نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

الوداع ماہ رمضان المبارک

 

الوداع ماہ رمضان


 قسط۔۔۔۔29

    

    💠 *الوداع ماہ رمضان*  💠

         ماہ رمضان المبارک جو مومنوں کے لیے نیکیوں اور فضائل و برکات کا خزینہ ہے جب اس کی فرقت و جدائی کا وقت قریب آتا ہے تو اس کا دل غمگین  ہوجا تا ہے اور کیوں نہ ہو کہ ایسا انعام و اکرام و مغفرت کا مبارک و مقدس مہینہ ہم سے رخصت ہونے والا ہوتا ہے۔اور ایسے ہی بندۂ مومن کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مژدۂ جنت سناتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں " جو شخص رمضان المبارک کے آنے کی خوشی اور جا نے کا غم کرے اس کےلیے جنت ہے اور اللہ عزوجل پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائے۔"

            حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو زمین و آسمان اور ملائکہ میری امت کی مصیبت کو یاد کرکے روتے ہیں۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کونسی مصیبت؟ فرمایا رمضان المبارک کا رخصت ہونا ۔۔کیونکہ اس میں صدقات اور دعاؤں کو قبول کیا جاتا ہے، نیکیوں کا اجر وثواب بڑھا دیا جا تا یے، عذاب دوزخ دور کیا جاتاہے، تو رمضان المبارک کی جدائی سے بڑھ کر میری امت کے لیے اور کونسی مصیبت ہوسکتی ہے؟

        اللہ تبارک و تعالی رمضان المبارک کی جدائی کا غم ہمیں نصیب فرمائے ، ہم سب کے تمام اعمال کو اپنے بارگاہ میں قبول فرمائے اور مدینہ منورہ میں بار بار رمضان نصیب فرمائے ۔۔۔آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم  


قسط 30

 💠 *آہ ماہ رمضان رخصت ہو رہا ہے*  💠

         

         اللہ کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نےرمضان شریف کے مبارک مہینے کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اس مہینے کا پہلا عشرہ رحمت،دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا عشرہ ھے۔۔۔۔آہ اب یہ ماہ مبارک ہم سے رخصت ہونے کو ہے۔۔۔ جس میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گنا کردیا جاتا ھے۔۔۔

       اللہ عزوجل کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے کی عنایتوں اور رحمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرما تے ہیں کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ھے تو اللہ تبارک و تعالی اپنی مخلوق کی طرف نظر رحمت فرماتا ھے اور جب اللہ کسی بندے کی طرف نظر فرمائے تو اسے کبھی عذاب نہ دے گا۔۔اور ہر روز دس لاکھ گنہ گاروں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے اور جب انتیسوں رات ہوتی ھے تو مہینے بھر میں جتنے آزاد کیے ان کے مجموعے کے برابر اس ایک رات میں آزاد کرتا ھے اور جب عید الفطر کی رات آتی ھے، ملائکہ خوشی کرتے ہیں اور اللہ عزوجل اپنے نور کی خاص تجلی فرماتا ھے اور فرشتوں سے فرماتا ھے، اے گروہ ملائکہ اس مزدور کا کیا بدلہ ھے جس نے کام پورا کرلیا؟فرشتے عرض کرتے ہیں اس کو پورا اجر دیا جائے، اللہ عزوجل فرماتا ھے، میں تمہیں گواہ کرتا ھوں کہ میں نے ان سب کو بخش دیا۔" سبحان اللہ، سبحان اللہ 

     آہ ایسا مبارک ومسعود مہینہ ہم سے رخصت ہورہا ھے۔۔۔۔ آہ آج اس مبارک مہینے کے آخری  عشرے کا آخری دن آگیا۔۔۔۔۔دل غم گین اور آنکھیں اشک بار ھے کہ جس طرح اس مہینے کا حق تھا ہم سے ادا نہ ہوا۔۔۔ پھر بھی جو ٹوٹی پھوٹی عبادتیں ہم سے ہوئی یا ارحم الرحمین اسے قبول فرما اور اپنے بخشے ہوئےبندوں میں ہمارا شمار فرما۔۔آئندہ ہمیں اس سے بہتر انداز میں اپنی رضا والی زندگی عطا فرما۔۔۔۔۔۔رمضان المبارک کے بعد بھی پنج وقتہ نمازیں باجماعت پڑھنے کی توفیق عطا فرمانا۔۔۔یااللہ آئندہ سال پھر ہمیں رمضان المبارک کی بہاریں نصیب فرما۔۔۔ اے اللہ ہم پر اپنی رحمت نازل فرما۔۔۔دنیا و آخرت کی بھلائیاں نصیب فرما۔۔۔۔آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ 

علیہ وسلم 


قسط۔۔۔۔31

 💠 برکات ماہ رمضان 💠

   

💠رضائے مصطفے اکیڈمی 💠

تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام