Ad

محسن کاکوروی کی نعتیہ قصیدہ نگاری

 

محسن کاکوروی کی نعتیہ قصیدہ نگاری


محسن کاکوروی نعتیہ کی قصیدہ نگاری

محسن کاکوروی کی نعتیہ شاعری کا آغاز ایک خواب کے ذریعے ہوا اس وقت ان کی عمر تقریباً 9 برس کی تھی ۔ وہ خواب جس میں انھوں نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا۔ اس کے بعد انہوں نے نعت گوئی کا سلسلہ شروع کیا بعد میں انہوں نے روایتی انداز میں بھی شاعری کی۔ ان کا روایتی کلام ان کی شاعری اور شخصیت کی پہچان نہیں بن سکا اور ان کے فن کا اصل نکھار ان کی نعتوں میں اجاگر ہوا ہے ۔ 

     محسن کاکوروی نے جتنی نعتیں لکھی انھیں ان کے بیٹے محمد نورالحسن نے ایک کلیات کی شکل میں جمع کر کے 1915 میں الناظر پریس لکھنؤ سے چھپوا دیا۔ اس کلیات میں جو نعتیہ کلام شامل ہے اس کی تفصیل یہ ہے :

محسن کاکوروی کے نعتیہ قصائد

گلدستۂ کلام رحمت (1842 ء/1255ھ ) :

 محسن کاکوروی نے یہ نعتیہ قصیدہ سولہ سال کی عمر میں لکھا تھا ۔ یہ 51 اشعار پر مشتمل ہے ۔ اس کی ابتدا اس طرح ہوئی ہے:


پھر بہار آئی کہ ، ہونے لگے صحرا گلشن

غنچہ ہے نام خدا نافۂ آہوئے چمن


سراپائے رسول اکرم (1849ء/126ھ ) : 

یہ مسدس کی شکل میں 74 بندوں پر مشتمل ہے اس میں رسول خدا کا سراپا دل کش انداز میں بیان کیا گیا ہے۔


ابیات نعت (1857ء/1274ھ ) : 

یہ نعتیہ قصیدہ 101 اشعار پر محیط ہے اس کا مطلع ہے:


مٹانا لوح دل سے ، نقش ناموس اب وجد کا 

دبستانِ محبت میں ، سبق تھا مجھ کو ابجد کا


صبح تجلی (1289/1872ھ ) :

186 اشعار کی اس مثنوی میں محسن نے نبی اکرم کی ولادت کا حال قلم بند کیا ہے۔ 


قصیدہ مدیح خیر المرسلین (1876ء/ 1293ھ) :

یہ مشہور نعتیہ قصیدہ 143 اشعار پر مشتمل ہے اور اس مطلع سے شروع ہوتا ہے۔

سمتِ کاشی چلا جانب متھرا بادل

برق کے کاندھے پہ ، لاتی ہے صبا ، گنگا جل


چراغ کعبہ (1883 /1301ھ) :

یہ مثنوی 468 اشعار پر مشتمل ہے اس میں شبِ معراج کے حالات تفصیل سے قلم بند کیے گئے ہیں۔


شفاعت و نجات (1311/1893ھ) :

یہ مثنوی 495 اشعار پر مشتمل ہے اس میں قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے۔ حشر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا ذکر اس مثنوی میں تفصیل سے کیا گیا ہے۔


رباعیات :

کل 28 رباعیاں ہیں جن میں مختلف انداز سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف بیان کی گئی ہے۔


     ان کے علاوہ دیگر اصناف میں بھی کچھ نعتیہ کلام ملتا ہے۔ محسن کے نعتیہ کلام کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں نعت گوئی کی غیر معمولی قابلیت موجود تھی۔ نعت گوئی محض الفاظ کی سحر طرازی ، تراکیب کی ندرت ، خوش گفتاری ، علمیت اور قدرت کلام سے نہیں پیدا ہوتی بلکہ اپنے ممدوح کی محبت میں سرشاری ، وابستگی اور غیر متزلزل عقیدت و مودت سے پیدا ہوتی ہے محسن کاکوروی کو رسول اکرم کی ذات مقدس سے جو محبت تھی اس نے ان کی نعتوں میں ایک الگ سی کیفیت پیدا ہوگئی ۔


     محسن کی نعت میں فکری عناصر کی جو فراوانی ہے وہ اردو کے کسی اور شاعر کے نعتیہ کلام میں ملنی دشوار ہے ۔

محسن کا کوروی کا نعتیہ کلام لکھنوی طرز فکر کا آئینہ دار ہے۔ صنائع و بدائع ، تشبیہات و استعارات ، مضمون آ فرینی اور رعایت لفظی پر زیادہ توجہ صرف کی گئی ہے۔ تشبیب ، گریز میں اس کا اثر زیادہ پایا جاتا ہے۔

     محسن کا کوروی کا قصیدہ " مدیح الخیر المرسلین " نعتیہ قصیدہ ہے۔ نعت گوئی کی تاریخ اس نعتیہ قصیدے کی نشان دہی کے بغیر نہیں لکھی جاسکتی ۔ اس قصیدے میں محسن نے اس کی ہئیت تو مروجہ رکھی لیکن تشبیب میں گرد و پیش کے مانوس ماحول سے اخذ کے ہوئے ایسے مضامین باند ھے جو پہلے نعت گوئی میں جگہ نہیں پاسکے تھے قصیدہ گوئی اور نعت گوئی کے لوازم و آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے محسن کاکوروی نے اپنی نعت کو نئے انداز میں پیش کیا ہے ۔ قصیدے کی تشبیب میں شاعر کو مکمل آزادی ہوتی ہے کہ وہ عشقیہ بہاریہ یا کسی دوسرے موضوع سے متعلق مضامین باندھے اور اپنے قصیدے کو دلچسپ بنا کر اپنے قاری کی توجہ کو گریز کی منزل طے کرواتے ہوئے اصل مدح کی طرف مرکوز کر سکے۔ قصیدہ مدیح خیر المرسلین کے اشعار کی مجموعی تعداد 143 ہے۔ 

     اس قصیدے کی تشبیب اگر چہ طویل ہے لیکن کہیں بھی زور بیان مجروح ہوتا نظر نہیں آ تا ۔ اس کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ خالص ہندوستانی فضا پورے قصیدے پر چھائی ہوئی ہے ۔ اس قصیدے کے بارے میں ابواللیث صدیقی لکھتے ہیں" ایسی نرالی تشبیب آ پ کو اردو ک کسی شاعر کے ہاں نہیں ملے گی ۔ ذوق و سودا قصیدے کے بادشاہ ہیں لیکن ان کی کسی تشیب میں ایسی جدت اور زور نہیں " ( لکھنو کا دبستان شاعری۔ صفحہ 509

 )

محسن کاکوروی کے نعت کی تشریح

تشبیب میں شامل ان مضامین و موضوعات کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن موسم برسات کی مستی و بے خودی میں کفر و ایمان اور شرک سے توحید کی جانب محسن کی پرواز فکر نے ان دو جداگانہ مضامین کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے۔ انھوں نے تشبیب کے بعد گریز کی سمت جس احتیاط اور ہوش مندی سے رجوع کیا ہے ، وہ ان کی شاعرانہ مہارت اورفن کاری کا بہترین ثبوت فراہم کرتا ہے 

گل خوش رنگ رسول مدنی عربی

زیب دامان ابد طرۂ دستارِ ازل


     مدح میں بھی محسن کا قلم شاعرانہ بلند پروازہعں سے کام لیتا نظر آتا ہے لیکن کہیں بھی شریعت کے مقررہ حدود سے باہر بات نہیں بیان کی ہے۔ نہایت ہی محتاط انداز میں خاتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے محاسن و کمالات کا بیان کیا ہے۔ مثال کے طور پر چند شعر درج ہیں :


نہ کوئی اس کا مشابہہ ہے نہ ہم سر نہ نظیر

نہ کوئی اس کا مماثل نہ مقابل نہ بدل


اوج رفعت کا قمر ، نخل دو عالم کا ثمر

بحر وحدت کا گہر ، چشمہ کثرت کا کنول


مہر توحید کی ضو ، اوج شرف کا مہہ نو

شمع ایجاد کی لو ، بزم رسالت کا کنول


مرجع روحِ امیں ، زیب دہِ عرش بریں

حامی دینِ متیں ، ناسخ ادیان و ملل


مدح کے بعد دعا ہے جس میں شاعر نے اپنی دلی تمناؤں خواہشوں کا اظہار کیا ہے اور خدا سے شفاعت و مغفرت کی دعا مانگتے ہوئے یہ دعا کی ہے:


سب سے اعلی تری سرکار ہے سب سے افضل

میرے ایمان مفصل کا یہی ہے مجمل


ہے تمنا کہ رہے نعت سے تیری خالی

نہ مرا شعر ، نہ قطعہ ، نہ قصیده نہ غزل


آرزو ہے کہ رہے دھیان ترا تا دم مرگ

شکل تیری نظر آئے مجھے جب آئے اجل


رخ انور کا ترے دھیان رہے بعد فنا

میرے ہمراہ چلے راہ عدم یہ مشعل


صف محشر میں ترے ساتھ ہو تیرا مداح

ہاتھ میں ہو یہی مستانہ قصیدہ یہ غزل


     ان اشعار میں صداقت و جذبے کی جو آ نچ ہے و محسن کے خلوص اور ان کے عاشق رسول ہونے کا ثبوت پیش کرتی ہے۔ 

     فکری اور فنی لحاظ سے یہ قصیدہ انتہائی جاندار اور پرزور ہے ۔ الفالا کی متانت ، استعارے کی جدت ، تشبیہات کی لطافت ، بندش کی چستی ، خیالات کی نزاکت و بلندی پائی جاتی ہے ۔ بہاؤ اور روانی اس قصید ے کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ محسن کاکوروی نے جن تشبیہوں اوراستعاروں کو برتا ہے ان سے اشعار میں زور لطافت اور دل نشی پیدا ہوگئی ہے ۔ 


     کہتے ہیں کہ چاند بادل میں اس طرح ڈوب کر ابھرتا ہے جیسے بحر اخضر کے تلاطم میں کوئی کشتی پھنسی ہو :


کبھی ڈوبی ، کبھی اچھلی مہہ نو کی کشتی 

بحر اخضر میں تلاطم سے پڑی ہے ہل چل 


     اندھیری رات اس طرح نظر آ رہی ہے جیسے لیلی محمل میں اپنے منھ پر آنچل اوڑھے بیٹھی ہو۔

شب دیجور اندھیرے میں ہے ظلمت کے نہاں 

لیلی محمل میں ہے ڈالے ہوئے سر پر آنچل


     جب بجلی چمکتی ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا آ سمان بادل زیب تن کیے ہوئے ہے اور زمین پر مخمل بچھا ہوا ہے ۔


لہریں لیتا ہے جو بجلی کے مقابل سبزہ 

چرخ پر بادلا پھیلا ہے زمیں پر مخمل


     باغ میں پھولوں کے اطراف جگنو ایسے دکھائی دے رہے ہیں جیسے کسی نے مقدس کتاب کے چاروں طرف سونے کی لکیر کھینچ دی ہو :


جگنو پھرتے ہیں جو گلبن میں تو آتی ہے نظر 

مصحف گل کے حواشی پہ سنہری جدول

محسن کاکوروی کی نعتیہ قصائد میں صنعتوں کا استعمال

     صنعت تجنیسِ زائد ، ترصیع ، تضاد ، ایہام ، مراعات النظیر مبالغہ اور تلمیح کا استمعال ہنر مندی کے ساتھ اس قصیدے میں ملتا ہے ۔ اس سے کلام میں حسن پیدا کیا گیا ہے ۔ ذیل میں ایسے اشعار پیش کیے جارہے ہیں جن میں یہ صنعتیں مہارت اور فن کاری کے ساتھ استمعال کی گئی ہیں :

تجنیس زائد :

شاہد کفر ہے مکھڑے سے اٹھائے گھونگھٹ 

چشم کافر میں لگائے ہوئے کافر کاجل


     کفر اور کافر میں تجنیس زائد ہے یعنی شعر میں ایسے دو الفاظ کا استعمال ہے جن میں ایک لفظ سے دوسرے لفظ میں ایک حرف زائد ہو۔ 

     صنعت ترصیع میں دونوں مصرعوں کے الفاظ باہم ہم وزن ہوتے ہیں جیسے :

اوج رفعت کا قمر ، نخل دو عالم کا ثمر

بحر وحدت کا گہر ، چشمۂ کثرت کا کنول


صنعت تضاد یعنی کلام میں ایسے دو لفظ استمعال کرنا جن کے معنی میں ضد ہو :


شب کو مہتاب نظر آئے نہ دن کو خورشید

ہے یہ اندھیر مچائے ہوئے تاثیر زحل


      صنعت ایہام میں ایسے لفظ شعر میں استمعال کیے جاتے ہیں جن کے دو معنی نکلتے ہو ایک قریبی دوسرے بعید اور یہ دونوں معنی شعر کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں جب کہ شاعری کی مراد بعید معنی ہوتے ہیں : مثلاً

سطح افلاک نظر آتی ہے گنگا جمنی

روپ بجلی کا سنہرا ہے رو پہلا ہے بادل

     روپ کے دو معنی ہے ایک معنی ظاہر شکل کے ہیں اور دوسرے رنگ کے معنوں میں


      صنعت مراعات النظیر میں شعر میں کئی ایسی چیزوں کا بیان ہوتا ہے جن میں مناسبت ہو جیسے :

مہر توحید کی ضو ، اوجِ شرف کا مہہ نو

شمع ایجاد کی لو ، بزم رسالت کا کنول


     مہر کو ضو سے ، اوج کو شرف سے اور شمع کو لو سے مناسبت ہے اس لیے ان کا استعمال صنعت مراعات النظیر کہلاتا ہے۔ 

     صنعت مبالغہ میں کسی چیز کی تعریف و توصیف میں غلو کیا جاتا ہے محسن کا کوروی کے اس قصیدے میں مبالغہ آرائی جگہ جگہ نظر آتی ہے ۔ یہاں اس کی چند مثالیں درج کی جارہی ہیں :

شب دیجور اندھیرے میں ہے ظلمت کے نہاں 

لیلی محمل میں ہے ڈالے ہوئے ، منھ پر آنچل


جو گیا بھیس کیے چرخ لگائے ہے بھبھوت

یا کہ بیراگی ہے پربت پہ ، بچھائے کمل 


وہ دھواں دھار گھٹا ہے کہ نظر آئے نہ شمع 

گر چہ پروانہ بھی ڈھونڈے اسے لے کر مشعل


آتش گل کا دھواں بام فلک تک پہنچا 

جم گیا منزل خورشید کی چھت پر کاجل


، ابر بھی چل نہیں سکتا ، وہ اندھیرا گھپ ہے 

برق سے رعد یہ کہتا ہے کہ ، لانا مشعل


     صنعت تلمیح میں کسی مشہور واقعے یا قصے کی طرف اشارہ ملتا ہے ۔ قصیدے سے اس کی مثال پیش ہے :

خضر فرماتے ہیں ! سنبل سے تری عمر دراز 

پھول سے کہتے ہیں کھلتا رہے گلزارِ امل 

      حضرت خضر علیہ السلام نے طویل عمر پائی ہے اور یہ مانا جاتا ہے کہ وہ قیامت تک زندہ رہیں گے ۔ شاعران کے توسط سے سنبل کو درازی عمر کی دعا دے رہے ہیں ۔ پھر لکھتے ہیں :

دور پہنچی لب جاں بخشِ نبی کی شہرت

سن ذرا کہتے ہیں کیا حضرت عیسی بادل


منظر نگاری

      مختصر اہم اتنا کہہ سکتے ہیں کہ محسن کاکوروی نے موسم برسات کی منظر کشی کرتے ہوئے ۔ اس موسم کی تمام کیفیات کو خوب صورتی سے پیش کیا ہے ۔ ایک ایک مصرعے میں اس کی تصویر کھینچ کر رکھ دی ہے ۔ الفاظ و تراکیب پر انھیں اتنا عبور نظر آتا ہے کہ وہ ان الفاظ کو جس طرح چاہتے ہیں استعمال کرتے چلے جاتے ہیں گویا ان پر انھیں حکمرانی کا اختیار حاصل ہو۔ اس قصیدے میں انھوں نے متعدد نئے نئے الفاظ اور ترکیبیں استعمال کی ہیں ۔ یورش ابر سیاہ ، چشم خورشید جہاں بیں ، آتش گل ، شبہہ گل نسرین و سمن ، شجر آہ رسا ، خندہ ہائے گل قالیں ، خواب ، محمل ، جام عمر فلک پیر ، ان ترکیبوں سے قصیدے میں دل کشی اور تازگی پیدا ہوگئی ہے۔ ان تمام خوبیوں نے مل کر محسن کے اس قصیدے کو ایمانی قوت بخشی ہے جس کی وجہ سے وہ ادب میں شاہکار کا درجہ حاصل کر گیا ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے