نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

خواجہ ‏حیدر ‏علی ‏آتش ‏کے ‏کلام ‏کی ‏فنی ‏خوبیاں

 


خواجہ ‏حیدر ‏علی ‏آتش ‏کے ‏کلام ‏کی ‏فنی ‏خوبیاں


خواجہ حیدر علی آتش کے کلام کی فنی خوبیاں

Khawja Haider Ali Aatish urdu poetry

ایک اور خصوصیت جو آتش کو دبستان لکھنؤ سے وابستہ رکھتے ہوۓ بھی اس دبستان سے دور کر لیتی ہے وہ ان کے کلام کی سادگی سلاست بے ساختگی، برجستگی، روانی، صفائی، شفافیت اور سہل و عام فہم پیرایۂ بیان ہے ۔ یہ پہلو اس لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں کہ دبستان لکھنؤ میں، تصنع، بناوٹ، معاملہ بندی، رعایت لفظی، اچھی بری صنعتوں کا موقع بے موقع استعمال، دو راز کار تشبیہات و استعارات اور نزاکت بیان وغیرہ کو اہمیت دی جاتی تھی ۔ آتش نے جس طرح سادہ، اور بے ریا زندگی گزاری اور فطری انداز میں زیست کی اس طرح ان کے کلام کا بڑا حصہ بھی اس کا آئینہ دار ہے۔ ان کی غزلوں کے دو دیوان ہیں۔ پہلا دیوان ضخیم ہے اور دوسرے دیوان کا حجم پہلے دیوان کے ایک چوتھائی سے بھی کم ہے ۔ اگر ان کی غزلوں سے ایسے اشعار علاحدہ کر کے مطالعہ کیے جائیں تو محسوس ہی نہیں ہو گا کہ یہ کسی لکھنوی شاعر کا کلام ہے، ان اشعار میں زبان صاف اور آسان ہے، جذبات کی فراوانی اور احساس کی شدت ایسی ہے کہ " سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا " والی کیفیت محسوس ہوتی ہے ۔اور ہرشعر سے آ تش کی انفرادیت جلوہ گر ہوتی ہے:


بت خانہ(مندر) کھود ڈالو ، مسجد کو ڈھائے

دل کو نہ توڑو کہ خدا کا مقام ہے 


دوستوں(یار) سے اس قدر صدمے(برداشت) اٹھاۓ جان پر

دل سے رقیب کی دشمنی (عداوت) کا گلہ جاتا رہا


حالت نزع ہے صورت کوئی بچنے کی نہیں 

اٹھ گیا رو کے جو آیا ترے بیمار کے پاس 


بہ اشتیاق ، شہادت میں محو تھا دم قتل 

لگے ہیں گھاؤ جسم پر کہاں نہیں معلوم

          ان اشعار سے اس امر کا انداز ہوتا ہے کہ آتش کی فکر روشن بھی ہے اور دل کش بھی ۔ ان کے ہاں جذبات اور تخیلات ایک جان دو قالب ہو جاتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ شاعری ہی نہیں کسی بھی فن لطیف میں جب جذبات اور تخیلات یک جا ہو جاتے ہیں تو فنکارانہ نقش گری کامیاب ہو جاتی ہے، شاعری نکھر جاتی ہے، دیکھنے اور پڑھنے ہی میں دل آویز محسوس نہیں ہوتی، دلوں میں اتر جاتی ہے، حافظے میں اپنی جگہ بنالیتی ہے ۔ آتش کے ہاں اور کئی اشعار اس نوع اور اس مزاج کے مل جائیں گے کہ پڑھتے ہوئے قاری اپنے جذبات وتخیلات کو بھی دل آویز اور معطر پاتا ہے ۔ آتش کا ایک مشہور شعر ہے جس سے ان کے شعری اسلوب کا ایک اہم رخ سامنے آ تا ہے:


    یہاں وہ آتش بول رہا ہے جس کا تعلق دبستان لکھنؤ سے ہے ۔ لیکن یہ بات بھی خاطر نشان رہے کہ آتش نے یہاں بھی اپنی امتیازی حیثیت رکھی ہے اور اپنے فکری عناصر کو تابندہ اور سرخ رو بھی، کہتے ہیں: 


یہ شاعر ہے خدا(الہیٰ) یا مصور پیشہ ہیں کوئی

 نئے نقشے (انداز) نرالی صورتیں ایجاد(بناتے) کرتے ہیں


آتش کا ایک اور شعر ہے :

اپنے ہر شعر میں ہے معنی تہہ دار(معنی خیز) آتش

وہ سمجھے ہے جو بھی عقل (فہم ذکا) رکھتے ہیں


       آتش کا یہ دعوی بے جا نہیں کہ ان کے کئی اشعار میں معنی آفرینی اور تہہ داری ملتی ہے ۔ آتش نے اپنے مفکرانہ احساسات سے کام لیا اور اپنی غزلوں میں نئ فکری اور ذہنی جہات پیدا کیں ۔ ان کے ہاں خواہ کوئی موضوع ہو ایسے اشعار کی کمی نہیں جن میں فکر کی جودت اور ندرت نمایاں ہے 

       آتش پہ ہر کیف غزل کے شاعر تھے اور اپنے صوفیانہ مزاج، علوۓ فکر اور جذبات واحساسات کی ندرت کے باوجود دبستان لکھنؤ سے وابستہ تھے، اس دبستان سے تعلق خاطر رکھتے تھے۔ ناسخ، انشا، اور مصحفی وغیرہ سے ان کا متاثر ہونا لازمی تھا۔ چنانچہ ان کے یہاں لکھنوی دبستان شاعری کی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں ۔ خار جیت، صناعی، محبوب کے حسن کے ظاہری لوازمات کا ذکر، تصنع، سستے اور سطحی عاشقانہ جذبات کا اظہار اور ایسی ساری باتیں جن سے لکھنؤ کا دبستان بدنام بھی ہے اور نمایاں بھی ۔ یہاں چند شعر پیش کیے جاتے ہیں:


تری زلفوں نے بل کھایا تو ہوتا 

ذرا سنبل کو لہرایا تو ہوتا


مشتاق (چاہ) درد عشق ہے جگر اور دل بھی ہے 

کھاؤں گدھوں سی چوٹ(مار) بچاؤں کدھر کی چوٹ


بیڑا ہمارا قتل کا کیوں کر اٹھاؤ گے

 کس کر کمر بندھی ہے تو درد شکم ہوا 


دریا(پانی) میں غسل(نہانے) کے لیے اترا جو وہ صنم 

ناقوس مچھلیوں نے بجایا حباب کا 


دور سے کوچۂ دلبر کو تاکا کرتا ہوں 

نہ تو دیوار کا تکیہ (ٹیک) ہے نہ در(گھر) کا پہلو


کسی کے محرم(جس سے پردہ نہیں) آب رواں کی یاد آئی 

حباب کے جو برابر کوئی حباب آیا


دو راز کار تشبیہات، بعید از فہم استعاروں، مہمل اور مشکل محاوروں، کنایوں اور تلمیحوں کے لیے لکھنؤ کا دبستان شاعری معروف ہے ۔آتش کے ہاں بھی کہیں کہیں اس نوع کے استعارے، تشبیہیں وغیرہ مل جاتی ہے :

نہ پوچھ حال مرا خشک صحرا ہوں

لگا کے آگ مجھے کارواں روانہ ہوا


باغ جہاں میں کیا کہوں کیا حال ہے مرا

سوکھی ہوئی ہے جیسے درخت کہن کی شاخ


یہ اشارہ ہم سے ہے اس کی نگاہ ناز کا

دیکھ لو تیرِ قضا ہوتا ہے کس انداز کا

آتش کے کلام میں چند خامیاں بھی ہیں مثلا قافیہ پیمائی، عامیانہ الفاظ اور متروکات کا استعمال وغیرہ جن سے ان کے کلام کا ایک حصہ مجروح اور متاثر معلوم ہوتا ہے ۔ بعض اشعار میں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ محض محاورات اور تشبیہات وغیرہ کے استعمال کے لیے یہ شعر موزوں کیے گئے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایسے اشعار سپاٹ اور بے رنگ ہوگئے ہیں۔ اس کے باوجود آتش کی اہمیت اس میں ہے کہ انھوں نے غزل کواپنے عہد کے تقاضوں سے ہم کنار کیا۔ فکری اور صوفیانہ عناصر سےکام لیتے ہوئے غزل کے وزن و وقار میں اضافہ کیا اور لکھنؤ کے دبستان کے مجموعی اثرات سے غزل جو نشیب کی طرف رواں تھی اس کو تھاما اور فراز کی سمت گامزن کیا۔

تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام