Ad

جدید مثنوی نگاری اور محمد حسین آزاد


 جدید مثنوی نگاری اور محمد حسین آزاد 

جدید مثنوی نگاری اور محمد حسین آزاد


محمد حسین آزاد

Mohammad husain aazad

محمد حسین آزاد انجمن پنجاب کے روح رواں تھے۔ انجمن کے مشاعروں کے زریعے اردو نظم نگاری کی روایت کو فروغ دینے میں ان کا اہم حصہ ہے۔ ان کے شعری مجموعے '' نظم آزاد" میں کئی مثنویاں شامل ہیں۔ ان کی طویل مثنویوں کے نام یہ ہیں :

1 شب قدر ، 2 صبح امید ، 3 حب الوطن ، 4 خواب امن 5 داد انصاف ، 6 وداع انصاف ، 7 گنج قناعت ، 8 ابر کرم ، 9 موسم زمستاں ، 10 مصدر تہذیب ، 11 سلام علیک


     ان میں سے بیشتر مثنویاں انہوں نے انجمن پنجاب کے مشاعروں میں سنائیں۔ موضوعات کے اعتبار سے آزاد کی مثنویوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ حب وطن، امن، انصاف، امید اور قناعت جیسے موضوعات پر طبع آزمائی کرنا اردو میں بالکل نئی بات تھی۔ اس طرح مناظر فطرت پر قدیم شعرا کے کلام میں خاصی تعداد میں اشعار موجود ہیں۔ لیکن ان میں منظر نگاری کم ، زور بیان اور مبالغہ آرائی زیادہ ہوتی ہے۔ ان کے ہاں تخیلی منظر اصل منظر پر غالب آ جاتا ہے ۔ محمد حسین آزاد اور حالی نے مناظر کے فطری اور اصلی مرقعے پیش کیے۔ 


آزاد کی مثنویوں میں مثنوی شب قدر سب سے زیادہ مشہور ہے۔ یہ 115 اشعار پر مشتمل ہے۔ اس میں انہوں نے رات کے مختلف پیشوں سے وابستہ افراد کی مصروفیات کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے شراب اور موسیقی میں غرق امرا ، لین دین کا میزان جوڑنے والے مہاجن ، اہل جہاز ، طالب علم ، ماں اور اس کے بیمار بچے ، چور وغیرہ کے مشاغل شب کا حال بیان کیا ہے۔ انہوں نے اپنے مشاہدات کو تصنع اور مبالغے کے بغیر فطری انداز میں پیش کیا ہے۔ اس مثنوی سے بہ طور نمونہ شاعر کا احوال درج کیا ہے :


اس تیرہ شب میں شاعر روشن دماغ ہے

بیٹھا اندھیرے گھر میں جلائے چراغ ہے

ڈوبا ہے اپنے سر کو گریباں میں ڈال کے

اڑتا پھرے ہے کھولے ہوئے پر خیال کے

لا تا فلک سے ہے کبھی تارے اتار کر

جاتا زمین کی تہہ میں ہے پھر غوطہ مار کر

پڑھتا ہے ذرہ ذرہ پہ افسوں نئے نئے

ہو جاتے ہیں وہی در مضمون نئے نئے

مضمون تازہ گر کوئی اس آن مل گیا

یوں خوش ہے جیسے نقش سلیمان مل گیا


آزاد کی مثنویوں میں ابر کرم، موسم زمستاں، منظریہ مثنویاں ہیں۔ صبح امید اور خواب امن تمثیلی انداز کی مثنویاں ہیں ۔ " حب وطن " مقصدی مثنوی ہے۔ آزاد کی مثنویوں کے موضوعات میں وسعت اور تنوع کا احساس ہوتا ہے۔ انہوں نے ارود شاعری کو نئی روایتوں اور نئی اقدار سے رو شناس کرایا۔ ان کی مثنویوں میں لفاظی،بالغہ آرائی اور صنائع و بدائع کی بہتات نہیں ہے۔ یہ سادہ عام فہم اور پر اثر ہیں۔ ان مثنویوں میں فطرت نگاری معاشرتی اصلاح ، اخلاق کی درستگی اور قومی فلاح و بہبود پر زور دیا گیا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے