نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

شب قدر لیلۃ القدر

 

شب قدر لیلۃ القدر


قسط۔۔25

        💠 *شب قدر* 💠

          رمضان المبارک کی راتوں میں ایک ایسی رات بھی ہے جس میں عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے ۔اس مقدس شب کا نام شب قدر(لیلتہ القدر )ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں شب قدر کی شان میں مکمل ایک سورت نازل فرمائی ہے ارشاد باری تعالی ہے( ترجمہ )بے شک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا اور تم نے کیا جانا کیا ہے شب قدر، ہزار مہینوں سے بہتر اس میں فرشتے اور جبرئیل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے ۔۔وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک۔

(سورہ قدر، پ30، ترجمہ کنزالایمان )

            حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں یعنی اکیس، تیئس، پچیس، ستائیس اور انتیسویں شب میں شب قدر کو تلاش کرو۔( بخاری شریف )     

           حضرت سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک رمضان المبارک کی ستائیس ویں شب کو شب قدر ہوتی ہے۔

                   شب قدر میں تلاوت قرآن ، اذکار اور نوافل کی کثرت کرنا چاہیے ۔جتنا ہو سکے خوب خوب عبادت کرکے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔۔گناہوں سے توبہ کرنا چاہیے۔اور اس رات میں قضا نمازیں ادا کرنا بہتر ھے کہ جس کے ذمہ قرض باقی ہو اس کی نفل قبول نہیں ہوتی ۔۔



قسط۔۔۔۔۔26


   💠 شب قدر کی فضیلت 💠


          شب قدر کی عظمت و بزرگی کی سب سے بڑی وجہ نزول قرآن ھے۔ قرآن مقدس اللہ تبارک و تعالی نے رمضان المبارک کی شب قدر میں لوح محفوظ سے پہلے آسمان پر نازل فرمایا اور پھر تقریبا تئیس برس کی مدت میں اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر اسے بتدریج نازل فرمایا۔

          حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا" جو شب قدر میں ایمان و یقین کے ساتھ قیام کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔" بخاری شریف ۱/۲۵۵

           حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب لیلۃ القدر آتی ھے تو جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور ہر اس بندے پر رحمت بھیجتے ہیں اور بخشش کی دعا کرتے ہیں جو کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر اللہ عزوجل کے ذکر میں مشغول ومصروف ہوتا ہے۔


⭐ بعد نماز عشاء سات بار انا انزلنا کی سورت پڑھیں۔ فضیلت: ہر مصیبت سے نجات ملے، ہزار فرشتے اس کے لیے جنت کی دعا کرتے ہیں۔

       اللہ تبارک و تعالی اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہم گنہ گاروں کو لیلۃ القدر کی قدر کرنے اور اس میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔    


   🔹المرسل : کلیم احمد قادری  

  💠 رضائے مصطفے اکیڈمی 

تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام