نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ذوق کا قصیدہ

  ذوق کا قصیدہ Zouq ka qasida  ساون میں دیا پھر مہہ شوال ، دکھائی  برسات میں عید آئی ، قدح کش خوار کی بن آئی کرتا ہے ہلال ابروئے ، پُر خم سے اشارہ  ساقی کو کہ گھر بادے سے ، کشتی طلائی ہے عکس فگن جام بلوریں سے ، مئے سرخ  کس رنگ سے ہوں ، ہاتھ نہ مے کش کے حنائی  کوندے ہے جو بجلی تو یہ سوجھے ہے نشے  ساقی نے ہے ، آتش سے ، مئے تیز اڑائی  یہ جوش ہے باراں کا کہ افلاک کے نیچے  ہووے نہ ممیز کره ناری و مائی  پہنچا ، کمک لشکر باراں سے ہے۔ل ، یہ روز  ہر نالے کی ہے دشت میں دریا ، پہ چڑھائی ہو قلزم عماں پہ لب جو متبسم تالاب سمندر کو کرے چشم نمائی  ہے کثرت باراں سے ہوئی عام یہ سردی  کافور کی تاثیر گئی جو زمیں پائی  سردیِ حنا پہنچے ہے ، عاشق کے جگر تک  معشوق کا گر ہاتھ میں ، ہے دست حنائی  عالم یہ ہوا ہوا کا ہے کہ تاثیر ہوا سے  گردوں پہ ہے ، خورشید کا بھی ، دیدہ ہوائی کیا صرف ہوا ہے ، طرب و عیش سے ، عالم  ہے مدرسے میں بھی ، سبق صرف ہوائی خالی نہیں مئے سے روشِ دانۂ انگور  زاہد کا بھی ہر دانۂ تسبیح ریائی کرتی ہے صبا آکے کبھی مشک فشانی کرتی ہے نسیم آکے کبھی ، لخلخہ سائی  تھا سوزئی خار کا صحرا میں جہاں فرش

داغ دہلوی کی حیدرآباد دکن ہجرت

داغ دہلوی کی حیدر آباد دکن ہجرت

 


داغ دہلوی اور حیدرآباد ہجرت

     حیدر آباد میں داغ کے شاگرد اور چاہنے والے مولوی سیف الحق ادیب اور نثار علی شہرت موجود تھے۔ یہ دونوں چاہتے تھے کہ داغ حیدر آباد آئیں۔ جب داغ کا رام پور سے سلسلہ ٹوٹ گیا ان دونوں کی یہ خواہش اور شدید ہوگئی ۔ داغ بھی فرماں روائے دکن نواب میر محبوب علی خاں کی شعر و ادب سے دلچسپی ، علم پروری اور شاعروں اور ادیبوں کی فیاضانہ سرپرستی قصے سن چکے تھے۔ خود ان کے کئی شاگرد حیدرآباد میں موجود تھے ۔ اور ادب دوست حیدر آباد میں داغ کے کلام کی دھوم تھی و نیز دہلی اور لکھنؤ کے اجڑنے اور رامپور کے مایوس کن حالات کے باعث شاعروں اور ادیبوں کے لئے اس کے سوا کوئی صورت نہ تھی کہ دکن کا رخ کریں۔ چنانچہ نثار علی شہرت اور سیف الحق کے مہمان کی حیثیت سے سدی عنبر بازار کے قریب قیام کیا ۔ داغ، نظام حیدر آباد ، آصفِ سادس کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے قصیدہ بھی لکھ لائے تھے۔ حیدر آباد میں چونکہ داغ کے نام اور کام سے بہت بڑا حلقہ واقف تھا اور یہاں ان کی شاعری کے کئی پرستار تھے، انہوں نے جلد ہی یہاں اپنا مقام بنا لیا اور ہر خاص و عام میں مقبول ہوگئے لیکن نہ جانے کیوں وہ یہاں دربار میں رسائی نہیں پا سکے ۔ انھوں نے جتنی بھی ممکن تھی تگ و دو کی ، ماحول کو ہموار کرنے کے جتن کیے ۔ وہ جہاں دیدہ تھے اور درباروں کے شب و روز اور ان کے آداب سے واقف، لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ یہاں بات نہیں بن رہی ہے اور دربار ابھی دور ہے تو 12 جولائی 1889ء کو حیدرآباد سے روانہ ہوئے اور بنگلور اور بمبئی ہوتے ہوئے اپنے شاگردوں سے ملتے ملاتے دہلی پہنچے ۔ داغ کہنے کو تو حیدر آباد سے واپس ہوگئے تھے لیکن ان کی نظریں حیدرآباد پر لگی ہوئی تھی ۔ اسی سلسلے میں راجہ گردھاری پر شاد باقی کی وساطت کام آئی۔ حاجی محمد ابراہیم خانسامانِ شاہی کو بھی دربار میں رسوخ حاصل تھا ۔ ان دونوں نے سابق مایوسی کی روشنی میں کچھ اور انداز سے داغ کو یہاں کے حلقوں، امرا، روسا اور دربار میں روشناس کرایا اور داغ کے لئے فضا کو سازگار بنایا ۔ ان کوششوں کا اچھا اثر ہوا ۔ نواب میر محبوب علی خان آصف سادس نہ صرف داغ سے متعارف ہوئے بلکہ ان کے مداح بن گئے ۔ اپنے پرستاروں کے ایماء پر داغ نے 29 مارچ 1890 کو حیدرآباد کا ارادہ کیا اور 3 یا 4 اپریل 1890 کو واردِ حیدرآباد ہوئے ۔ حالانکہ پہلے کے مقابلے میں میں حیدرآباد میں داغ کی شہرت زیادہ ہوچکی تھی لیکن وہ نہیں ہو پایا جو داغ چاہتے تھے ۔ اس مرتبہ داغ پہلے محبوب گنج میں کمان کے قریب ایک مکان میں رہنے لگے اور پھر ترپ بازار میں انہوں نے سکونت اختیار کی ۔ آخر 6 فروری 1891ء کو نواب میر محبوب علی خاں آصف سادس نے داغ کو بہ غرض اصلاح اپنی غزل بھیجی اور دوسرے دن صبح دربار میں حاضری کا حکم دیا ۔ داغ کی تقدیر چمک اٹھی ۔ داغ نے غزل کی فوراً اصلاح کی اور اسی وقت واپس کردیا دوسرے دن حاضر دربار ہوئے اور آداب کے مطابق نذر پیش کی ۔ چار سو پچاس (450) روپے ماہوار وظیفہ مقرر ہوگیا جس کا اطلاق داغ کے پہلے پہل حیدرآباد آنے کی تاریخ سے ہوا اور دو، تین س کے بعد اس وظیفے میں ساڑھے پانچ سو کا اضافہ ہوا ۔ داغ نے اس کی تاریخ اس طرح کہی :

داغ دہلوی کے حالات زندگی

ہوگیا میرا اضافہ آج دونے سے سوا

یہ کرم اللہ کا ہے یہ عنایت شاہ کی

اس اضافے کی کہو اے داغ تاریخ تم

ابتدا سے اپنی ساڑھے پانچ سو تنخواہ بڑھی 


     اس طرح و ظیفے کی جملہ رقم ایک ہزار روپے قرار پائی اور یہ بھی پہلی مرتبہ ورود حیدرآباد کی تاریخ سے اس طرح انھیں چالیس (40 ) ہزار سے بڑھ کر رقم وصول ہوئی لیکن کہتے ہی انھوں نے یہ کہہ کر رقم نہیں لی کہ ان کے پاس اتنی رقم رکھنے کے لیے جگہ نہیں ہے یہ شاہی خزانے ہی میں محفوظ رہے۔ اب داغ کے اعزازات میں اضافہ ہوتا گیا۔ انھیں کئی خطابات سے نوازا گیا منصب چہار ہزاری، سہ ہزار سوار و علم اور نقارے سے بھی سرفراز کیا گیا۔ نواب میر محبوب علی خان نے جاگیر میں ایک گاؤں بھی عطا کیا اور ایک باغ بھی ۔غرض حیدرآباد میں نواب میر محبوب علی خاں آصف سادس نے داغ کی نہایت قدر و منزلت کی ۔ دربار میں مخصوص امرا اور اعلی ترین عہدیداروں کے ساتھ داغ کی نشست ہوئی ۔ یہ اعزاز استاد شاہ ہونے کی وجہ سے حاصل ہوا ۔ کہا جاتا ہے کہ داغ نے اپنی آن بان برقرار رکھی ۔ وہ طلبی کے بغیر بھی در بانہیں گئے ۔


      داغ نے نومبر یا دسمبر 1890 میں اپنی بیوی کو حیدرآباد بلالیا تھا۔ وہ حیدرآباد میں داغ کے ساتھ سات سال اور چند ماہ رہی ہوں گی کہ 1898ء میں ان کا انتقال ہو گیا ۔ داغ کی اہلیہ کی تدفین حیدرآباد میں احاطہ درگاہ یوسفین میں عمل میں آئی ۔ جنوری 1903 میں ایڈورڈ ہشتم کی تاج پوشی کی مسرت میں دہلی میں دربار منعقد ہوا۔ حضور نظام نے بھی شرکت کی ۔اس وقت جو چند عمائدین سلطنت نظام کے ساتھ تھے ان میں داغ بھی تھے۔ اس سے داغ کی اہمیت اور ان کی مرتبت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ داغ کونظام حیدرآباد کا غیر معمولی تقرب حاصل تھا وہ سیر و تفریح اور شکار وغیرہ میں نظام حیدرآباد کے ہمراہ ہوتے ۔1899ء میں آ صف جاہ سادس نے کلکتے کا سفر کیا تو داغ بھی ساتھ تھے ۔ 

     داغ کی حجاب سے وابستگی ایک مدت تک برقرار رہی ۔ داغ نے منی ہائی حجاب کی خاطر مدارات پر کافی خرچ کیا لیکن حباب سے بنتی نہیں تھی۔ جنوری 1963ء میں حجاب حیدرآباد آئی لیکن دیڑھ سال سے زیادہ مدت نہیں گزری کہ داغ سے اختلافات کے باعث کلکتہ واپس ہوئی ۔ داغ 17 سال حیدرآباد میں رہے ہوں گے اور نہایت کروفر، شان و شکوہ اور جاہ و جلال کے ساتھ جو بہت کم شاعروں کومیسر رہا ہوگا لیکن وہ ہمیشہ کرائے کے مکان میں رہے اور چاہے تو یہ کوئی بڑی بات نہ تھی ۔ کہتے ہیں انھیں توقع تھی کہ نواب میر محبوب علی خان انھیں کسی مکان سے بھی نوازیں گے لیکن حضور نظام نے اس طرف غالباً توجہ نہیں دی ۔ آخری ایام میں داغ کی صحت خراب رہنے گی تھی جسم کے بائیں جانب فالج کا محلہ ہوا تھا۔ 

داغ دہلوی کی وفات

ایک ہفتے تک موت اور زیست کی کشمکش میں مبتلا رہے آخرش عیدالاضحیٰ سے ایک روزقبل 9 ذی الحجہ 1323 ھ مطابق 14 فروری 1905 کو داغ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ آصف سادس کواپنے استاد کی رحلت کا نہایت غم رہا۔ انھوں نے داغ کی تجہیز و تکفین کے لیے تین ہزار روپے ادا کیے اور عید الاضحی کی صبح داغ کی نماز جنازہ مکہ مسجد حیدرآباد میں ادا کی گئی اور احاطہ درگاہ یوسفین میں اپنی بیوی کے پہلو میں ان کی تدفین عمل میں آئی ۔ شمع خاموش ہوگئی بلبل ہندوستان ہمیشہ کے لیے سوگیا۔ ان کے ہم عصروں اور شاگردوں نے داغ کی وفات کی تاریخیں لکھیں لیکن ان میں ’’نواب مرزا داغ ‘‘ جس میں ان کے نام اور تخلص ہی سے تاریخ نکالی گئی ہے اہم ہے ۔

تبصرے

Popular Posts

ولی دکنی کی غزل گوئی

  ولی دکنی کی غزل گوئی      کلیات ولی میں تقریبا تمام اصناف سخن پر مشتمل کلام ملتا ہے لیکن جس صنف نے انھیں شہرت عام و بقائے دوام بخشی وہ غزل ہے۔ کلیات میں غزل ہی کا حصہ زیادہ بھی ہے اور وقیع بھی۔ ادب میں مختلف اصناف، مخصوص تہذ یبی، سماجی اور ذہنی اثرات کے تحت قبولیت اور شہرت حاصل کرتی ہیں۔ غزل بھی خاص تہذیبی حالات میں پیدا ہوئی لیکن اس صنف نے وقت کی تبدیلی کے ساتھ خود کو بھی بدل لیا شاید اس نے سب سے زیادہ سیاسی، سماجی، تہذیبی اور انقلابات دیکھے۔ جہاں جیسی ضرورت ہوئی ویسی شکل اس نے اپنائی۔ داخلیت کا اظہار ہوا تو دل سے نکلی اور دل میں اتر گئی، خارجیت کا چلن ہوا تو سارے بندھن توڑ ڈالے۔ سماجی اور تہذیبی تبدیلی کے ساتھ وقت کے تقاضوں کو پورا کر نے کے لیے غزل اپنے دامن کو وسیع کرتی گئی مختلف مضامین اس میں جگہ پاتے گئے، فلسفیانہ مضامین کو بھی جگہ ملی، صوفیانہ خیالات بھی آۓ، آلام روزگار اور فکر معاش بھی، زندگی کا شکوہ بھی اور شادمانی کا ذکر بھی ۔موضوعات کی اس رنگا رنگی اور طرز ادا کے اس نشیب و فراز کے باوجود غزل کا موضوع بنیادی طور پر عشق و محبت ہی رہا۔ ولی کی غزلوں میں ہمیں مندرجہ بالا تمام

صنائع لفظی

  صنائع لفظی  غزل کے فن میں صنعت نگاری کی خاص اہمیت ہے ۔ صنائع کے استمعال سے شعر میں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے شعر میں جہاں معنوی دلکشی پیدا ہوتی ہے وہیں اس کی نغمگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ صنائع کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ صنائع لفظی صنائع معنوی یوں لفظ و معنی کو قطعہ طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن معنی سے کچھ دیر کے لئے صرف نظر کرکے لفظ کو حروف کا مجموعہ تصور کرتے ہوئے شعر میں اس کے اندراج کے جدا گانہ انداز پر نظر ڈالی جاسکتی ہے اور صوتی خوبیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔بعض لفظی صنعتیں معنوں سے بھی مربوطہ ہوتی ہیں۔ جیسے تجنیس تام۔ صنائع معنوی کا تعلق معنوی خوبیوں سے ہوتا ہے لیکن صنائع معنوی لفظوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں ۔ ذیل میں چند معروف اور اہم صنعتوں کی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جائے گی ۔ صنائع لفظی 1 صنعت تجنیس تام شعر میں دو ایسے لفظ لائے جائے جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو جیسے سب کہیں گے اگر لاکھ برائی ہوگی پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی دل سوز 2 صنعت تجنیس محرف شعر میں ایسے لفظوں کا استمعال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو یہ بھ

میر تقی میر کی شاعری کا اسلوب

میر تقی میر کی شاعری کا اسلوب میرتقی میر غزل کے مسلم الثبوت استاد ہیں   شعراء نے میر کے دیوان کی تعریف یہ کہہ کر کی ہے کہ ان کا دیوان " گلشن کشمیر " سے کم نہیں ہے۔ اسی طرح تذکرہ نویسوں نے بھی ان کی قادر الکلامی کا اعتراف کیا : قائم چاند پوری : فروغ محفل سخن پردازاں، جامع آیات سخن دانی گردیزی : سخن سنج بے نظیر  میر حسن : شاعر دل پذیر  مصحفی : در فن شعر ریختہ مرد صاحب کمال شیفتہ : سخن ورِ عالی مقام