نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

شمالی ‏ہند ‏میں غزل گوئی کا باضابطہ رواج

شمالی ہند میں غزل گوئی کا باضابطہ رواج
Shumali hind me ghazal goyi ka bazabta riwaaj

شمالی ‏ہند ‏میں غزل گوئی کا باضابطہ رواج

ولی کے اثر سے جب دہلی میں اردو شاعری کا چرچا ہوا (ولی کا دیوان 1718ء میں دہلی پہنچا تھا ) تو وہاں کے فارسی گو شاعر ولی کی تقلید میں ریختہ کہنے لگے ۔ ان کے کلام میں دکنی کے بہت سے لفظ ملتے ہیں ۔ رفتہ رفتہ انھوں نے دکنی میں مروج سنسکرت سے ماخوذ ہندوی لفظوں اور محاوروں کی جگہ فارسی کے الفاظ اور محاوروں کے ترجمے زبان میں داخل کیے ۔ مورخین ادب نے اسے اصلاح زبان کی تحریک کا نام دیا۔ دہلی میں اردو شاعری کے پہلے دور میں آبرو، آرزو، ناجی، یک رنگ اور حاتم کے نام آتے ہیں۔

نہ دینے لے کے دل وہ جعدِ مشکیں
اگر باور نہیں تو مانگ دیکھو
آبرو

جان کچھ تجھ پہ اعتماد نہیں
زندگانی کا کیا بھروسہ ہے
آرزو

اس درجہ ہوئے خراب الفت
جی سے اپنے اتر گئے ہم
حاتم

الہی مت کسو کے پیش رنجِ انتظار آوے
ہمارا دیکھئے کیا حال ہو جب تک بہار آوے
مظہر جانِ جاناں

غزل میں ایہام گوئی کا رواج

ایہام ایک صنعت ہے ۔ اس سے مراد شعر میں ایسا لفظ لایا جائے جس کے دو یا دو سے زیادہ معنی ہوں۔شعر پڑھ کر ذہن سامنے کے معنی کی طرف جائے ، غور کرنے پر اس کے دوسرے اصلی معنی پر توجہ مرکوز ہو۔ محولہ بالا آبرو کے شعر میں لفظ "مانگ" میں ایہام ہے۔ مانگ جو بالوں میں ہوتی ہے اس کے دوسرے معنی مانگنا ہے۔

مرزا مظہر جانِ جاناں اور بعض دوسرے شاعروں نے اس رجحان کی مخالفت کی ۔ چنانچہ آگے چل کر ایہام گوئی کم ہوگئی۔
دہلی کے شعرا نے فارسی غزل کی قدم بہ قدم پیروی کی ۔ فارسی غزل سے مضامین اخذ کیے۔ فارسی غزل کا سارا استعارتی نظام اردو میں منتقل کیا ۔ اس کی وجہ سے غزل کا وہ ہندوستانی مزاج برقرار نہیں رہا جو دکنی غزل کا وصف خاص تھا ۔ غزل پر ایرانی تہذیب کی گہری چھاپ پڑگئی۔ دہلی میں اردو شاعر کے دوسرے دور میں ایہام گوئی کم ہوگئی لیکن صنائع کا استمعال گن کارانہ انداز میں ہونے لگا ۔ اس دور کی اردو غزل میں سراپا نگاری کا رجحان بھی دکنی غزل کے مقابلے میں کم ہوگیا تھا ۔ شاعروں نے عشق کے جذبات و کیفیات کو موثر انداز میں ترجمانی کی ۔ اسی کے ساتھ معاملہ بندی کو فروغ ہوا۔ غزل کے موضوعات میں وسعت ہوئی۔ حیات و کائنات کے گوناگوں مسائل پر شعرا نے اپنے نتائج فکر کو تجربات و مشاہدات کی آنچ میں تپاکر شعر کے سانچے میں ڈھالا ۔ 

 غزل میں تصوف اور اخلاق کے مضامین بھی باندھے گئے۔ اس دور کی غزل کے چند شعر دیکھے:



نرگس و گل کی کھلی جاتی ہے کلیاں دیکھو
پھر یہ ان خوابیدہ فتنوں کو جگاتی ہے بہار
مظہر جانِ جاناں

اس درجہ ہوئے خراب الفت
جی سے اپنے اتر گئے ہم
شاہ حاتم

عشق کی ناؤ پار کیا ہووے
جو یہ کشتی ترے تو بس ڈوبے
سجاد

سر سری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہرجا جہان دیگر  تھا

دور بیٹھا غبار میر اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا
میر تقی میر

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انساں نکلتے ہیں
میر تقی میر

اس گلشن و ہستی میں عجب دید ہے لیکن
جب آنکھ کھلی گل کی تو موسم ہے خزاں کا
سودا

سودا جو تیرا حال ہے اتنا تو نہیں وہ
کیا جانیے تو نے اسے کس حال میں دیکھا
سودا

فیض سے مستی کے دیکھا ہم نے گھر اللہ کا
جا رہے مسجد میں شب، غم کردۂ کاشانہ ہم
سودا

حجاب رخ یار تھے آپ ہی ہم
کھلی آنکھ جب کوئی پردہ نہ تھا
درد

ہمارے پاس ہے کیا جو فدا کریں تجھ پر
مگر یہ زندگی مستعار رکھتے ہیں
درد

مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مرجائے
کہ زندگی عبارت ہے تیرے جینے سے
درد

کہیو سے باد صبا بچھڑے ہوئے یاروں کو
راہ ملتی ہی نہیں دشت کے آواروں کو
میر سوز

ایک آفت سے تو مر مر کے ہوا تھا جینا
پڑ گئی اور یہ کیسی مرے اللہ نئی
میر سوز

قسمت تو دیکھو ٹوٹی جاکر کہاں کمند
دو چار ہاتھ جب کہ لب و بام رہ گیا
قائم

سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
میر حسن

حسن میں جب تئیں گرمی نہ ہو جی دیوے کون
شمع  تصویر  کے جب گرد  پتنگ  آتے  ہیں
میر حسن

ملو جو ہم سے مل لو کہ ہم بہ نوک گیاہ
مثال قطرۂ شبنم رہے رہے نہ رہے
نظیر اکبر آبادی

سخت خجل ہیں اور شرمندہ رہ رہ کر پچھتاتے ہیں
خواب میں اس سے رات لڑے ہم کیا ہی خیال خام کیا
نظیر اکبر آبادی

تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام