Ad

اکبر الہ آبادی کی رباعیات تشریح و خلاصہ

Ugc net urdu syllabus 2022


اکبر الہ آبادی کی رباعی تشریح و خلاصہ


اکبر الہ آبادی کی رباعیات

Akbar Allahabadi ki rubaiyaat

یورپ والے جو چاہیں دل میں بھردیں

جس کے سر جو چاہیں رہنے دھر دیں

بچتے رہو ان کی تیزیوں سے اکبر

تم کیا ہو، خدا کے تین ٹکڑے کردیں


اعمال کے حسن سے سنورنا سیکھو

اللہ سے نیک امید کرنا سیکھو

مرنے سے مفر نہیں ہے جب اکبر

بہتر ہے یہی خوشی سے مرنا سیکھو

Akbar Allahabadi ki rubai in Urdu


دنیائے دنی کی یہ ہوس جانے دو

گلچیں ہو اگر خار و خس جانے دو

مالک کے بغیر گھر کی رونق نہیں کچھ

اللہ کو اپنے دل میں، بس جانے دو


ایک رباعی کی تشریح

Rubai ki tashreeh

یورپ والے جو چاہیں دل میں بھردیں

جس کے سر جو چاہیں رہنے دھر دیں

بچتے رہو ان کی تیزیوں سے اکبر

تم کیا ہو، خدا کے تین ٹکڑے کردیں

اکبر الہ آبادی کی رباعی گوئی

اس رباعی کا خیال اکبر کا مخصوص موضوع ہے۔ یعنی مغربی تہذیب اور مغربی نظریات پر طنز کرنا۔ کہتے ہیں یہ یورپ والے اس قدر چالاک ہیں بلکہ عیار ہیں کہ اپنی حکمت عملی یا چالاکی سے جس بات کا چاہیں لوگوں کو یقین دلادیں ۔ان کی تیزیوں سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ چاروں طرف ان کا بول بالا ہے ۔ ان کا راج ہے جس پر جو چاہیں الزام رکھ دیں ۔ جس کو چاہیں لوگوں کی نظروں سے گرا دیں ، جسے چاہیں چڑھا دیں یہ سب کوکٹھ پتلی کی طرح نچاتے رہتے ہیں ۔ ارے انسانوں کا ذکر کیا ہے انھوں نے تو خدا کو بھی تین حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ یہاں عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث کی طرف اشارہ ہے۔ جس میں حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہا جاتا ہے۔ ماں مریم، عیسیٰ اور خدا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یورپ کے زیادہ تر لوگوں کا مذہب عیسائیت ہے ۔

Urdu Shayari Akbar Allahabadi

خلاصہ

اس اکائی میں ہم نے اردو کے ممتاز شاعر اکبر الہ آبادی کے حالات زندگی بیان کیے ۔ وہ 16نومبر 1848ء کو موضع بارہ، ضلع الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ ہم نے بتایا کے ان کی ابتدائی تعلیم کس نہج پر ہوئی ۔ 1857 کے ہنگاموں کے بعد کس طرح تلاش معاش میں سرگرداں رہے ۔ مختلف ملازمتیں کی  پھر قانون کا امتحان کامیاب کر کے وکالت شروع کی ۔ پھر منصف بنے اور ترقی کرکے سب جج کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ ان کی اعلی عدالتی خدمات کے عوض انہیں خان بہادر کا خطاب عطا کیا گیا آخری عمر میں مختلف عوارض کا شکار رہے ۔ 9 ستمبر 1921 کو انتقال کر گئے ۔

اکبر نے شعر گوئی کی ابتدا غزل سے کی ۔ اس وقت کے مشہور شاعر غلام وحید سے اپنے کلام پر اصلاح لی ۔ آگے چل کر اکبر کی شاعر میں نیا رنگ پیدا ہوا انھوں نے سنجیدہ غزل چھوڑ کر مزاح اور طنز کا انداز اپنایا ۔ مزاحیہ اور طنزیہ نظموں کے علاوہ قطعات اور رباعیاں لکھیں ۔ انکی رباعیوں کے موضوع سیاست ، معاشرت ، تصوف اور اخلاق ہیں۔ 

ہم نے اکبر الہ آبادی کی تین رباعیاں پیش کیں اور ایک رباعی کی تشریح بھی کی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے