھ موند کے دیتا ہے وہ پسار 


خط شعاع کو وہ سمجھ دستۂ گیاہ 

ہر دم زمین پہ آپ کو پکے ہے بار بار 


گزرے وہ جس طرف سے کبھو اس طرف نسیم

باد سموم دے ہو وے وہیں گر کرے ، گزار 


دیکھے ہے جب وہ تو بڑہ و تھان کی طرف 

کھودے ہے اپنے سم سے کنوئیں ٹاپیں مار مار


ہے اس قدر ضعیف کہ اڑ جائے باد سے 

میخیں گر اس کے تھان کی ہوویں نہ استوار 


نے استخواں نہ گوشت نہ کچھ اس کے پیٹ میں 

دھونکے ہے دم کو اپنے کہ جوں کھال کو لوہار


سمجھا نہ جائے یہ کہ دو ابلق ہے یا سرنگ 

خارشت سے زبس کہ ہے مجروح بیشمار 


یہ حال اس کے کچھ غرض یوں کہے ہے خلق

چنگل سے موذی کے تو چھڑا اس کو کرد گار 


ہر زخم پر زبس کہ بھٹکتی ہیں مکھیاں 

کہتے ہیں اس کے رنگ کو مگسی اس اعتبار 


لے جاویں چور یا مرے یا ہو کہیں یہ گم 

اس تین بات سے کوئی جلدی ہو آشکار 


تنہا نہ اس کے نم سے ہے دل تنگ زین کا 

خوگیر کا بھی سینہ جو دیکھا تو ہے ، نگار 


القصہ ایک دن مجھے کچھ کام تھا ضرور

آیا یہ دل میں جائیے گھوڑے پہ ہو سوار


رہتے تھے گھر کے پاس قضارا وہ آشنا 

مشہور تھا جنہوں کنے وہ اسپ نابکار 


خدمت میں ان کی میں نے کیا جا یہ التماس

گھوڑا مجھے سواری کو اپنا دو ، مستعار 


فرمایا جب انہوں نے کہ اے مہربان من 

ایسے ہزار گھوڑے کروں تم پہ میں نثار 


لیکن کسی کے پڑھنے کے لائق نہیں یہ اسپ 

یہ واقعی ہے اس کو نہ جانوگے ، انکسار 


صورت کا جس کا دیکھنا ہے گا گدھے کو ننگ 

سیرت سے جس کے نت ہے سنگ خشمگیں کو عار


بد رنگ جیسے لید و بدبو سے چوں پیشاب 

بدیمن یہ کہ اصطبل اوجڑ کرے ، ہزار 


حشری ہے اس قدر کہ بحشر اس کی پشت پر 

دجال اپنے منھ کو سیہ کر کے ہو سوار 


اتنا وہ سرنگوں ہے کہ سب اڑ گئے ہیں دانت 

جبڑے پہ بس کہ ٹھوکروں کی نت پڑے ہے مار


ہے پیر اس قدر کہ جو بتلائے اس کا سن 

پہلے وہ لے کے ریگ بیاباں کرے شمار 


لیکن مجھے ز روئے تواریخ یاد ہے 

شیطاں ، اسی پہ نکا تھا جنت سے ہو سوار 


کم رو ہے اس قدر کہ اگر اس کے نعل کا 

لوہا گلا کے تیغ بناوے کبھو ' لوہار 


ہے دل کو یہ یقیں کہ وہ تیغ روز جنگ

رستم کے ہاتھ سے نہ چلے وقت کار زار


مانند اسپ خانۂ شطرنج اپنے پاؤں 

جز دست غیر کے نہیں چلتا ہے زینہار


چند اشعار کی تشریح

اس مرتبے کو بھوک سے پہنچا ہے اس کا حال 

کرتا ہے راکب اس کا جو بازار میں گزار 


قصاب پوچھتا ہے، مجھے کب کروگے یاد

امیدوار ہم بھی ہیں ، کہتے ہیں یوں ، چمار


     بھوک کی وجہ سے گھوڑے کی حالت اتنی خراب ہوگئی اور وہ اتنا کم زور ہوگیا ہے کہ اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ اس کی موت قریب آ گئی ہے ، اس لئے قصائی سوار سے پوچھتا ہے کہ مجھے کب یاد کرو گے یعنی یہ گھوڑا میرے ہاتھ کب فروخت کرو گے تا کہ میں مار کر اس کی کھال بیچ سکوں ۔ چمار سوار سے پوچھتا ہے ہم بھی اس گھوڑے کے امیدوار ہیں جب اس کو مار کر قصائی اس کی کھال فروخت کرے گا تو ہم اس کی کھال کے جوتے اور دوسری چیز بنائیں گے۔


ہے اس قدر ضعیف کہ اڑ جائے باد سے

میخیں گر اس کے تھان کی ہوویں نہ استوار


نہ استخواں نہ گوشت ، نہ کچھ اس کے پیٹ میں

دھونکے ہے دم کو اپنے کہ جوں کھال کو لوہار


      شاعر کہتا ہے کہ یہ گھوڑا اتنا کمزور اور لاغر ہے کہ تھان پر جن میخوں سے اسے باندھا جاتا ہے ۔ اگر بہت مضبوطی سے زمین میں نہ گاڑی گئی ہوں تو تیز ہوا اس گھوڑے کو اڑا کر لے جائے گی۔ اس کے جسم میں ہڈیاں ہیں نہ گوشت ۔ اس کا پیٹ بالکل خالی ہے ۔ اس کی کمزوری کا یہ حال ہے کہ اس طرح لمبے لمبے سانس لیتا ہے جیسے لوہار آگ کے تیز کرنے کے لیے دھونکنی کو دھونکتا ہے ۔


کم رو ہے اس قدر کہ اگر اس کے نعل کا

لوہا گلا کے تیغ بناوے کبھو ' لوہار


ہے دل کو یہ یقین کہ وه تیغ روزِ جنگ

رستم کے ہاتھ سے نہ چلے وقت کار زار


مانند اسپ خانۂ شطرنج اپنے پاؤں

جز دست غیر کے نہیں چلتا ہے زینہار


     ان اشعار میں گھوڑے کی کمزوری کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ گھوڑا اتنا آہستہ چلتا ہے کہ لوہار گھوڑے کی نعل نکال کر اس کو گلائے اور پھر اسکی تلوار بنائے تو مجھے یقین ہے کہ اگر رستم لڑائی کے میدان میں دشمنوں پر اس تلوار سے حملہ کرے تو اس کے ہاتھ سے یہ تلوار ہرگز نہ چلے ۔

    سودا کہتے ہیں کہ گھوڑا تو شطرنج کے گھوڑے کی طرح ہے جو اپنے پیروں سے ہرگز نہیں چل سکتا۔ یہ تو دوسروں کے ہاتھوں سے چلتا ہے ۔


اس اکائی کا خلاصہ

سودا کے آبا و اجداد بخارا سے ہندستان آ کر دہلی میں آباد ہو گئے ۔ سودا کے والد مرزا شفیع تجارت پیشہ تھے ۔ سودا 1707 ء دہلی میں پیدا ہوئے ۔ یہیں ان کی تعلیم و تربیت ہوئی ۔ سودا کی ادبی زندگی کا آ غاز فارسی میں شعر گوئی سے ہوا۔ وہ شاعری میں خان آرزو کے شاگرد ہو گئے اور آرزو کے مشورے پر انھوں نے اردو میں شعر کہنے شروع کیے ۔ بہت جلد اردو کے ممتاز ترین شاعروں میں شمار ہونے لگے ۔ دہلی پر نادر شاہ اور احمد شاہ کے حملوں کے بعد سودا ترک وطنن کر کے فرخ آباد چلے گئے ۔ وہاں سے پہلے فیض آباد اور پھر لکھنؤ پہنچے۔ لکھنؤ میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی قبر زمین میں اس طرح دب گئی تھی کہ اس کانام و نشان بھی باقی نہیں رہا تھا۔ کچھ عرصے بعد اہلِ لکھنؤ نے زمین کھود کر قبر باہر نکالی اور اس کے مرمت کرائی ۔ سودا پہلے شجاع الدولہ کے دربار سے وابستہ تھے۔ان کی وفات کے بعد شجاع الدولہ کے صاحبزادے آصف الدولہ کے دربار سے منسلک ہو گئے ۔ دونوں کے عہد میں سودا کو دو سو روپے ماہوار وظیفہ ملتا تھا۔ 

     سودا نے غزل قصیدہ اور دوسری اصناف سخن میں طبع آزمائی کی لیکن جن شاعروں نے قصیدے کے فن میں با قاعدگی پیدا کی اور اپنی غیر معمولی علامیتوں سے فن قصیدہ نگاری کو عروج پر پہنچایا ان میں سودا کا نام سر فہرست ہے ۔ سودا کے زمانے کے بعض تذکرہ نگاروں نے سودا کو فن قصیدہ کا نقاش اول کہا ہے۔ سودا کے قصیدوں میں مضامین کا تنوع ، رنگا رنگی ، قدرتِ کلام اور پر شور انداز بیان ہوتا ہے ۔ سودا کو زبان پر جو قدرت حاصل ہے ، وہ ان کے معاصرین میں کسی اور شاعر کو حاصل نہیں ہوسکی۔


     غزل گوئی کے میدان میں بھی سودا کسی سے کم نہیں تھے لیکن بہت سے تذکرہ نگاروں نے غزل گوئی کے مقابلے میں ان کی قصیدہ نگاری کو ترجیح دی ہے۔ سودا نے فارسی شاعروں کے قصیدوں کو اپنا نمونہ بنایا ہے۔ ان کے نام ہیں خاقانی ، انوری ، عرفی۔

     بعض نقادوں کا خیال ہے کہ سودا کے قصیدے فارسی شاعروں کے قصیدوں کے ہم پلہ ہیں جب کہ بعض کا کہنا ہے کہ قصیدہ گوئی میں سودا نے فارسی کے مشہور قصیدہ نگاروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے