نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فراق کی انفرادیت

  فراق کی انفرادیت فراق کی شاعری کو فراق کی حیات و شخصیت کو سمجھے بغیر مکمل طور پر سمجھ پانا مشکل ہے ۔ ان کی ذہانت اور فطانت ، پیچ در پیچ اور تہہ دار شخصیت بہرحال ان کے شعری عوامل و محرکات ہیں۔ ان کے اندرون میں تلخی و شیرینی ، سکون و انتشار کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی شخصیت معمولی ہو تو ختم ہو جائے لیکن بقول خلیل الرحمٰن اعظمی:      " فراق کی انفرادیت کا اثر ہے یہ کہ اس نے شہر کو امرت بنا دیا۔ فراق نےکشمکش و تضاد پر قابو پا کر  اسے ایک مثبت عمل کی صورت دے دی ہے ۔ فراق کی شخصیت جسے تخلیقی شخصیت کہوں گا خود بہ خود نہیں بن گئی ہے بلکہ فراق نے خود اسے دریافت کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ سکتے ہیں کہ اس دوسرے فراق کو خود اس نے اپنے اندر سے پیدا کیا ہے ۔ اس عمل کے دوران اس کو داخلی قوتوں نے دوسری  بہت سی خارجی قوتوں سے امتزاج حاصل کیا ہے۔ "     تبھی تو فراق نے کہا تھا " میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق " اور کچھ شعر یوں ہے :  رکی رکی سی، شب مرگ، ختم پر آئی وہ پو پھٹی، وہ نئی زندگی، نظر آئی  کسی کی بزم میں طرب حیات بٹتی ہے امیدواروں میں، کل موت بھی، نظر آئی  فسردہ پاکے

مرزا داغ دہلوی کے حالات زندگی


نواب مرزا داغ دہلوی


مرزا داغ دہلوی کا تعارف

Daag dehlvi biography in urdu 

گذشتہ اکائی میں ہم نے اردو کے عظیم شاعر شیخ محمد ابراہیم ذوق کی حیات اور شاعری کے بارے میں تفصیل سے واقف کرایا۔ دو اشعار کا مطلب اور ذوق کی حیات اور شاعری کے بارے میں خلاصہ بھی دیا گیا۔ یہ اکائی اردو کے ایک ممتاز شاعر داغ دہلوی کے بارے میں ہے۔ اس اکائی میں ہم نے داغ کی حیات کے بارے میں بتائیں گے۔ ان کی غزل گوئی کا جائزہ لیا جائے گا۔ آپ داغ کی چار غزلوں کا مطالعہ کریں گے۔ بہ طور نمونہ دو اشعار کی تشریح پیش کی جائے گی ۔ اور اس اقتباس کا خلاصہ بھی پیش کریں گے۔

ابراہیم ذوق کے حالات زندگی

داغ کے حالات زندگی

    مغل سلطنت کا آفتاب غروب ہوا چاہتا تھا۔ یہ عظیم الشان سلطنت اپنی زندگی کی آخری گھڑیاں گن رہی تھی۔ سلطنت کا خاتمہ نوشتۂ دیوار تھا۔ بنیادیں کمزور ہوچکی تھی۔ بادشاہ سلامت کا اقتدار سمٹ چکا تھا۔ رعیت جذباتی طور پر لال قلعہ اور دہلی کی حکومت سے تعلق خاطر رکھتی تھی۔ ورنہ سب جانتے تھے کہ کل کیا ہوگا۔ ایسے دگر گوں حالات میں دہلی میں 25 مئی 1831ء کو والی فیروز پور جھروکہ نواب شمس الدین خاں سے چھوٹی بیگم کے ایک لڑکا پیدا ہوا جو آگے چل کر جہاں استاد ، ناظم یار جنگ ، دبیر الدولہ ، بلبل ہندوستان نواب فصیح الملک مرزا خاں داغ دہلوی کہلایا۔ داغ کا نام یوں تو ابراہیم رکھا گیا تھا لیکن جب بڑے ہوئے انھوں نے اپنا نام بدل کر نواب مرزا خاں رکھ لیا۔ دہلی کے ریذیڈنٹ ولیم فریزر اور نواب شمش الدین خاں میں کسی نہ کسی وجہ سے شدید اختلافات پیدا ہوگئے۔ نواب صاحب نے اپنے ملازم کریم خاں کے ذریعے فریزر کا قتل کرا دیا۔ بات ظاہر ہوگئی۔ نواب صاحب پر مقدمہ چلا اور 13 اکتوبر 1835ء کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔ اس وقت داغ کی عمر چار سال اور چار مہینے تھی۔ شمس الدین خاں نے چھوٹی بیگم سے چونکہ با ضابطہ شادی نہیں کی تھی اس لیے وہ ورثے کے لیے دعویٰ بھی نہ کرسکیں ۔ نواب صاحب کے انتقال پر چھوٹی بیگم اچانک بے سہارا ہوگئیں ۔ وہ حسن و جمال کا پیکر تھیں ہی، شمس الدین خاں کے انتقال کے بعد ان کے سوتیلے بھائی نواب ضیاءالدین احمد خاں بہادر، نیر درخشاں کی نظرِ انتخاب چھوٹی بیگم پر پڑی ۔ وہ نواب صاحب کے گھر آ گئیں ۔ چند برس ان کے یہیں گز رے۔ پھر چھوٹی بیگم آغا تراب علی نامی ایک شخص کے ساتھ رہنے لگیں ۔ آغا تراب علی سے آ غا مرزا شاغل پیدا ہوئے۔ چھوٹی بیگم کے حسن کے چرچے قلعۂ معلی تک پہنچے ۔ مرزا محمد سلطان فتح الملک بہادر، ولی عہد شاہ دہلی بہادر شاہ ظفر المعروف بہ مرزا فخرو، ان کے دام الفت میں گرفتار ہوۓ اور 1844ء میں چھوٹی بیگم سے باضابطہ نکاح کرلیا۔ داغ کی عمر اس وقت کوئی 14 برس ہوگی ۔ یوں داغ قلعے میں داخل ہوئے اور پہلی جنگ آزادی 1857 ء سے کچھ پہلے تک قلعے ہی میں رہے ۔ داغ کی تربیت میں اور ان کے ادبی مزاج کی تہذیب میں قلعہ معلیٰ کا بڑاحصہ رہا ہے ۔ داغ نے قلعے ہی میں اپنے زمانے کے مروجہ علوم میں دستگاہ حاصل کی ۔ غلام حسین شکیبا کے صاحبزادے مولوی سید احمد حسین سے فارسی اور درسی کتابیں پڑھیں، اپنے دور کے ممتاز خوش نویس سید امیر پنجہ کش دہلوی اور ان کے شاگرد سید امیر سے خوش نویسی میں مہارت حاصل کی اور اس کے ساتھ مرزا عبیداللہ بیگ سے بانک، مرزا سنگی بیگ سے پھیکتی اور سجن خاں اور بندو خاں سے گھڑ سواری سیکھی ۔ مرزا فخرو داغ کو کچھ اتنا عزیز رکھتے تھے کہ تیر اندازی ، چورنگ اور بندوق لگانا خود انھوں نے سکھایا اور داغ بہ تدریج ان فنون میں طاق ہوگئے ۔ داغ کی عمر 25 سال کی تھی کہ 10 جولائی 1856ء کو مرزا فخرو ہیضے کا شکار ہوگئے اور اچانک ان کا انتقال ہوگیا ۔ گویا داغ اور ان کی والدہ ، دونوں کی دنیا لٹ گئی، دونوں قلعہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ چھوٹی بیگم کا اگست 1879 میں غالباََ رامپور میں 

انتقال ہوا 

مرزا غالب کے حالات زندگی

میر تقی میر کے حالات زندگی  

حیدر علی آتش کے حالات زندگی

   اپنی خالہ عمدہ بیگم کی صاحبزادی فاطمہ بیگم کے ساتھ داغ کی شادی اس وقت ہوئی جب داغ کی عمر 15 سال تھی ۔ عمدہ بیگم کا تعلق چونکہ صرف رامپور کے نواب یوسف علی خاں ناظم سے رہا اس لیے فاطمہ بیگم نواب یوسف علی خاں کی صاحبزادی تھیں ۔ نواب رامپور یوسف علی خاں سے اپنی خالہ کے رشتے سے داغ ابتداء سے واقف تھے ۔ اس تعلق سے وہ پہلی جنگ آزادی 1857ء کی ناکامی کے بعد اپنی خالہ، اپنی ماں چھوٹی بیگم اور سو تیلے بھائیوں کے ساتھ اکتوبر یا نومبر 1857ء میں دہلی سے رامپور پہنچے۔ یہاں یوسف علی خاں نے داغ کو اپنے مہمان کی طرح رکھا ۔ ان کی بڑی آؤ بھگت کی ۔ رام پور میں داغ کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام انھوں نے احمد مرزا رکھا لیکن بچپن ہی میں اس کا انتقال ہوگیا ۔ داغ کو اس کا بڑا افسوس رہا ۔ بعض کے خیال میں احمد مرزا ان کے رشتے کے بھائی کا لڑکا تھا ۔ یوسف علی خاں کی زندگی میں داغ رامپور میں ملازم نہ ہوسکے ۔ 21 اپریل 1865ء کو نواب صاحب کے انتقال کے بعد نواب کلب علی خاں مسند نشین ہوئے۔ داغ خاص طور پر اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کے باعث نواب کلب علی خاں کا دل جیت چکے تھے ۔ چنانچہ نواب نواب صاحب نے 17 اپریل 1866ء کو داغ کو زمرۂ مصاحبین میں شامل کیا ، تھوڑی بہت انتظامی ذمہ داریاں بھی سپرد کی اور ستر روپے ماہوار تنخواہ مقرر کی ۔ یہی زمانہ ہے جب داغ منی بائی عشق میں گرفتار ہوئے ۔ 

داغ کی حیدرآباد کو ہجرت

مارچ 1881ء میں بے نظیر کا مشہور میلہ ہوا۔ اس میں کلکتے کی ایک طوائف منی بائی سے داغ کا سامنا ہوا اور داغ دل وجان سے اس پر فدا ہوگئے اور اپنی وفات سے دو تین سال قبل تک بھی داغ کے منی بائی سے مراسم رہے لیکن ان مراسم میں شیرنی کم اور تلخی زیادہ تھی ۔ 22 مارچ 1887ء کو نواب کلب علی خاں کا انتقال ہوگیا۔ نواب مشتاق علی خاں تخت نشین ہوئے ۔ لیکن انھیں نہ تو شعر و ادب سے دلچسپی تھی ا قیام زیادہ تر ان کے شاگردوں کے پاس رہا لیکن مالی آسودگی فراہم نہ ہوسکی۔

تبصرے

Popular Posts

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

مجاز مرسل

          مجاز کی تیسری قسم مجاز مرسل ہے ۔ اسکی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنوں کے علاوہ کسی اور معنوں میں استمعال کیا جائے ۔لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ صنائع لفظی   صنائع معنوی مجاز مرسل کی چند قسمیں یہ ہیں: کل کہہ کر جز مراد لیں: مستی سے ہو رہا ہے جو اس کا دہن کبود یاں سنگ کو دکاں سے ہے سارا بدن کبود ناسخ جز کہہ کر کل مراد لیں: جس جا ہجومِ بلبل و گل سے جگہ نہ تھی واں ہائے ایک نہیں ایک پر نہیں سلطان خان سلطان اس شعر میں گل کہنے کے بجائے " برگ"  اور بلبل کہنے کے بجائے "پر" کہا گیا ہے۔ مسبب کہہ کر سبب مراد لیں: ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش ہر ایک دشت چمن، ہر چمن بہشت نظیر ذوق ساغر  شراب کی بجائے ساغر عیش کہا گیا ہے ۔ عیش مسبب ہے جس کا سبب  شراب  ہے۔ تشبیہ اور انکی قسمیں مجاز مرسل کی دوسری قسم استعارہ مجاز کی چوتھی قسم کنایہ ہے  سبب کہہ کر مسبب مراد لیں: جوانی اور پیری ایک رات ایک دن کا وقفہ ہے خمار و نشہ میں دونوں کو کھویا ہائے کیا سمجھے  امیر مینائی خمار و نشہ سبب ہے غفلت کا، غفلت کہنے کی بجائے اس کے سبب کا ذک

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام