نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

مارچ, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

محمد قلی قطب شاہ کی حالات زندگی

محمد قلی قطب شاہ کی حالات زندگی   ابو المظفر سلطان محمد قلی قطب شاہ، بانی مملکت گولکنڈہ ابراہیم علی شاہ کا تیسرا فرزند اور قطب شاہی سلطنت کا پانچواں فرما رواں تھا ، وہ 14 رمضان المبارک 973 ھ مطابق 14 اپریل 1565 کو بروز جمعہ گولکنڈہ میں پیدا ہوا، اس کی ولادت کے موقع پر گولکنڈہ میں کئی دنوں تک جشن کا اہتمام کیا گیا اور مسکینوں اور فقیروں کو انعام و اکرام اور خلعت سے نوازا گیا۔ مورخین کا بیان ہے کہ محمد قلی قطب شاہ کی ماں "بھاگیہ رتی" ایک ہندو خاتون تھی، محمد قلی کی تخت نشینی 15 سال کی عمر میں 988ھ/1580ء میں عمل میں آئی۔ اس نے کم و بیش اکتیس برس تک نہایت تزک و احتشام کے ساتھ حکمرانی کی اور 47 سینتالیس سال کی عمر میں 1020ھ/ 1611ء میں انتقال کیا۔

محمد قلی قطب شاہ

محمد قلی قطب شاہ  Mohammed quli qutub shah اس اکائی میں اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر اور بانی شہر حیدرآباد سلطان محمدقلی قطب شاہ کے حالات زندگی اور ادبی کارناموں کا تعارف کرواتے ہوئے اس کی غزل گوئی کی خصوصیات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔ محمد قلی قطب شاہ مملکت گولکنڈ کا پانچواں حکمران تھا۔ اپنے والد ابراہیم قطب شاہ کے انتقال کے بعد وہ 15 سال کی عمر میں تخت نشین ہوا اور اکتیس سال حکومت کرنے کے بعد سینتالیس سال کی عمر میں فوت ہوا۔ اپنی مملکت میں بسنے والے مختلف طبقات کے مابین بھائی چارگی کے جذبات کی نشوونما اور شہر حیدرآبا دکا قیام اس کے دورحکومت کے کارہائے نمایاں ہیں ۔ محمد قلی، قطب شاہی سلطنت کا ایک رعایا پرور حکمران ہی نہیں تھا بلکہ قلی خان کا تاج دار بھی تھا۔ اس کے دور میں شعر و سخن اور علم و ادب کے پہلو بہ پہلو فنون لطیفہ کو بھی فروغ حاصل ہوا ۔ محمد قلی نہ صرف اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر ہے بلکہ وہی پہلاغزل گوبھی ہے جس نے ایک ایسے دور میں صنف غزل پر خصوصی توجہ کی جب کہ دیگر تمام دکنی شعراء مثنوی نگاری میں اپنے کمال فن کا مظاہرہ کررہے تھے۔  محمد قلی کی غزلوں میں ایک طرف انداز بیان

جدید اردو غزل جدیدیت کی تحریک کا زوال

جدید اردو غزل جدیدیت کی تحریک کا زوال بیسویں صدی کی ساتویں دہائی کے گزرتے گزرتے جدیدیت کی تحریک ماند پڑ گی لیکن اس کے اثرات آٹھویں دہائی کے آغاز تک باقی رہے۔ گذشتہ بیسں پچیس برسوں میں ملک کی سیاسی، سماجی زندگی میں بڑی تبدیلیاں ہوئیں اور سیاسی معاشی طور پر عالمی مناظر نامہ بھی بدل گیا۔ فرد کی تنہائی اور اجنبیت کے احساسات جو مشینی زندگی کے زائدہ تھے، رفتہ رفتہ ختم ہونے لگے ۔ سوویت یونین کے زوال اور امریکی سامراج کی بالا دستی نے نو آزاد نو آبادیاتی ملکوں کی تیسری دنیا کو نئے مسائل سے دوچار کیا ۔ اندرون ملک فرقہ وارانہ طاقتیں زور پکڑنے لگیں۔ غربت، جہالت اور بے روزگاری میں یک گونہ اضافہ ہوا۔ لسانی اور مذہبی اقلیتوں میں جو مایوسی کا شکار تھیں، بیداری پیدا ہوئی اور وہ جہد للبقا کی کشمکش سے دوچار ہوئیں ۔ شاعری میں زندگی کے بارے میں قدیم تصورات کا عمل دخل کم ہو گیا ۔ شاعر اپنے انفرادی اور سماجی ردعمل کا آزادانہ اظہار کرنے لگے ۔ جدید تر غزل میں ہجرت اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کو خاص طور پر موضوع بنایا گیا ۔ دہشت گردی اور فسادات نے جو تباہی مچائی اور خوف کا ماحول پیدا کر دیا اس کی عکاسی بھ

جدید اردو غزل اور جدیدیت کی تحریک

جدید اردو غزل اور جدیدیت کی تحریک Jadidiyat ki tehrik جدید اردو غزل اور جدیدیت کی تحریک کا عروج بیسویں صدی کی چھٹی دہائی میں اردو ادب میں جدیدیت کی تحریک کو فروغ ہوا۔ یہ ایک طرح سے ترقی پسند تحریک کی اداریے کا رد عمل تھا۔ جدیدت کی تحریک کے نظریہ سازوں نے اس بات پر زور دیا کہ ادیب کی وابستگی کسی دیے ہوئے سیاسی نظریے یا کسی سیاسی گروہ کی معلمہ پالیسی سے نہیں بلکہ اپنی ذات سے ہونی چا ہے۔ انھوں نے عصری آگہی پر زور دیا۔ اس تحریک کے زیراثر سیاسی مسائل کی جگہ عصر حاضر کے انسان کے وجودی مسائل نے لے لی ۔ بعض جدید ادیبوں اور شاعروں نے ماضی کی ادبی روایات سے اپنا رشتہ توڑ لیا اور شعر و ادب میں زبان اور فن کے نئے تجربے کیے ۔ تجریدی کہانی اور اینٹی غزل اس کی مثالیں ہیں۔ اس تحریک نے اردو غزل پر بھی گہرا اثر ڈالا ۔ غزل کی زبان میں تبدیلیاں آئیں، نئے استعارے اور علائم وضع کیے گئے۔ جدید غزل کی ایک اہم شناخت یہ ہے کہ روایتی غزل کے مثالی عشق کی جگہ دور حاضر میں معاشرتی تبدیلیوں کے ساتھ عشق کی بدلتی ہوئی گونا گوں کیفیات اور واردات کو حقیقت نگاری کے ساتھ پیش کیا جانے لگا ۔ اظہار کے نت نئے اسالیب سے غزل کی

جدید اور جدید تر اردو غزل

جدید اور جدید تر اردو غزل جدید اور جدید تر اردو غزل آزادی کے بعد سیاسی مسائل کی نوعیت وہ نہیں رہی تھی جن سے ترقی پسند تحریک کو زیاد سرو کار تھا۔ انگریز سامراج کی غلامی کا دور ختم ہو گیا تھا۔ بدلے ہوئے حالات میں اچھی تخلیقی صلاحیت رکھنے والے شاعروں نے غزل کو نیا موڑ دینے کی کوشش کی۔ بعض شعرا نے تخلیقی تحریک کے حصول کے لیے میر سے رجوع کیا جیسے ابن انشا، خلیل الرحمن اعظمی ، ناصر کاظمی وغیرہ ۔ ان کے علاوہ غزل کو نیا رنگ و آہنگ دینے میں عبد الحمید عدم، سیف الدین سیف،باقی صدیقی، نشور واحدی ، جمیل مظہری، حبیب جالب حفیظ ہوشیار پوری، صوفی غلام مصطفی، تبسم، عزیز حامد مدنی اور کئی دوسرے شاعر شامل ہیں ۔ ان شاعروں نے غزل کی جمالیات کو نئی حقیقت پسندی سے روشناس کیا، عصری زندگی کے مسائل اور تقاضوں پر بھی نگاہ رکھی اداری اور لطیف رمزیہ انداز میں اپنے احساسات کا اظہار کیا۔ آزادی کے فوری بعد غزل کے رجحانات کا اندازہ ان اشعار سے لگایا جا سکتا ہے دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی حفیظ جالندھری جو مزاج دل نہ بدل سکا تو مذاق دہر کا کیا گلہ وی تلخیاں ہیں ثواب میں وہی لذتیں ہ

حلقۂ ‏ارباب ‏ذوق ‏اور ‏ترقی ‏پسند ‏تحریک

حلقۂ ‏ارباب ‏ذوق ‏اور ‏ترقی ‏پسند ‏تحریک حلقۂ ارباب ذوق اور ترقی پسند تحریک فراق کے بعد اردو غزل نے اپنا بدل چولا دیا۔ بیسویں صدی کی  تیسری اور چوتھی دہائی میں نئے ادب کی دو تحریکیں ابھریں جنھیں حلقہ ارباب ذوق اور ترقی پسند ادب کی تحریکوں کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہر دو تحریکوں نے ابتدا میں غزل سے بے اعتنائی برتی ۔ ترقی پسند اسے جاگیردارانہ عہد کی باقیات سمجھتے تھے۔ اور حلقۂ ارباب ذوق کے شعرا نے نظم میں نئے نئے تجربوں کے لیے اپنی صلاحیتیں وقف کر دی تھیں ۔ ترقی پسندوں نے غزل کی عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے محسوس کیا کہ یہ ان کے سیاسی معتقدات کے پرچار کے لیے کارآمد صنف ہے ۔فیض احمد فیض، مجروح سلطان پوری اور ساحر لدھیانوی جیسے شعرا نے غزل میں سیاسی خیالات، بغاوت اور انقلاب کے جذبات کے اظہار کے لیے غزل کی ایک نئی زبان تخلیق کی ۔ انہوں نے غزل کے معروف اور مروجہ استعاروں کو نئے تلازمے دیے لیکن ترقی پسندی کے انتہاپسندی کے دور میں جب ادیبوں، شاعروں سے یہ مطالبہ کیا جانے لگا کہ وہ اپنے خیالات کا ڈھکے چھپے انداز میں نہیں بلکہ کھل کر اظہار کریں تو ترقی پسند غزل میں نعره بازی در آئی تا ہم فیض جیسے

اقبال اور فراق

اقبال اور فراق Iqbal or firaaq علامہ اقبال      اسی زمانے میں غزل میں ایک مفرد آواز ابھری وہ اقبال کی تھی ۔ اقبال کی اہمیت یوں تو نظم نگار شاعر کی حیثیت سے زیادہ ہے لیکن اردو غزل کو ان کی جو دین ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ غزل کو اقبال نے نئے اسلوب ، نئی لفظیات اور نئے موضوعات سے روشناس کیا۔ ابتدائی دور میں اقبال غزل کی روایت کے دائرے میں رہ کر شعر کہتے رہے جس کے نمونے "بانگ درا " میں مل جاتے ہیں ۔ لیکن "بال جبریل" اور "ضرب کلیم" میں اقبال کی غزل نیا روپ دھارتی ہے۔ نظم کی طرح غزل کو بھی اقبال نے اپنے فلسفیانہ افکار کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ اقبال نے غزل میں جہاں کہیں اپنے خیالات کو غیر استعارتی اور غیر ایمائی انداز میں پیش کیا اور ایک حد تک برہنہ گفتاری سے کام لیا ان کی غزل سانچے کے اعتبار ہی سے غزل کہلانے کی مستحق ہے۔ اقبال کی غزل میں انفرادی شان اور عظمت وہاں نظر آتی ہے جہاں وہ غزل کے شعر کی بنیاد عام انسانی تجربات اور احساسات پر رکھتے ہیں یا جہاں انکی غزل کا واحد متکلم نوع انسانی کا نمائندہ بن کر کائنات میں انسان کے وجودی موقف کو اپنی فکر کا محور ب

غزل پر حالی کے اعتراضات ، اصلاحی تجاویز اور بعد کی غزل پر اس کے اثرات

غزل پر حالی کے اعتراضات، اصلاحی تجاویز اور بعد  کی غزل پر ان کے اثرات Gazal par haali ke aetrazaat, islahi tajaweez or baad ki gazal par unke asraat     سر سید علی گڈھ تحریک کے اثر سے اردو ادب کی تمام اصناف میں تبدیلی آرہی تھی اور نئی اصناف کا اضافہ ہورہا تھا ۔ اس تحریک کے پیش نظر وقت کا اہم تقاضا علم کی ترویج اور معاشرے کی اصلاح تھا۔ اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے حالی اور آزاد نے غزل کو اپنی تنقید کا ہدف بنایا ، نظم کی تحریک چلائی اور نیچرل شاعری کا تصور پیش کیا ۔      حالی کے زمانے میں غالب، مومن و ذوق کے بعد میں غزل کا انحطاط ہونے لگا تھا۔ خیالات میں رکاکت بڑھ رہی تھی، لفظ پرستی اور صنعت نگاری کا رجحان عام تھا ۔ فن پر مہارت جتانے کے لئے مشکل زمینیں ایجاد کی جاتی تھیں۔ عاشقانہ مضامین میں اصلیت کم تھی، انہیں مضامین کی تکرار کی جارہی تھی جو قدما باندھ چکے تھے ۔ خمریات شاعری میں محض ضیافت طبع کے لئے زاہدوں اور عابدوں پر پھبتیاں کسی جاتی تھیں۔ انھیں قباحتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے حالی نے غزل کی اصلاح کے لئے تجاویز پیش کیں۔      اردو کی اصناف سخن میں حالی غزل کو اہمیت دیتے تھے کیوں کہ یہ بہت

دہلی میں اردو غزل کا عروج اور مومن و ذوق

 دہلی میں اردو غزل کا عروج اور مومن و ذوق Dehli me urdu gazal ka urooj or momin o zouq دہلی میں اردو غزل کا عروج اور مومن و ذوق مومن خالص عشقیہ شاعر تھے ۔ انہوں نے معاملات عشق کو ہمہ رنگ انداز میں پیش کیا اور عشق کی متنوع کیفیات کی منھ بولتی تصویر کشی کی ۔ مومن کا اسلوب منفرد تھا ۔ وہ بھی غالب کی طرح غزل کے دو مصرعوں میں ایک وسیع خیال کو پیش کردیتےتھے ۔ انہوں نے بڑی خوبصورت تراکیب تراشیں۔ ایمائیت ان کے اسلوب کا خاص وصف تھا ۔ چند شعر ملاحظہ ہوں: دیدۂ حیراں نے تماشا کیا  دیر تلک وہ مجھے دیکھا کیا کچھ قفس میں ان دنوں لگتا ہے جی آشیاں اپنا ہوا برباد کیا تم میرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا میرے تغیر رنگ کو مت دیکھ تجھ کو اپنی نظر نہ ہو جائے میں بھی کچھ خوش نہیں وفا کرکے تم نے اچھا کیا نباہ نہ کی دشنام یار طبعِ حزیں پر گراں نہیں  اے ہم نفس نزاکت آواز دیکھنا تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کرلے  ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے ہر آن آنِ دگر کا ہوا میں عاشق زار وہ سادہ ایسے کہ سمجھے وفا شعار مجھے دہلی میں اردو غزل کا عروج اور غالب مومن و ذوق ذوق غالب اور مومن سے

دہلی میں اردو غزل کا عروج اور غالب

دہلی میں اردو غزل کا عروج اور غالب dehli me urdu ghazal ka urooj or ghalib دہلی میں اردو غزل کا عروج اور غالب دلی جب دوبارہ آباد ہوئی ، زندگی کی چہل پہل لوٹ آئی ۔ بہادر شاہ ظفر برائے نام     بادشاہ تھے اصل عمل داری انگریزوں کی تھی ۔ اس دور غالب ، مومن اور ذوق جیسے با کمال شاعر غزل کے افق پر نمودار ہوئے۔ ان میں سے ہر شاعر کا اپنا ایک جدا گانہ طرز تھا ۔ غالب نے ابتدا میں بیدل کے طرز کو اپنایا ، اس کے علاوہ وہ سبک ہندی کے دیگر شاعروں، صائب، غنی کاشمیری وغیرہ سے متاثر تھے ۔ ان شعراء کے  اثرات ، طرز و اظہار اور سلوک تک محدود تھے ۔ ابتدا میں غالب کی زبان فارسی زدہ تھی بعض غزلیں انہوں نے ایسی کہیں جن میں صرف فعل اردو ہے،فعل کو فارسی میں بدل دیا جائے تو پورا شعر فارسی ہوجائے جیسے شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا تماشائے بہ یک کف بردنِ صد دل پسند آیا       ردیف "آیا" کی جگہ "آمد" رکھ دیں تو یہ فارسی کا مطلع ہوجاتا ہے۔ غالب نے بعض احباب کے مشورے سے اپنا اسلوب بدلا اور سادہ زبان میں شعر کہنے لگے ۔ غالب اردو کے عظیم شاعر تھے ۔ انھوں نے غزل کو محض عشق مجاز کے تجربات اور جذبات ت