Ad

حالی کی رباعیات تشریح و خلاصہ

 

رباعیات حالی تشریح و خلاصہ

رباعیات حالی

حالی کی رباعیات

Rubaiyaat e hali

ہستی سے ہے تری رنگ و بو سب کے لیے

طاعت میں ہے تیری آبرو سب کے لیے

ہیں تیرے سوا سارے سہارے کم زور

سب اپنے لیے ہیں اور تو سب کے لیے


جیسا نظر آتا ہوں نہ ایسا ہوں میں

اور جیسا سمجھتا ہوں نہ ویسا ہوں میں

اپنے سے بھی عیب ہوں چھپاتا ، اپنے

بس مجھ کو ہی معلوم ہے جیسا ہوں میں


دنیائے دنی کو نقشِ فانی سمجھو

روداد جہاں کو اک کہانی سمجھو

پر جب کرو آغاز کوئی کام نیا

ہر سانس کو عمر جاودانی سمجھو


ایک رباعی کی تشریح

Rubai ki tashreeh

دنیائے دنی کو نقشِ فانی سمجھو

روداد جہاں کو اک کہانی سمجھو

پر جب کرو آغاز کوئی کام نیا

ہر سانس کو عمر جاودانی سمجھو


حالی کہتے ہیں کہ اس رذیل اور سفلہ دنیا کو ایسا نقش سمجھو جو جلد مٹ جانے والا ہے ۔ یہ نہ سمجھو کہ وہ ہمیشہ باقی رہے گی۔ دنیا میں جو کچھ گزرچکا ہے اور گزر رہا ہے۔ اس کی حقیقیت کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ محض ایک کہانی ہے ، لیکن اس خیال کو دل میں لاکر بے عمل ہوجانا مناسب نہیں۔ جب کوئی نیا کام شروع کرو تو ایک عزم کے ساتھ اس تکمیل تک پہنچاؤ اور یوں سمجھو کہ تمھاری ہر سانس ایک عمر جاودانی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔


خلاصہ

اس اکائی میں ہم نے الطاف حسین حالی کے حالات زندگی کا مطالعہ کیا ۔ ان کی ابتدائی تعلیم ، تلاش روزگار میں دہلی اور لاہور کے سفر ، مصطفیٰ خاں شیفتہ، غالب اور سر سید سے ان کے روابط ، لاہور کے نظمیہ مشاعروں میں شرکت اور دیگر تفصیلات بیان کیں۔ حالی کی شاعری اور خاص طور پر ان کی رباعی گوئی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ حالی کی تین رباعیاں آپ کے مطالعے کے لیے پیش کی گئیں اور نمونتاً ایک رباعی کی تشریح کی گئی ہے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے