نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

میر تقی میر کے حالات زندگی

 

میر-تقی-میر-حالات-زندگی


میر تقی میر کے حالات زندگی

میر تقی میر کی پیدائش

محمد تقی میر 20 نومبر 1722ء میں اکبر آباد( آگرہ) میں پیدا ہوۓ ۔ 1810 ء میں وہ لکھنو میں وفات پاگئے۔ میر کے بزرگ حجاز سے دکن آئے تھے۔ مگران کے پر دادا اکبر آباد گئے اور وہیں سکونت اختیار کی۔ میر کے والد ایک گوشہ نشیں درویش تھے ۔ میر نے اپنی خودنوشت ’’ ذکر میر‘‘ میں اپنے والد کے بارے میں لکھا ہے :


’’ وہ ایک صالح عاشق پیشہ شخص تھے "گرم دل کے مالک" ، "شب زندہ داراور روز حیران کار" 

      میراپنے والد کی صحبت سے متاثر ہو ۔ 'ذکر میر' میں درج ہے کہ ان کے والد ان سے کہا کرتے ’’اے بیٹے عشق اختیار کر کیونکہ عشق کے بغیر زندگی وبال ہے دنیا میں جو کچھ ہے عشق کا مظہر ہے۔ بد قسمتی سے گیارہ سال کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ والد کی وفات کے بعدان کے بھائی حافظ محمد حسن نے ان سے برا سلوک کیا۔ جب تک وہ آگرہ میں رہے ان کی تعلیم و تربیت کی زمہ داری میر امان اللہ نے قبول کی۔ میر امان اللہ خود درویشانہ طبیعت رکھتے تھے ۔ وہ میر کے والد کے بہت قریب تھے ۔ میر ان کو عم بزرگوار سے موسوم کرتے تھے ۔ ظاہر ہے میر کی ابتدائی زندگی یتیمی، بے کسی اور ناداری میں گزری ۔ ان کے سوتیلے ماموں خان آرزو نے بھی ان کو ذہنی تکلیف پہنچائی، ان حالات میں میر جو ایک غم پسند دل کے کے آئے تھے ، زیادہ ہی درد و غم میں ڈوب گئے۔ یہ احساس غم ان کی طبیعت کا خاصہ تھا۔ بے سروسامانی کی حالت میں انھیں تلاش معاش کے لئے گھر سے نکلنا پڑا لیکن یہاں بھی انہیں ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا۔ اسی حالت میں انھیں جنون کے دورے پڑنے لگے اور وہ بے دماغی اور بد دماغی کا شکار ہوئے۔ جیسا کہ انھوں نے خود بھی لکھا ہے 

بے دماغی، بے قراری، بے کسی، بے طاقتی

کیا جئیں وہ، روگ جن کے جی کو یہ اکثر رہیں

محبت کسو سے رکھنے کا اس کو نہ تھا دماغ 

تھا میر بے دماغ کو بھی کیا ملا دماغ 

     اس میں کوئی شک نہیں کہ میر ایک گہری افسردگی کے شکار ہے لیکن اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس نے ان کی شخصیت میں انسانی درد مندی کا رخ اختیار کیا دردمندی نے ان کی شخصیت میں توازن برقرار رکھنے میں مدد دی۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے لکھا ہے ۔: 

      ان کے غم انگیز اشعار کو پڑھ کر طبیعت کند نہیں ہوتی۔ ان کام پر لطف معلوم ہو تا ہے ۔ "ان کے غم میں شریک ہونے کو جی چاہتا ہے۔"

     چونکہ میر کی طبیعت پر ان کے والد کے گہرے اثرات تھے اور انھیں عشق کرنے کی تلقین کرتے تھے اس لیے وہ اوائل عمر سے ہی جذبہ عشق سے آشنا ہوۓ۔ چنانچہ منشی احمد حسین سحر نے لکھا ہے

"مشهور است که بشهر خویش با پری تمشا لے کہ از عزیزانش بود، در پرد تعشق طبع و میل خاطر داشته "

( یہ بات مشہور ہے کہ ان کواپنے شہر میں ایک پری پیکر سے جو ان کی رشتہ دار تھی در پر دہ عشق اور دلی رغبت تھی)


      میر کی زندگی کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ آگرے میں مصیبتوں کا سامنا کرنے کے باوجود جب روزگار کی کوئی صورت نہ نکلی تو خواجہ محمد باسط کے تو سط سے ان کے چچا صمصام الدولہ امیر الامراء نے دہلی میں ان کے لیے ایک روپے کا روزینہ مقرر کیا لیکن اسی زمانے میں نادرشاہ نے دلی پر چڑھائی کی اور اس شہر کوتباہ کیا۔ جنگ میں صمصام الدولہ قتل ہوۓ اور میربروزینے سے محروم ہو گئے۔ اس کے بعد وہ واپس آ گرہ گئے وہاں مایوسی کا سامنا کرنے پر پھر دلی کا رخ کیا۔ دلی میں ان کی زندگی پہیم شکستوں اور محرمیوں سے عبارت رہی، مختلف امیروں

اورنوابوں کے یہاں ملازمت اختیار کی لیکن مستقل آمدنی کا ذریعہ نہ بن سکی آخرکار وہ دلی چھوڑ کرلکھنو چلے گئے، لکھنؤ کی روانگی کے بارے میں خود لکھتے ہیں:


میر تقی میر کی وفات

"ان ایام میں فقیر خانہ نشین تھا اور چاہتا تھا کہ شہر سے نکل جاۓ لیکن زادراہ سے مجبور تھا میری عزت و آبرو کے تحفظ کے لیے نواب وزیر الممالک آصف الدولہ کے دل میں خیال آیا کہ میر پاس آۓ تو اچھا ہے ۔ لکھنؤ میں آصف الدولہ سے قربت رہی لیکن اب وہ غم حیات سے بجھ چکے تھے ۔ آخر بہ روز جمعہ 20 ستمبر 1810ء کو لگ بھگ 90 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ۔


میر کی تصانیف درج ذیل ہیں :

1 : غزلوں کے چھے دیوان

2 : ایک فارسی دیوان

3 : کئی مثنویاں

4 : ایک رسالہ بہ زبان فارسی

5 : شعرائے اردو کا تذکرہ بہ عنوان نکات الشعراء

6 : خود نوشت سوانح عمری بہ عنوان ذکر میر 


ناصر کاظمی لکھتے ہیں :

     " میر نوے سال کی طویل زندگی میں عالم، نقاد، عشق پیشہ، بادشاہوں کے ہم نشیں، درویش، ایک بڑے شاعر، غرض ایک بھر پور شخصیت تھے ۔ انھوں نے کیا کچھ نہیں دیکھا " ( میر ہمارے عہد میں )



میر کے چھے دیوان، میر تقی میر کی تصانیف، میر کا تعارف، میر تقی کی ابتدائی زندگی، میر تقی میر کی اولاد، تقی میر کی حالات زندگی، میر کی سوانح حیات،

تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام