Ad

اکبر الہ آبادی کی رباعی گوئی

Akbar Allahabadi ki rubai goyi

 

اکبر الہ آبادی کی رباعی گوئی

Akbar Allahabadi rubai goyi

اکبر نے شاعری کی مختلف اصناف سخن پر طبع آزمائی کی۔ انہوں نے اپنی شاعری کی ابتدا غزل سے کی اس کے علاوہ قطعات لکھے ، نظمیں کہیں۔ انہوں نے بے قافیہ نظمیں بھی لکھیں اور رباعیاں بھی کہیں ۔ ان کے کلیات میں رباعیوں کی کافی تعداد ہے۔ اگر فنی لحاظ سے دیکھا جائے تو ان کی اکثر رباعیاں اس کے تقاضے پورے کرتی ہیں۔ کہیں کہیں انہوں نے فنی تقاضوں کو نظر انداز بھی کر دیا ہے۔ رباعی میں ان کو کیا کہنا ہے اس بات کا زیادہ خیال رکھا ہے۔

جدید شعراء کی غزلیں

موضوعات کے لحاظ سے اردو رباعیات میں بڑی حد تک یکسانیت ملتی ہے۔ اہم رباعی گو شعرا بشمول میر انیس، سبھی نے بے ثباتئ دنیا، پند و نصائح، اخلاقیات اور مسائل تصوف جیسے موضوعات پر ہی قلم اٹھایا ہے۔ اکبر الہ آبادی کی رباعیوں کے موضوع بھی تصوف ، اخلاق اور دنیا کے بے ثباتی ہیں۔ انہوں نے پند و نصائح سے بھی کام لیا ہے۔ ان موضوعات سے ہٹ کر دوسرے موضوعات پر بھی رباعیاں کہیں ہیں۔ جیسے اس وقت کی سیاست ، مختلف تحریکیں خاص طور سے سر سید کی تحریک ، مغربی تہذیب کی اندھی تقلید وغیرہ ۔ انہوں نے طنز و مزاح پیدا کرنے کے لیے انگریزی الفاظ بھی استمعال کیے ہیں۔


انہوں نے ایسی رباعیاں بھی کہی ہیں جو زمانہ اور ابنائے زمانہ پر ایک تفکر آمیز تبصرے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ اپنے دور کے سیاسی حالات و مسائل نیز مختلف سیاسی و سماجی تحریکات سے گہری واقفیت رکھتے تھے اور ان کے متعلق اپنے جذبات ، احساسات و خیالات کی عکاسی اپنی رباعیات میں کرتے ہیں۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں ۔

رباعی کا آغاز و ارتقا

جب علم گیا تو شوق عزت معدوم

دولت رخصت تو ذوق زینت معدوم

مسجد سے آئی گوش اکبر میں صدا

مذہب جو مٹا تو زور ملت معدوم


انوار اس دور کے دل افروز میں کم

گویا کہ شبیں بہت ہیں اور روز ہیں کم

ہر چرب زبان نہیں شمع اخلاص

جلنے والے بہت ہیں دل سوز ہیں کم


گر جیب میں زر نہیں، تو راحت بھی نہیں

بازو میں سکت نہیں، تو عزت بھی نہیں

گر علم نہیں تو، زور و زر، ہے بے کار

مذہب جو نہیں تو آدمیت بھی نہیں


مندرجہ بالا رباعیات اکبر کے گہرے سماجی و سیاسی شعور کی آئینہ دار ہیں ۔ وہ طنزیہ و مزاحیہ نگار کی حیثیت سے زیادہ جانے جاتے ہیں۔ ان کی رباعیوں کا لہجہ نسبتاً زیادہ سنجیدہ ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ انھوں نے رباعیات میں انگریزی کے الفاظ نہیں استمعال کیے ہیں یا مزاحیہ طرز ادا سے اجتناب کیا ہے لیکن نظموں کے مقابلے میں رباعیات میں یہ رنگ پھیکا ہے ۔ پھر بھی گاہے بگا ہے وہ رباعیات میں انگریزی الفاظ استمعال کرتے ہیں ۔


اونچا اپنی نیت کا زینا رکھنا

احباب سے صاف اپنا سین رکھنا

غصہ آنا تو نیچرل ہے اکبر

لیکن ہے شدید عیب کینا رکھنا


دنیا سے میل کی ضرورت ہی نہیں

مجھ کو اس کھیل کی، ضرورت ہی نہیں

در پیش ہے منزل عدم سے اکبر

اس راہ میں ریل کی ضرورت ہی نہیں


اکبر نے رباعیات کے روایتی موضوعات کو برتا ضرور ہے۔ لیکن یہ محض تقلید نہیں بلکہ ان میں جذبے کی سچائی پوری طرح شامل ہے۔


غفلت کی ہنسی سے آہ بھرنا اچھا

افعال مغر سے کچھ نہ کرنا اچھا

اکبر نے سنا ہے، اہل غیرت سے یہی

جینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا


غالب انسان پہ خود پسندی ہے فقط

مذہب کیا ہے گروہ بندی ہے فقط

ہر ذرۂ دہر سے یہ آتی ہے صدا

نعمت ہے اگر تو عقل مندی ہے فقط


اعمال کے حسن سے سنورنا سیکھو

اللہ سے نیک امید کرنا سیکھو

مرنے سے مفر نہیں جب سے اکبر

بہتر ہے یہی خوشی سے مرنا سیکھو


مندرجہ بالا رباعیات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اکبر کو فن رباعی گوئی پر کما حقہ دسترس حاصل تھی۔ یہ ضرور ہے کہ کبھی انھوں نے فنی تقاضوں کو نظر انداز بھی کیا ہے۔ لیکن ایسی رباعیوں کی تعداد کم ہے اور اس طرح کی رباعیات عام طور سے عصری حالات کے بیان سے متعلق ہیں۔ جہاں تک زبان کا تعلق ہے، بیشتر رباعیوں کی زبان آسان اور عام فہم ہے۔ لیکن کہیں کہیں موضوع کے لحاظ سے مشکل پسندی کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ بحیثیت مجموعی اکبر الہ آبادی رباعی گوئی میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے