Ad

الطاف حسین حالی کی رباعی گوئی


حالی کی رباعی گوئی


حالی کی رباعی گوئی

Hali ki rubai goyi

حالی شاعر کی حیثیت سے اردو ادب میں خاص امتیاز رکھتے ہیں ۔ ان کا رنگ سخن سب سے الگ اور منفرد ہے انھوں نے اپنی شاعری کا آغاز غزل گوئی سے کیا اور اچھی غزلیں کہیں ۔ ان کی غزلوں میں سادگی بھی ہے حسن اور شیرینی بھی ۔ انھوں نے غالب اور شیفتہ کے اثر سے جذبات و احساسات کو عمدہ پیرائے میں ڈھالنے کافن سیکھ لیا تھا تاہم ان کے ذوق سخن نے انھیں خوب سے خوب تر کی تلاش میں سرگرداں رکھا ۔ وہ بڑے زہین حساس اور با شعور فن کار تھے ۔ ان کی دو رس نگاہوں نے اپنے عہد کے تقاضوں کو جلد ہی بھانپ لیا ۔ انھوں نے شاعری میں اسلاف کی پیروی سے گریز کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ

سخن میں پیروی کی گر سلف کی
انھیں باتوں کو دہرانا پڑے گا

اگر چہ انھوں نے مشرقی ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں ۔ اسی ماحول میں تعلیم اور پرورش پائی ۔ انھیں مشرقی اقدار اور طرز حیات سے لگاؤ تھا لیکن 1857ء کے ہلاکت خیز ہنگامے اور اس کے مابعد اثرات نے انھیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ انھوں نے بدلے ہوئے حالات کا ساتھ دیا نئی قدروں کا خیر مقدم کیا۔ نئے حالات سے مفاہمت پیدا کی انھوں نے نئے طرز کی نظمیں کہہ کر جدید شاعری کے لیے راہیں ہموار کیں ۔ شاعری کو دلفریبی کا سامان نہیں بلکہ قومی تعمیر کا حصہ بنانے کی سعی کی۔ عشقیہ شاعری کی جگہ قومی اور اصلاحی شاعری نے لے لی ۔ سرسید کے زیر اثر ان کی افتاد طبع جذبۂ اصلاح سے سرشار ہوتی گئی اور ان کی شاعری پر مقصدیت کا غلبہ ہوتا گیا۔
حالی نے مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کی انھوں نے غزلیں بھی کہیں، مثنویاں بھی، قصیدے بھی کہے، مرثیے بھی لکھے، نظمیں بھی کہیں، قطعات اور رباعیات بھی، مسدس بھی۔ ہر ایک صنف میں ان کی انفرادی شان موجود ہے۔ انہوں نے رباعیات پر خصوصی توجہ دی ۔ انہیں اس بات کا احساس تھا کہ شاعر کے جذبات و خیالات کے اظہار کا کوئی آلہ غزل یا رباعی یا قطعہ سے بہتر ہو نہیں سکتا ۔ اور " بعض خیالات جو دو مصرعوں میں بالکل یا زیادہ خوبی کے ساتھ ادا نہیں ہوتے ۔ " ( مقدمہ شعر و شاعری )

رباعی کے موضوعات

حالی نے مختلف اور متعدد موضوعات پر رباعیات کہیں ۔ ان میں عصری زندگی کی جھلکیاں بھی ہیں۔ سماجی حالات کا عکس بھی ۔ ان میں قوم کے اقبال کا ماتم بھی ہے اور قوم کو محو نالہ جرس کارواں رہنے کے بجائے یاران تیز گام سے قدم ملا کر نئی منزلوں کی طرف گام زن ہونے کی تلقین بھی ۔ حالی نے مسلمانوں کو ان کی زبوں حالی کا احساس دلایا اور ان کو تعلیم کی اہمیت سے روشناس کرایا ہے مخالفوں کی پروا کیے بغیر اپنے کاموں میں مصروف رہنے کا درس بھی دیا ہے ۔ ان میں اخلاقی بلندی اور سماجی شعور پیدا کر نے کی کوشش کی ہے ۔ قوم کو اس کی موجودہ پستی اور نکبت پر غیرت دلائی ہے۔ حالی نے مسدس لکھنے کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ جو آج کل قوم کی حالت ہے اس کا صحیح صحیح نقشہ کھینچا گیا ہے نظم کی ترتیب مزے لینے اور اردو سننے کے لیے نہیں کی گئی بلکہ عزیزوں اور دوستوں کو غیرت اور شرم دلانے کے لیے کی گئی ہے ۔ یہی بات ان کے رباعیات کے لیے بھی کہی جاسکتی ہے ۔ حالی کا بنیادی مقصد اصلاح تھا ۔ ان رباعیات میں اصلاحی رنگ غالب ہے۔

حالی کی رباعیات کا زیادہ تر حصہ مذہب و اخلاق کے متعلق ہے ۔ جو مذہبی رباعیات ملتی ہیں ان میں کسی طرح کی تنگ نظری نہیں بلکہ مذہبی رواداری ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے کیوں نہ ہوں خدا کی ذات کو تسلیم کرتے ہیں، وحدانیت کے قائل ہیں ۔ کوئی صنم میں خدا کا جلوہ دیکھتا ہے تو کوئی آگ پر اسی کا نغمہ گا تا ہے، حتی کہ دہری بھی جو خدا کے وجود سے انکار کرتا ہے وہ بھی تخلیق کائنات کا سبب نیچر کو ٹھہراتا ہے ۔ حالی کی رباعی دیکھیے :

ہندو نے صنم میں جلوہ پایا تیرا
آتش نے مغاں پہ راگ گایا تیرا

شہری نے کیا دہر سے تعبیر تجھے
انکار کسی سے نہ بن آیا تیرا

ایک اور رباعی میں کہتے ہیں :

کانٹہ ہے ہر ایک، جگر میں اٹکا تیرا
حلقہ ہے ہر ایک، گوش میں لٹکا تیرا
مانا نہیں جس نے جانا ہے ضرور
بھٹکے ہوئے دل میں بھی کھٹکا تیرا

حالی نے تنگ نظر زیادہ پر بھی سخت چوٹ کی ہے کیونکہ ان میں پختگی ایمان کی کمی ہے۔ وہ ظاہر میں کچھ ہے اور باطن میں کچھ ۔ ان کے ظاہر و باطن میں بڑا تفاوت ہے۔

زاہد کہتا تھا جان ہے دیں پر قربان
پر آیا جب امتحان کی زد پر ایماں
کی عرض کسی نے کہیے کیا ہے صلاح
فرمایا کہ بھائی جان، جی ہے تو جہاں

انہوں نے ایک رباعی میں واعظ کے درشتی کلام پر کاری ضرب لگائی ہے، کیوں کہ واعظ کہ وعظ میں شامی ہو تو اس کا بہت برا اثر سننے والوں پر پڑتا ہے۔ واعظ کو چاہیے کہ وہ شیریں کلام ہو اور سخت کلامی سے پرہیز کرے لہذا حالی واعظ کو درشتی کلام سے باز آنے کی تلقین کرتے ہوئے کہتے ہیں :
اک گبر نے پوچھے جو اصولِ اسلام
واعظ نے درشتی سے کیا اس سے کلام
بولا کہ حضور مقتدا ہوں جس کے
ایسی ملت اور ایسے مذہب کو سلام

حالی نے ایک نعتیہ رباعی میں اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے لوگوں کو توحید سے روشناس کرایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی بدولت لوگ توحید سے واقف ہوئے۔

زیاد کو تو نے محوِ تمجید کیا
عشاق کو مستِ لذت دید کیا
طاقت میں نہ رہا حق کے ساجھی کوئی
توحید کو تو نے آ کے توحید کیا

حالی چاہتے تھے کہ قوم کے افراد نکبت و افلاس کا رونا رونے کے عوض دوسروں کی برائیاں کرنے کی بجائے خود اپنا محاسبہ کریں۔ حالی ، سماجی خرابیوں سے بھی اچھی طرح واقف تھے اور انسانی کمزوریوں سے بھی۔ وہ افراد کو اچھی صفات سے مملو دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ معاشرتی خرابیوں کو دور کرنا چاہتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ عیش و آرام ، قوم کو مائل بہ تنزل کردے گا۔ حالی کو احساس تھا کہ قوم ، خود ستائی ، خود پسندی ، بے جا تفخر ، غیبت ، نکتہ چینی جیسی بری عادتوں کا شکار ہوچکی ہے۔ یہی باتیں قوم کو پستی کی طرف لے جارہی ہے۔ وہ افراد کی اصلاح چاہتے تھے کیونکہ جب تک افراد کی اصلاح نہیں ہوگی معاشرے کی اصلاح ممکن نہیں۔ انہوں نے بار بار افراد کو برائیوں سے ، عیبوں سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ چند رباعیاں دیکھیے جن میں حالی نے بڑی سادگی اور خوش اسلوبی سے ان کمزوریوں کا ذکر کیا ہے جو قوم کے حق میں مضر ہیں :

حالی کی رباعی

عشرت کا ثمر تلخ پیدا ہوتا ہے
ہر قہقہہ پیغام بکا ہوتا ہے
جس قوم کو عیش دوست پاتا ہوں
کہتا ہوں، کہ اب دیکھیے، کیا ہوتا ہے

چھوڑو کہی جلد، مال و دولت کا خیال
مہماں کوئی دن کے ہیں دولت ہو کہ مال
سرمایہ کرو وہ جمع جس کو نہ کبھی
اندیشہ فوت ہو ، نہ ہو خوفِ زوال

نیکوں کو نہ ٹھہرائیو بد اے فرزند
ایک آدھ، ادا ان کی اگر، ہو نہ پسند
کچھ نقص انار کی لطافت میں نہیں
ہو اس میں اگر ، گلے سڑے دانے چند

ممکن نہیں، یہ کہ ہو، بشر عیب سے دور
پر عیب سے بچیے تا بہ مقدور ضرور
عیب اپنے گھٹاؤ پر خبر دار رہو
گھٹنے سے کہیں ان کے نہ بڑھ جائے غرور

حالی نے افراد کو بیدار کرنے کی کوشش کی ، ان کی غیرت کو للکارا ، انہیں آگے بڑھنے کا جوش ولولہ عطا کیا علم کی اہمیت و افادیت پر زور دیا حالی جانتے تھے کہ قوم علم کی دولت سے مالا مال ہوکر ہی اپنے حال کو بہتر بنا سکتی ہے اور روز افزوں ترقی کر سکتی ہے ۔ علم کی ترقی ہی قوم کی اصل پونجی ہے ۔

اے علم کیا ہے تو ے ملکوں کو نہال
غائب غائب ہوا تو جہاں سے واں آیا زوال
ان پر ہوئے غیب کے خزانے مفتوح
جن قوموں نے ٹھہرایا تجھے راس المال

حالی نے چند رباعیوں میں بعض احباب کی موت کا ماتم بھی کیا ہے۔ ان میں ان کا فطری غم موجود ہے ۔

غالب ہے نہ شیفتہ نہ نیّر باقی
وحشت ہے نا سالک ہے نہ انور باقی
حالی اب اسی کو بزم یاراں سمجھو
یاروں کے ، جو کچھ داغ ہیں ، دل پر باقی

حالی کی رباعیوں کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے بڑی خوش اسلوبی سے اپنے خیالات کا اظہار اپنی رباعیات میں کیا ہے۔ ان کے موضوعات میں بڑی وسعت ہے۔ سادگی اور سلاست کے ساتھ ساتھ ان میں تاثیر بھی ہے ۔ انھوں نے رباعیات کے ذریعے سماجی ، سیاسی اور اخلاقی اصلاح کا کام بڑی عمدگی سے انجام دیا ہے۔ صالحہ عابد حسین یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ :

" انیس کی رباعیوں کے بعد اردو شاعری میں حالی کی رباعیاں سب سے بلند درجہ کی کہی جاسکتی ہے۔ " ( یادگار حالی۔ صفحہ 202 )

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے