نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

ذوق کی غزلوں کا اسلوب

 

ابراہیم ذوق کی غزلوں کا اسلوب


ذوق کی غزلوں کا اسلوب

شاعری کا اسلوب در اصل اس کے لب و لہجے، لفظیات، ردیف و قوافی کے انتخاب و استعمال، صنائع بدائع اور دیگر وسائل حسن بیان پر مبنی ہے۔ ذوق کے اسلوب میں حسن کے ساتھ کچھ معائب بھی ہیں جن کا ہم پہلے یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔ ذوق کے پاس ردیف اور قافیے، نا مانوس او ثقیل بھی ہیں جیسے مگس، جام شراب، عسس جام شراب، خار زار، پشت، زینہار پشت، گھڑی دو گھڑی کے بعد، سر چڑھ کر، گھر چڑ کر، مکدر کو توڑ دوں پھر کو توڑ دو، کوٹ کوٹ کے، پھوٹ پھوٹ کے وغیرہ

ذوق کی شاعری اور غزل گوئی

     ذوق کو محاورہ بندی سے خاص رغبت ہے وہ اکثر پورے پورے محاورے کو نظم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے اشعار زبان کی قدرت کا ثبوت تو دے سکتے ہیں لیکن ان کی شاعرانہ قدر و قیمت میں کچھ اضافہ نہیں کر پاتے۔ مثلاً :

Ibraheem zouq Urdu poetry

آدمیت! اور شئے ہے، علم ہے کچھ اور چیز

کتنا توتے کو پڑھایا، پر وہ حیواں ہی رہا


لگاؤ خوب نہیں طبع کی روانی میں

کہ بو فساد کی آتی ہے، بند پانی میں 


لیتے ہی دل، جو عاشق دل سوز کا چلے

تم آگ لینے آئے تھے، کیا آئے کیا چلے


    ان کے بعض اشعار ایسے بھی ہیں جونری تک بندی کہے جاسکتے ہیں۔ ان میں نہ روز مرہ کا لطف، نہ مضمون ہے، نہ بندش، محض محض عامیانہ اور سوقیانہ خیالات و قافیہ پیمائی ہے۔ مثلاً :

چمن سے بعد ہمیں جیسے سین و قاف قفس

قفس میں بند ہیں ہم مثل بات ناف قفس


تو بھی فرو ہوئی، نہ ترش روئی شیخ کی 

ہر چند سوکھ سوکھ کے امچور ہوگیا


شیخ نے افطار یوں کے تر نوالے کھا لیے

ہاں مگر روزے کی خشکی سے چھوارا ہوگیا

ذوق کے حالات زندگی

     اس قسم کے اسقام اکثر شاعروں کے یہاں ہوتے ہیں یہ کچھ ذوق ہی سے متعلق نہیں۔ ذوق کے کلام کا غالب حصہ ان کے بہترین اسلوب کی تعریف میں آتا ہے۔ ذوق کی شاعری کا ایک حصہ وہ بھی ہے جس کی زبان سادہ اور بے تکلف ہے۔ ان میں سے بہت سے اشعار ضرب المثل بن گئے ہیں :

دیکھ چھوٹوں کو اللہ بڑائی دیتا ہے

آسماں آنکھ کے تل میں ہے دکھائی دیتا ہے 


یاں لب پہ، لاکھ لاکھ، سخن اضطراب میں 

واں ایک خاموشی تری، سب کے جواب میں 


اگر یہ جانتے چن چن کے ہم کو توڑے گے

تو گل کبھی نہ، تمنائے رنگ و بو کرتے 


لائی حیات آئے، قضا لے چلی چلے

اپنی خوشی نہ آئے، نہ اپنی خوشی چلے 

آتش کے کلام کی فنی خوبیاں

ردیف اور قافیہ ایک دوسرے سے اٹوٹ ہو تو شعر میں ایک اثر اور کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ذوق، ردیف و قافیہ سے بڑا کھیلتے ہیں، حسن پیدا کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں :


اگر ہوتے ہو تم برہم ابھی سے

تو پھر ہوتے ہیں رخصت ہم ابھی سے


لگے کیوں تم پہ مرنے ہم ابھی سے

لگایا جی کو اپنے غم ابھی سے


آتے ہی تو نے، گھر کی پھر، جانے کی سنائی

رہ جاؤں سن نہ کیوں کر پر تو بُری سنائی


کہنے نہ پائے اس سے ساری حقیقت ایک دن

آدھی کبھی سنائی آدھی کبھی سنائی


ذوق کی یہ غزل ان کے مخصوص رنگ میں بہت کامیاب ہے۔ زمین بھی ایسی ہے کہ بندش میں ڈھیلا پن یا سستی نہیں آنے پاتی، خوب رواں دواں شعر کہے ہیں:

تدبیر نہ کر ، دائرہ تدبیر میں کیا ہے

کچھ یہ بھی خبر ہے تری تقدیر میں کیا ہے


پارے کی جگہ کشتہ اگر ہوں دل بیتاب

پھر آپ ہی اکسیر ہے اکسیر میں کیا ہے


یہ غنچۂ تصویر کھلا ہے۔ ہ کھلے گا 

کیا جانے دلِ عاشق دل گیر میں کیا ہے 


" کیا ہے " کی ردیف ہر شعر میں الگ الگ کروٹیں لے رہی ہے۔ تکرارِ لفظی سے ذوق، ترنم پیدا کر دیتے ہیں :


ہم اور غیر یک جا دونوں بہم نہ ہوں گے

ہم ہوں گے وہ نہ ہوں گے وہ ہوں گے ہم نہ ہوں گے


بے قراری کا سبب ہر کام کی امید ہے

نا امیدی سے مگر آرام کی امید ہے 


ہوتا نہ اگر دل تو محبت بھی نہ ہوتی

ہوتی نہ محبت تو یہ آفت بھی نہ ہوتی


ذوق کے کلام میں کہیں کہیں ہلکا سا طنز محسوس ہوتا ہے۔ ذوق نے کبھی کسی کی تضحیک نہیں کی مگر طنز کے تیر ضرور برسائے ہیں۔

دل کشی چال میں، ایسی کہ، ستارے رک جائیں

سر کشی ناز میں، ایسی کہ گورنر جھک جائیں


میرے اسلام کو ایک قصۂ ماضی سمجھو 

ہنس کہ بولی! کہ، تو پھر مجھ کو بھی، راضی سمجھو


آنا تو خفا آنا ، جانا تو رلا جانا

آنا ہے تو کیا آنا ، جانا ہے تو کیا جانا


وقت پیری شباب کی باتیں

ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں


ذوق استاد سخن تھے انھوں نے ایسی زمینوں میں بھی غزلیں کہی ہیں جو زیادہ مقبول نہیں ہوسکتیں۔ ان میں بندشِ الفاظ کا سلیقہ اور عروضی پابندیوں کا خیال زیادہ ہے ، تاثیر کا نہیں۔ صرف ایک شعر :

اردو غزل کا آغاز و ارتقا

کتاب محبت میں اے حضرت دل بتاؤ کہ تم لیتے کتنا سبق ہو 

کہ جب آن کر تم کو دیکھا تو وہ ہی کیے دستِ افسوس کے دو ورق ہو 

میر تقی میر کی شاعری کا اسلوب

     ذوق کے یہاں، عام انسان کی عام واردات کو عام فہم زبان میں ڈھالنے کی کیفیت چھائی ہوئی جس کی۔ محاورہ بندی کا رنگ نمایاں ہے۔ مگر اس محاورہ بندی میں ناسخ کی سی شدت یا میکانیت نہیں ہے، بے ساختگی کا رنگ ہے، بے لاگ انداز میں سامنے کی باتیں ہیں۔ زبان کی صفائی کی وجہ سے دل کشی قائم رہتی ہے۔ عشقیہ اشعار ہوں کہ ناصحانہ ان کے یہاں اعتدال ہے، ویسا ہی جیسا ان کی زندگی میں تھا، کسی لفظ کا بے جا استمعال نہیں۔ ان کے مضامین مشکل اور چیستان نہیں۔ بہت سے اشعار ضرب المثل ہیں۔ وہ آپ ے اشعار میں مختلف علومِ فنون کی اصطلاحیں بے تکلف برتتے ہیں خصوصاً طب کی اصطلاح میں اکثر لے آتے ہیں۔ ان کے لب و لہجے میں شان وشوکت نہیں، مضامین میں تہہ داری نہیں۔ ذوق اردوئے معلٰی کے نمائندہ ہیں ان کے لئے اشعار گویا اردوئے معلٰی کے ٹکسال میں ڈھلے ہیں۔

تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام